Jadid Khabar

ڈھائی دن کا وزیراعلیٰ

Thumb

پورے ہندوستان کو فتح کرنے کا وزیراعظم نریندرمودی کا جنون اب جمہوریت کے وجود پر بھاری پڑنے لگا ہے۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد کشمیر سے کنیا کماری تک بی جے پی کے اقتدار کا پرچم لہراتا ہوا دیکھنا ہے۔ وزیراعظم کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ اقتدار کی اس اندھی دوڑ میں ان کے پاؤں کے نیچے کیا آرہا ہے۔ سیکولرزم اور سیکولرقدروں کو تو وہ پہلے ہی ٹھکانے لگاچکے ہیں اور اب باری ہے جمہوریت کی۔ جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک میں اقتدار حاصل کرنے کے لئے انہوں نے پارٹی صدر امت شاہ کی مدد سے جو بساط بچھائی تھی، اس میں انہیں کامیابی نہیں ملی ہے۔ پارٹی کرناٹک میں اکثریت حاصل کرنے سے محروم رہی۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ وہ ایوان میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ لیکن اس کے پاس حکومت سازی کے لئے مطلوبہ تعداد نہ ہونے کے باوجود انہوں نے گورنر کی مدد سے جو کھیل کھیلا اس نے وزیراعظم اور ان کی پارٹی کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ایوان میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود انہوں نے یدی یورپا کو وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف دلادیا۔ حالانکہ جنتادل سیکولر اور کانگریس نے مشترکہ طورپر پہلے ہی حکومت سازی کا دعویٰ پیش کردیا تھا کیونکہ ان دونوں کے پاس اکثریت ثابت کرنے کے لئے عددی طاقت موجود تھی۔ کرناٹک کے سنگھی گورنر کی جانب داری کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ یدی یورپا نے اکثریت ثابت کرنے کے لئے ایک ہفتے کی مہلت مانگی تھی لیکن گورنر نے ایک قدم آگے بڑھ کرانہیں 15دن کا وقت دے دیا تاکہ وہ ممبران اسمبلی کی خریدوفروخت کا بازار گرم کرسکیں۔ جنتادل سیکولر کے لیڈر کماراسوامی نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے ان کے ممبران اسمبلی کوتوڑنے کے لئے 100کروڑروپے فی کس اور کابینی وزیر کا عہدہ دینے کی پیشکش کی تھی۔ یدی یورپا کی غیر آئینی حلف برداری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیاگیا اور عدالت نے 15دن کی مہلت کو گھٹا کر 2دن کردیا۔ لیکن اس سے قبل کہ ایوان میں طاقت آزمائی ہوتی، ڈھائی دن کے وزیراعلیٰ یدی یورپا نے مستعفی ہونے کا اعلان کرکے اپنی شکست قبول کرلی۔ انہوں نے ایک جذباتی تقریر کے دوران اس بات کا اعتراف کیاکہ انہیں وزیراعظم نریندرمودی نے وزیراعلیٰ بنایا تھا اور یہ پہلا موقع تھا کہ کسی وزیراعلیٰ کا انتخاب وزیراعظم نے کیا ہو۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کرناٹک میں ڈھائی دن تک جو غیر دستوری اور غیر آئینی کھیل کھیلا گیا اسے وزیراعظم نریندرمودی کا آشیرواد حاصل تھا۔

  یوں تووزیراعظم نے کرناٹک کے انتخابی میدان میں اپنے مخالفین کو چاروں خانے چت کرنے کے لئے تمام حربے اختیار کئے تھے لیکن کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ وہ اپنی ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کے لئے جمہوریت اور آئین کو ہی داؤ پر لگادیں گے۔ ہم یہاں کرناٹک انتخابات کے دوران وزیراعظم اور ان کی پوری ٹیم کی طرف سے چلائی گئی غیر اخلاقی انتخابی مہم کا تذکرہ نہیں کرنا چاہیں گے چونکہ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن لیڈروں کو وزیراعظم کی شکایت لے کر صدرجمہوریہ کے دروازے تک جانا پڑا اور انہوں نے وزیراعظم کے لب ولہجے کو دھمکی آمیز قرار دیتے ہوئے اپنے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ 
بی جے پی نے کرناٹک میں اپنے گورنر کے کاندھے پر بندوق رکھ کر جو غیر جمہوری اور غیر دستوری کھیل کھیلا ہے، اس کی چوطرفہ مذمت ہورہی ہے۔ نہ صرف اپوزیشن جماعتیں بلکہ خود مودی سرکار کے خیرخواہ بھی اسے سراسر غلط بتارہے ہیں۔ مودی سرکار کے لئے خیرخواہی کا جذبہ رکھنے والے سینئر صحافی ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک نے اس صورت حال پر دلچسپ تبصرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’گورنر واجو بھائی والا نے یدو رپا کو وزیراعلیٰ کا حلف دلاکر کانگریس اور جنتادل ایس کے اتحاد کی حکومت سازی کی اپیل رد کردی۔ 116سیٹوں والے اتحاد کو فرش پر بٹھادیا اور 104سیٹوں والی بی جے پی کو سنگھاسن پر لٹادیا۔‘‘ انہوں نے آگے لکھا ہے کہ’’ 36فیصد ووٹ پانے والی بی جے پی کے دعوے کو گورنر نے تسلیم کرلیا اور 52فیصد ووٹ پانے والے اتحاد کی عرضی کو انہوں نے کوڑے دان میں پھینک دیا۔‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ’’ کیا یہ کارنامہ جمہوریت کو مضبوط بنائے گا؟گورنر سے بی جے پی نے ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کے لئے 7دن مانگے تھے لیکن انہوں نے 15دن دیئے۔‘‘ 
 آر ایس ایس کے وفادار گورنر واجو بھائی والا نے جس بنیاد پر یدورپا کو حکومت سازی کی دعوت دی تھی وہ اتنی کمزور تھی کہ ملک کی کئی ریاستوں میں اپوزیشن پارٹیوں نے اسی بنیاد پر حکومت سازی کا دعویٰ پیش کردیا۔ گزشتہ ایک سال کے عرصہ میں بھارتیہ جنتاپارٹی نے منی پور، میگھالیہ، میزورم اور گوا میں جن بنیادوں پر اپنی سرکاریں بنائی تھیں ، کرناٹک میں اسی کی جڑیں کھوددی گئیں۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے کرناٹک کے گورنر واجو بھائی والا کے فیصلے کو جمہوریت کی شکست قرار دیتے ہوئے کہاکہ واضح اکثریت نہ ہونے کے باوجود حکومت سازی کی بی جے پی لیڈروں کی ضد نے آئین کا مذاق اڑایا ہے۔ 
 قابل ذکر بات یہ ہے کہ کانگریس نے اس مرتبہ کاہلی اور سستی کا مظاہرہ نہیں کیا اور اپنا وقت غیر ضروری میٹنگوں میں ضائع کرنے کی بجائے فوری طورپر جنتادل سیکولر کو غیرمشروط حمایت دینے کا اعلان کردیا۔ اصولی اور دستوری طورپر گورنر کو اسی اتحاد کو حکومت سازی کی دعوت دینی چاہئے تھی کیونکہ ان کے پاس اکثریت ثابت کرنے کے لئے ممبران اسمبلی کی معقول تعداد موجود تھی۔ لیکن گورنر نے دستوری موقف سے انحراف کرتے ہوئے یدی یورپا کو حکومت سازی کی دعوت دے ڈالی اور انہیں اگلی صبح حلف بھی دلادیا۔ حالانکہ کانگریس نے آدھی رات کے بعد سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا کر یدی یورپا کی حلف برداری کو روکنے کی کوشش کی لیکن سپریم کورٹ نے ایسا کرنے سے انکار کردیا ۔ تاہم اگلے روز اس نے اکثریت ثابت کرنے کی مدت 15دن سے گھٹاکر 3دن کردی۔ ظاہر ہے بی جے پی کے پاس اکثریت نہیں تھی لہٰذا اس کے لئے اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنا ممکن نہیں تھا اور اس طرح یدی یورپا ڈھائی دن وزیراعلیٰ رہ کر رخصت ہوگئے۔ 
ادھر اپوزیشن نے نہلے پر دہلہ چلتے ہوئے ان تمام ریاستوں میں حکمراں جماعت کو گھیرنے کی کوشش کی جہاں پچھلے دنوں سب سے بڑی پارٹی کو حکومت سازی سے محروم رکھ کر انتخابی نتائج کے بعد بننے والے اتحادوں کو حکومت سازی کی دعوت دی گئی تھی۔ سب بڑی پارٹی کو حکومت سازی کا موقع دینے کے فارمولے پر چارصوبوں میں نئی ہلچل شروع ہوگئی ہے۔ کانگریس اور راشٹریہ جنتادل نے بہار، منی پور، میگھالیہ اور گوا میں سب سے بڑی پارٹی کا دعویٰ کرتے ہوئے گورنر سے حکومت سازی کا موقع دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جو صورت حال آج کرناٹک میں پیدا ہوئی ہے ،وہی مذکورہ ریاستوں میں پیدا ہوئی تھی لیکن بی جے پی نے سب سے بڑی پارٹی کا اصول پس پشت ڈال کر جوڑ توڑ کی بنیاد پر اقتدار ہتھیالیا۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جمہوریت میں آخر دستور اور آئین کی بھی کوئی اہمیت ہے یا سب کچھ اپنی سہولت اور مرضی کے مطابق ہورہا ہے۔ 
اپوزیشن جماعتوں نے کرناٹک کی صورت حال کے پیش نظر جو موقف اختیار کیا ہے، وہ بہت مضبوط اور مدلل ہے۔حکمراں طبقہ کے جمہوریت اور دستور مخالف اقدامات نے تمام اپوزیشن پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کردیا ہے اور وہ سب جمہوریت کو بچانے کے لئے کمربستہ ہیں۔ یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر حکمراں بی جے پی اور وزیراعظم نریندرمودی نے اسی طرح جمہوریت اور آئین کا مذاق بنانے کی روش قائم رکھی تو پھر ملک میں جمہوریت کا کیاہوگا۔ وزیراعظم نریندرمودی جس طرح اپوزیشن کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کررہے ہیں اور پورے ملک میں شخصی اقتدار کی بساط بچھا رہے ہیں، وہ جمہوریت کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ جمہوریت کا حسن رنگا رنگی اور اختلاف رائے میں پوشیدہ ہے۔ اپوزیشن کا کام حکومت کے غلط اقدامات کی گرفت کرنا اور جمہوری قدروں کو فروغ دینا ہے تاکہ ایک مضبوط اور صحت مند معاشرہ تشکیل پاسکے۔ اس کے بغیر جمہوریت اور جمہوری قدروں کا کوئی تصور ہی نہیں کیاجاسکتا۔ فرد واحد کی حکومت جمہوریت کے لئے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی بہت تیزی کے ساتھ اس ملک کو شخصی نظام حکومت کی طرف لے جارہے ہیں۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ایک شخصی نظام میں بدلنے کا المیہ ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ملک میں جمہوریت کو بچانے کے لئے وہ تمام لوگ متحد ہوں جنہیں اس ملک کی سیکولر جمہوری قدروں سے پیار ہے اور جو صحیح معنوں میں اس ملک کے بہی خواہ ہیں۔ 

Ads