Jadid Khabar

مقبرے کو مندر میں بدل دیاگیا

Thumb

راجدھانی دہلی میں مرکزی حکومت کی ناک کے نیچے پندرہویں صدی کے ایک تاریخی مقبرے کو باقاعدہ مندر میں تبدیل کیاجاچکا ہے۔ تغلق عہد کا یہ مقبرہ برسوں سے محکمہ آثار قدیمہ کی لاپرواہی کا شکار تھا اور اس کی دیکھ ریکھ یا حفاظت کا کوئی بندوبست نہیں کیاگیا تھا۔ جس کا فائدہ اٹھاکر شرپسندوں نے اس پر قبضہ کرلیا اور یہاں موجود پانچ سوسال پرانی ایک قبر کو مسمار کرکے وہاں باقاعدہ مورتیاں رکھ دی گئیں۔ اب بی جے پی کی سابق میونسپل کونسلررادھیکا ابرول یہ دھمکی دے رہی ہیں کہ’’ ملک کے موجودہ ماحول میں کوئی بھی اس ’مندر ‘کو ہاتھ نہیں لگاسکتا۔‘‘ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کئی قومی اخبارات میں اس تاریخی مقبرے کو مندر میں تبدیل کئے جانے کی خبروں اور تصاویر کی اشاعت کے باوجود ابھی تک نہ تو محکمہ آثار قدیمہ حرکت میں آیا ہے اور نہ ہی پولیس نے اس آخری درجے کی دھاندلی کے خلاف کوئی قدم اٹھایا ہے۔ صوبائی حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کے احکامات ضرور جاری کردیئے ہیں لیکن مقبرے کی بحالی کے لئے کوئی عملی اقدام نہیں کیاگیا ہے۔ پورے ملک میں تاریخی آثاروں اور مسلم عہد کی عمارتوں کے ساتھ کھلواڑ کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، اس سے کوئی بھی عمارت محفوظ نہیں ہے ۔ یہاں تک کہ شرپسندوں نے تاج محل جیسی شہرۂ آفاق عمارت کو بھی نشانے پر لے رکھا ہے اور آئے دن اس کے خلاف شرانگیز بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔ تاج محل کے رکھ رکھاؤ میں لاپروائی برتنے کے سلسلے میں سپریم کورٹ نے محکمہ آثار قدیمہ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ 

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اس ملک پر مسلمانوں نے کم وبیش ایک ہزار سال حکومت کی ہے اور ملک کے چپے چپے پر مسلم عہد کی شاندار عمارتوں کا طویل سلسلہ موجود ہے۔ ان میں سے بیشتر عمارتیں سیاحوں کی توجہ اور دلچسپی کا مرکز ہیں۔ یہاں آنے والے سیاحوں سے ٹکٹ کے نام پر جو رقم وصول کی جاتی ہے وہ سرکاری خزانے میں جمع ہوجاتی ہے۔ حکومت ان عمارتوں سے پیسہ کمانے میں اس حد تک سرگرم ہے کہ اس نے اب تاریخی عمارتوں کو تجارتی کمپنیوں کے ہاتھوں معقول رقم کے عوض ٹھیکے پر دینا شروع کردیا ہے۔ حال ہی میں مرکزی وزارت برائے سیاحت وثقافت نے مغلیہ عہد کے جاہ وجلال کی نشانی لال قلعہ کو 25کروڑ روپے کے عوض ڈالمیا گروپ کے پاس پانچ سال کے لئے گروی رکھ دیا ہے۔ ڈالمیا گروپ اب اس قلعہ کو یوروپی قلعوں کے طرز پر ڈیولپ کرکے سیاحوں کی جیبیں خالی کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ دہلی میں لال قلعہ ، جامع مسجد اور قطب مینار ہی نہیں مسلم دور حکومت کی ایسی سینکڑوں عمارتیں موجود ہیں جن کی ایک تاریخی اور تہذیبی حیثیت ہے۔ حکومت نے ان عمارتوں کی دیکھ بھال اور رکھ رکھاؤ کے لئے باقاعدہ محکمہ آثار قدیمہ قائم کررکھا ہے جس کا مقصد ان تاریخی عمارتوں کو ان کے اپنے عہد کے فن تعمیر کے مطابق برقرار رکھنا اور انہیں تحفظ فراہم کرنا ہے۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ محکمہ انہی عمارتوں کی دیکھ بھال کرتا ہے جن سے اسے معقول آمدنی ہوتی ہے۔ جبکہ نسبتاً غیر معروف تاریخی عمارتوں اور آثاروں کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیاجاتا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کی اسی بے حسی کا نتیجہ ہے کہ دہلی کے صفدر جنگ علاقے میں ہمایوں پور کے ایک تاریخی مقبرے کودن کے اجالے میں باقاعدہ مندر میں تبدیل کردیاگیا ہے۔ یہ واقعہ دومہینے پہلے پیش آیا تھا۔ لیکن اس واقعہ کی خبر لوگوں کو حال ہی میں اس وقت ہوئی جب انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس ‘ نے اس پر تفصیلی رپورٹ شائع کی۔ ہمایوں پور گاؤں میں واقع اس چھوٹے سے مقبرے کو عام طورپر لوگ گمٹی (گنبد) کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ مقبرہ محمد شاہ تغلق کے عہد میں پندرہویں صدی عیسوی میں تعمیر ہوا تھا۔ یہ تو نہیں معلوم ہوسکا کہ یہاں کون مدفون ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس مقبرے میں باقاعدہ قبر موجود تھی جسے اب پوری طرح مسمار کرکے وہاں مورتیاں رکھ دی گئی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ مقبرہ دہلی سرکار کی طرف سے نوٹیفائی کی گئی تاریخی عمارتوں کی فہرست میں شامل ہے اور اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری محکمہ آثار قدیمہ کے ذمے ہے۔ قانون کے مطابق جوعمارتیں محکمہ آثار قدیمہ کے زیر انتظام ہیں ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کرنا یا ان کی ہیئت کو تبدیل کرنا قانونی اعتبار سے جرم ہے اور یہ سٹی زن چارٹر کی بھی خلاف ورزی ہے۔ 
ہم آپ کو یاددلادیں کہ دہلی سرکار نے تاریخی عمارتوں کو ان کی اصل حالت میں برقرار رکھنے اور انہیں قومی ورثہ کے طورپر محفوظ رکھنے کی ایک زوردار مہم شروع کررکھی ہے جس پر سالانہ کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ غیر ممالک سے بھی اس مد میں خطیر رقومات موصول ہوتی ہیں جو عالمی ورثے کو محفوظ رکھنے والے بین الاقوامی ادارے حکومت کو روانہ کرتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ کہ حکومت نے مسلم عہد کی بہت سی عمارتوں کو جان بوجھ کر نظرانداز کردیا ہے جس کی تازہ ترین مثال یہ مقبرہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ مقبرہ کافی عرصے سے خستہ حالت میں تھا۔ دوماہ قبل مقامی لوگوں نے بی جے پی کی سابق کونسلر رادھیکا ابرول کے اشارے پر اسے زعفرانی اور سفید رنگ میں رنگ دیا۔ اس تاریخی عمارت سے کھلواڑ کرنے کے بعد لوگوں نے اس کے دروازے پربھولا مندر بھی لکھ دیا۔ اس شرانگیزی کو جواز فراہم کرنے کے لئے اسے بھولا شیو ٹرسٹ کا مندر بتایا گیا ہے اور مندر کے قیام کی تاریخ 15جون 1971لکھی گئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ 80برس سے یہاں رہ رہے ہیں لیکن یہاں کبھی مندر نہیں تھا۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا حکومت تاریخی آثاروں اور عمارتوں کی دیکھ ریکھ اور حفاظت کے نام پر سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے نکالنے والے محکمہ آثار قدیمہ سے یہ دریافت کرے گی کہ آخر وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے کیوں ادا نہیں کررہا ہے۔ یہ وہی محکمہ ہے جو دہلی میں موجود سینکڑوں تاریخی مسجدوں میں مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے اس لئے روکتا ہے کہ کہیں ان عمارتوں کی تاریخی حیثیت اور ہیئت متاثر نہ ہوجائے۔ مسلمانوں کو مسجدوں میںنماز سے روکنے والا یہ محکمہ ایک پانچ سو سالہ قدیم تاریخی مقبرے کو مندر میں تبدیل ہوتے ہوئے کیسے برداشت کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہے یا پھر اکثریتی فرقے کے فسطائی عناصر کی دھونس اور ہٹ دھرمی کا راج ہے؟

Ads