Jadid Khabar

منیزہ ہاشمی اور ہندوستان

Thumb

اگر عام حالات ہو تے تو ہم سوال کر سکتے تھے کہ یہ ہندوستان کو کیا ہو گیا ہے؟ لیکن آج عام حالات نہیں ہیں۔آج ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے سے اتنے دور جا چکے ہیں کہ ان حالات کو کو ئی نیا نام ہی دینا پڑے گا۔ اب یہی دیکھیے کہ فیض صاحب کی صاحب زادی منیزہ ہا شمی کو دہلی میں پندرھویں ایشیا میڈیا سمٹ میں شرکت سے روک دیا گیا۔اور یہ حرکت ہندوستانی حکومت کے ایما پر کی گئی۔ حتی کہ انہیں دہلی کے کسی ہو ٹل میں ٹھہرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ کیوں؟ اس کی کو ئی وجہ بھی نہیں بتا ئی گئی۔منیزہ اس ادارے کی دعوت پر دہلی گئی تھیں جو اس سمٹ کا اہتمام کر تا ہے۔اس ادارے کا تعلق ہندوستان کی حکومت سے ہی ہے۔اب کون نہیں جانتا کہ فیض صاحب اور ان کے خاندان نے دونوں ملکوں میں امن وامان کی فضا پیدا کر نے اور دونوں ملکوں کے عوام کو قریب لانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا ہے۔سلیمہ اور منیزہ کے لئے ہندوستان کا دورہ کو ئی نئی اور اچھوتی بات نہیں ہے۔ وہ اکثر وہاں جاتی رہتی ہیں۔وہاں فیض صاحب کے حوالے سے اجتماع بھی ہو تے رہتے ہیں۔ اور میڈیا کے ساتھ منیزہ کا تعلق بھی بہت پرانا ہے۔ وہ پاکستان ٹیلی وڑن میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔ اس کے باوجوداگر منیزہ سے بھی ہندوستان کو خطرہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب دو نوں ملکوں کے در میان امن وامان اور دوستی اور بھا ئی چارے کا زمانہ کہیں دور جا چکا ہے۔منیزہ تو اس واقعے یا حادثے پر زیادہ بات کر نے سے گریز کر رہی ہیں۔اوراس افسوس ناک واقعے کے باوجود بھی وہ چا ہتی ہیں کہ اس کی وجہ سے پاکستان اور ہندوستان میں مزید کشیدگی پیدا نہ ہو۔لیکن اس خطے میں امن و آشتی کی فضا بر قرار رکھنے والے حلقوں کو اس پر ٹھندے دل سے غور کر نا ہی پڑے گا۔ اس سے پہلے کشور ناہید کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو چکا ہے۔ وہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے کام کر نے والی تنظیم ریختہ کی دعوت پر دہلی گئی تھیں۔انہیں مشاعرے میں شر کت کے لیے بلا یا گیا تھا۔لیکن مشاعرہ ہواتو انہیں نظر انداز کر دیا گیا۔ انہیں شعر پڑھنے کی دعوت ہی نہیں دی گئی۔آخر وہ غصے میں پاکستان واپس آ گئیں۔منیزہ بھی مایوس ہو کر وہاں سے واپس آ گئی ہیں۔ 
چلیے،اب ہم اس سوال کی طرف بھی آجا تے ہیں کہ یہ ہندوستان کو کیا ہو گیا ہے؟دراصل ہندوستان کو ہی کچھ نہیں ہوا ،اس کے عوام کو بھی بہت کچھ ہو گیا ہے۔ وہاں کے عوام کے دلوں میں پاکستان اور اس کے باشندوں کے خلاف اتنی نفرت بھر چکی ہے کہ وہ انہیں اپنے سامنے دیکھنا بھی نہیں چا ہتے۔ ریختہ کے منتظمین کو خطرہ یہ تھا کہ اگر پاکستان کے کسی شاعر کو مشاعرے میں پڑھو ایا گیا تو وہاں مو جود لوگ ہنگامہ کر دیں گے۔ اور ان کا پورا جشن بر باد ہو جا ئے گا۔ریختہ کے منتظمین کا یہی مو قف بیان کیا گیا تھا۔ اب نہیں کہا جا سکتا کہ منیزہ کی میڈیا سمٹ میں شر کت سے بھی کچھ ایسا ہی خطرہ محسوس کیا گیاتھایا نہیں۔کیونکہ اگر دیکھا جا ئے تویہاں معاملہ خا صا مختلف دکھائی دیتا ہے۔ اس سمٹ میں شر کت کر نے والے تمام مندوب پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا تعلق دنیا کے مختلف ملکوں سے تھا۔ ان سے یہ توقع کی ہی نہیں جا سکتی تھی کہ وہ پاکستانی نمائندے کی مو جودگی پر ناخوش ہوں گے۔اور وہاں کسی قسم کا ہنگامہ ہو جا ئے گا۔اس سے ثابت ہوا کہ وہاں کی حکومت ہی نہیں چا ہتی تھی کہ پاکستان کی کو ئی نمائندہ شخصیت اس کانفرنس میں شر کت کرے۔منیزہ کے صاحب زادے ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی نے ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج کے نام ایک ٹویٹ بھیجا تو اس کے جواب میں کہہ دیا گیا کہ انہیں تو اس معاملے کی کو ئی خبر ہی ہے۔ گویا یہ عذر گناہ ہے جو گناہ سے بھی بد تر ہو تا ہے۔ لیکن جیسے ہم نے عرض کیا اس معاملے پر ہمیں بھی ٹھنڈے دل سے غور کر نا ہو گا۔ آ خر کیا وجہ ہے کہ ہندوستان کے عوام پاکستان سے اتنی نفرت کر نے لگے ہیں کہ ایک دوسرے کی شکل بھی دیکھنا نہیں چا ہتے۔ ؟ اور دونوں ملکوں کی حکومتیں ایک دوسرے سے اتنے فاصلے پر چلی گئی ہیں کہ آپس میں بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہیں؟۔ان حالات میں اگر میاں نواز شریف بمبئی حملے کے بارے میں کو ئی بات کرتے ہیں تو اس پر ہم ناراض کیوں ہو تے ہیں؟ انہوں نے وہی بات تو کی ہے جو ہمارے ملک کے سنجیدہ حلقے شروع سے ہی کہتے چلے آ رہے ہیں۔
اس حوالے سے ہمارے دوست محمودالحسن نے ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹرطارق کھوسہ کا وہ مضمون نقل کیا ہے جو1915 میں ایک انگریزی اخبار میں چھپا تھا۔ اس مضمون میں اس سے بھی زیادہ انکشافات کئے گئے ہیں جو میاں نواز شریف نے اپنے بیان میں کئے ہیں۔اگر اس وقت طارق کھوسہ کے مضمون پر ناک بھوں نہیں چڑھا ئی گئی تو اب کیوں ایسا کیا جا رہا ہے ؟ٹھیک ہے میاں صا حب کو اس وقت ایسا بیان نہیں دینا چا ہیے تھا۔ کیونکہ اس وقت پاکستان اور ہندوستان کے در میان تلخی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔اور ہمارے مقتدر حلقے ایسی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔ لیکن اس بیان میں غلط با ت یا کوئی نئی بات تو نہیں ہے۔ پھر ہمیں یہ بھی دیکھنا چا ہیے کہ اس مسئلے پر ساری دنیا کیا کہہ رہی ہے۔ دنیا ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ اگر چین کو چھوڑ دیں تو دنیا میں کو ئی بھی ہمارے موقف کے ساتھ نہیں ہے۔دنیا کو قائل کر نے کے لئے بھی ہمیں بہر حال سچ بو لنا ہی پڑے گا۔ اور یہ سچ ہی پاکستان اور ہندوستان کے درمیان بڑھتی ہو ئی نفرت کم کر سکتا ہے۔طارق کھوسہ کامضمون اگر چہ تین سال پرانا ہے مگر ان کا تجزیہ آج بھی اتنا ہی سچا ہے جتنا اس وقت تھا۔ہمیں یقین ہے کہ ہمارے تجزیہ کاروں نے یہ مضمون ضرور پڑھاہو گا۔اگر پڑھا ہے تو ہمیں سچائی کا سامنا کر نے میں کیا چیز مانع ہے ؟ اگر سچائی کا سامنا کرنے سے تلخی کم کر نے میں مدد ملتی ہے تو ہمیںبہادری کے ساتھ ایسا کر نا چا ہیے۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہماری منیزہ ہاشمی اور کشور ناہید کے ساتھ وہی ہو تا رہے گا جو دہلی میں ہوا ہے۔اور ہم یہی رونا روتے رہیں گے کہ ہندوستان کو کیا ہو گیا ہے۔ مان لیا کہ اس معاملے میں ہندوستانی مہمانوں کے ساتھ ہمارا رویہ وہ نہیں ہو تا جو ہندوستان میں پاکستانی مہمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چا ہیے کہ بمبئی اور پٹھانکوٹ جیسے واقعات کہاں ہو ئے ہیں ؟۔ہمیں الزام تراشیوں سے بالا ہو کر اس سوال پر کبھی توغور کر نا ہو گا کہ کیا ہم اس خطے میں اسی طرح کشیدگی برقرارار رکھنا چا ہتے ہیں ؟اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی ہو گا کہ اس کشیدگی سے آ خر نقصان کسے ہو رہا ہے؟نقصان تو ہمیں ہو رہا ہے۔ ہندوستان توہر طرف سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ بہر حال منیزہ ہا شمی کے واقعے سے ہمیں یہ باتیں یاد آ گئی ہیں۔ہماری کوشش ہو تی ہے کہ سیاسی معاملات میں ہم ٹانگ نہ اڑا ئیں۔لیکن بعض حالات ایسے ہو تے ہیں جب ہمیںاپنے دکھ درد کی کہانی سنانا ہی پڑ تی ہے۔ منیزہ ہاشمی کے واقعے نے ہمارے زخم ہرے کردیئے ہیں۔ 
(بشکریہ ’جنگ‘ کراچی)

 

Ads