Jadid Khabar

جمعہ کی نماز میں رخنہ اندازی

Thumb

مسلمانوں کو ملک گیر سطح پر ہراساں کرنے کے لئے شرپسند طاقتوں کی طرف سے مسلسل ایسی کارروائیاں انجام دی جارہی ہیں کہ وہ عاجز ہوکر سڑکوں پر نکل آئیں اور پھر پولیس کی لاٹھیوں اور گولیوں کا نشانہ بنیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جناح کی تصویر کا تنازع ہو یا پھر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اشتعال انگیز نعرے بازی۔ دہلی کے ایک تاریخی مقبرے کو مندر میں تبدیل کرنے کا واقعہ ہو یا پھر گڑگاؤں میں مسلمانوں میں نماز جمعہ سے روکنے کے واقعات۔ یہ تمام کارروائیاں پے درپے انجام دی گئی ہیں اور ان کا واحد مقصد مسلمانوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ اس ملک میں دوئم درجے کے شہری ہیں اور ان کے دستوری اور آئینی حقوق کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ گزشتہ دوہفتوں سے دہلی سے متصل ہریانہ کے شہر گڑگاؤں میں مسلمانوں کو جمعہ کی نماز پڑھنے سے زبردستی روکا جارہا ہے اور انہیں یہ احساس دلایاجارہا ہے کہ اب اس ملک میں اکثریتی فرقے کے جنونیوں کی مرضی کے بغیر وہ نماز بھی ادا نہیں کرپائیں گے۔ اتنا ہی نہیں گڑگاؤں میں آباد تقریباً ایک لاکھ مسلمانوں کو روہنگیا اور بنگلہ دیشی قرار دے کر وہاں سے نکالنے کی سازشیں بھی عروج پر ہیں۔ صوبائی حکومت کی سرپرستی میں سنگھ پریوار کے کارکنوں کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ وہ قانون اور دستور کو بھی خاطر میں نہیں لارہے ہیں۔ گڑگاؤں کی15لاکھ آبادی میں مسلمان تقریباً 5فیصد ہیں۔ اس شہر کی مسلسل توسیع ہورہی ہے اور یہاں روزگار کی تلاش میں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ دوہفتوں کے دوران ہندو انتہا پسند تنظیموں نے وزیرآباد، اے کے چوک ، بختاور چوک اور جنوبی شہر کے علاقوں میں نماز جمعہ کی ادائیگی میں رخنہ اندازی کی ہے اور نمازیوں کو بیرنگ لوٹا دیا ہے۔ اتنی بڑی مسلم آبادی کے لئے پورے گڑگاؤں شہر میں 8مسجدیں ہیں، جو شہر کی پرانی آبادی میں واقع ہیں۔ ان میں سے صرف ایک مسجد نئے گڑگاؤں میں واقع ہے جو نمازیوں کے لئے ناکافی ہے اسی لئے برسوں سے لوگ خالی پلاٹوں پر انتظامیہ کی مرضی سے جمعہ کی نماز ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہریانہ میں کوئی نئی مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہے اور پرانی مسجدیں اغیار کے قبضے میں ہیں۔ ہریانہ وقف بورڈ نے گڑگاؤں میں ایسی 20مسجدوں کی نشاندہی کی ہے جن پر یا تو ناجائز قبضے کرلئے گئے ہیں یا پھر وہ کھنڈر میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ ہم آپ کو بتادیں کہ گڑگاؤں میں پچھلے بیس سال سے مسجد تعمیر کرنے کی ایک درخواست انتظامیہ کے پاس التوا میں پڑی ہوئی ہے۔ گڑگاؤں کے علاوہ ہریانہ کے بہت سے شہروں مثلاً سونی پت، پانی پت، روہتک، حسار،جھجر، ہانسی، کرنال اور امبالہ میں ہزاروں ایسی مسجدیں ہیں جن پر اغیار نے قبضے کررکھے ہیں۔ صرف پانی پت میں ایسی تقریباً 100مسجدوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن پر غیروں کا قبضہ ہے۔ لیکن مسلمان نماز کی ادائیگی کے لئے دردر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ 

ہریانہ ماضی میں غیر منقسم پنجاب کا حصہ تھا جہاں آزادی سے قبل بڑی تعداد میں مسلمان آباد تھے۔ تقسیم وطن کے دوران اکثر لوگ پاکستان چلے گئے اور اپنی ہزاروں مسجدیں ، مدرسے اور خانقاہیں بے یارو مددگار چھوڑ گئے۔ بعد کو اغیار نے ان میں سے بیشتر پر قبضہ کرلیا اور ان کی شکل وصورت بدل ڈالی۔ یہاں تک کہ بعض مسجدیں مندروں اور گردواروں میں تبدیل کردی گئیں۔ ان میں سے بعض مسجدیں آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔لیکن مقامی لوگ نہ تو ان کی مرمت کرنے دیتے ہیں اور نہ ہی وہاں نماز کی ادائیگی کے لئے رضامند ہوتے ہیں۔ ریاستی وقف بورڈ بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر ان مسجدوں کی مرمت کے لئے حکومت سے اجازت طلب کرتا ہے تو اس کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ایسے میں لاچار ومجبور مسلمان جب پارکوں اور خالی پلاٹوں میں سجدہ ریز ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں ہراساں اور پریشان کیاجاتا ہے۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جو سیکولر جمہوری ہندوستان کے لئے ایک آزمائش سے کم نہیں ہے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عددی طاقت کے بل پر یہاں مسلمانوں کو ان کے بنیادی دستوری حقوق سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ 
ہریانہ کا گڑگاؤں شہر جسے گروگرام کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جدید ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہاں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہزاروں دفاتر ہیں اور یہاں جدید اور کثیر منزلہ عمارتوں کی تعمیر کا کام بھی مسلسل جاری ہے۔ ان کمپنیوں میں کام کرنے والے مسلمان اور تعمیراتی مزدور دسیوں سال سے کچھ خالی پڑے ہوئے پلاٹوں پر نماز جمعہ ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ گزشتہ ماہ سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو کلپ وائرل ہوئی جس میں شرپسند عناصر ان نمازیوں کو خطبے کے دوران وہاں سے بھگاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اس ویڈیو میں سینکڑوں مسلمان نماز جمعہ کی ادائیگی کے بغیر ہی واپس جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ ویڈیو اس وسیع پیمانے پر عام ہوئی کہ گڑگاؤں انتظامیہ کو حرکت میں آنا پڑا اور اس نے ہندو انتہا پسند تنظیموں کے نصف درجن نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ جنہیں بعد میں انہیں رہا کردیاگیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی آر ایس ایس سے وابستہ تمام تنظیموں نے ایک محاذ بناکر پورے گڑگاؤں میں کہیں بھی خالی پلاٹ پر نماز جمعہ ادا نہ کرنے پر پابندی لگادی۔ صوبائی حکومت کو اس معاملے میں مصالحت کی کوشش کرنی چاہئے تھی لیکن آرایس ایس کے وزیراعلیٰ منوہرلال کھٹر نے ایک ایسا بیان دے ڈالا جس نے آگ میں تیل ڈالنے کا کام کیا۔ انہوں نے حکمرانی کے اصولوں کو پامال کرتے ہوئے کہاکہ’’ نمازیں عوامی مقامات کی بجائے صرف مسجدوں ، عید گاہوں اور پرائیویٹ مقامات پر ادا ہونے چاہئیں۔‘‘ اتنا ہی نہیں انہوں نے یہ بھی کہاکہ’’ نظم ونسق کو برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ آج پابندی نہیں لگائی تو کل اس زمین کا مالکانہ حق طلب کریں گے اور کہیں گے کہ ہم تو برسوں سے یہاں نماز پڑھتے تھے۔‘‘ ظاہر ہے وزیراعلیٰ کا یہ بیان راج دھرم کے اصولو ں کی دھجیاں اڑانے والا تھا اور اس سے ان لوگوں کے حوصلے خاصے بلند ہوگئے جنہوں نے مسلمانوں کو خالی پلاٹوں پر نماز کی ادائیگی سے زورزبردستی روکا تھا۔
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعلیٰ اس اصول کو تمام مذاہب کے لوگوں پر نافذ کریں گے اور مستقبل میں اپنی ریاست میں کوئی بھی مذہبی تقریب یا جلسہ جلوس عوامی مقامات پر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔اس کا جواب نفی میں ہے۔ کیونکہ جمعہ کی نماز تو ہفتے میں ایک بار ہوتی ہے لیکن آر ایس ایس کی شاکھائیں تو ہرروز صبح کو عوامی مقامات اور پارکوں میںبلاروک ٹوک لگتی ہیں جن پر کوئی پابندی نہیں ہیں اور اب تو ہریانہ سرکار نے سرکاری امداد سے تعمیر ہونے والے تمام کسرت خانوں (جم) میںآر ایس ایس کی شاکھائیں لگانے کی اجازت دے دی ہے۔وزیراعلیٰ کے مذکورہ بالا بیان کی چوطرفہ مذمت ہورہی ہے۔ انڈین نیشنل لوک دل اور کانگریس نے نماز جمعہ کی ادائیگی میں رخنہ اندازی کو فرقہ وارانہ کارڈ کھیلنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ سابق صوبائی وزیر اور کانگریس لیڈر کیپٹن اجے یادو کا کہنا ہے کہ’’ گڑگاؤں میں مسلمان دسیوں سال سے کھلے میدانوں میں نماز جمعہ ادا کررہے ہیں اور اس معاملے میں کبھی کسی کو اعتراض نہیں ہوا۔ اب چونکہ 2019 کے عام انتخابات نزدیک آرہے ہیں تو اس لئے فرقہ وارانہ صف بندی کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی کھیل ہے۔‘‘ انہوں نے کہاکہ’’ وزیراعلیٰ کو ایسا جانب دارانہ بیان دینے کی بجائے نماز کی ادائیگی کے لئے ایک قطعہ اراضی الاٹ کرنا چاہئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہم پارکوں میں یوگا اور سڑکوں پر جاگرن نہیں کرتے ہیں۔‘‘ 
یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ دستور کی دفعہ 25میں اس ملک کے تمام باشندوں کو عبادات کی آزادی فراہم کی گئی ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی رخنہ اندازی کو قابل سزا جرم قرار دیاگیا ہے۔ لیکن گڑگاؤں میں بی جے پی سرکار کی سرپرستی میں نہ صرف مسلمانوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکاجا رہا ہے بلکہ اس عمل کو’ لینڈ جہاد‘قراد دیتے ہوئے مسلمانوں کو روہنگیا اور بنگلہ دیشی قرار دے کر ریاست بدر کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ ان حالات سے نپٹنے کے لئے ہریانہ وقف بورڈ نے حکومت کے سامنے ایسی 19مسجدوں کی فہرست پیش کرکے درخواست کی ہے کہ ان مساجد کو ناجائز قبضے سے آزاد کراکے مسلمانوں کے حوالے کیاجائے تاکہ وہ مساجد کے اندر ہی نماز ادا کرسکیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہریانہ شہری ترقیاتی اتھارٹی نے وقف بورڈ کی دوایکڑ زمین پر قبضہ کررکھا ہے۔ اس معاملے میں ہائی کورٹ نے پہلے ہی اتھارٹی کو وقف بورڈ کو متبادل جگہ فراہم کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ ایک طرف تو گڑگاؤں اتھارٹی وقف کی اتنی بڑی اراضی پر قبضہ کئے بیٹھا ہے اور وہ دوسری طرف شرپسندوں کے دباؤ میں مسلمانوں کو نماز جمعہ کے لئے عارضی طورپر بھی پلاٹ فراہم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ بڑی جدوجہد کے بعد ہندوتو وادی تنظیموں کے مشورے سے انتظامیہ نے محض 23مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں جمعہ کی نماز ادا ہوسکتی ہے جبکہ اس سے قبل 115مقامات پر نماز جمعہ ادا ہورہی تھی۔ 

Ads