Jadid Khabar

جناح کی تصویر پر ہنگامہ کیوں؟

Thumb

کیا واقعی ہم ایک ایسی کمزور مملکت میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں، جہاں ایک مرحوم لیڈر کی تصویر بھی ہماری قومی سلامتی کے لئے خطرہ ثابت ہونے لگی ہے۔ شہرۂ آفاق دانش گاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے یونین ہال میں برسہا برس سے آویزاں محمد علی جناح کی ایک تصویر حکمراں جماعت کے لوگوں کی آنکھوں میں بری طرح کھٹک رہی ہے۔ یہ تصویر سن1938میں اس وقت آویزاں کی گئی تھی جب محمد علی جناح کو یونین کی اعزازی رکنیت عطا کی گئی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب جناح دیگر قومی لیڈروں کے ساتھ تحریک آزادی کا ایک اہم حصہ تھے اور اس وقت پاکستان کا کوئی وجود نہیں تھا۔ لیکن ہمارے ملک میں مسلمانوں سے متعلق ہر شے کو مٹانے اور ہر ادارے کو برباد کرنے کی جو شر انگیز مہم چل رہی ہے، اس سے کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے وجود میں زلزلہ پیدا کرکے انہیں غیر یقینی حالات سے دوچار کرنا ہے۔اس قسم کی حرکتیں عام طورپر ملک میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے بھی کی جاتی ہیں۔ جارحیت پسند ہندو تنظیموں کے ممبران نے گزشتہ دنوں جناح کی تصویر کو بنیاد بناکر باقاعدہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر چڑھائی کی اور وہاں کے امن وامان کو غارت کردیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس وقت شرپسندوں نے مسلم یونیورسٹی پر دھاوا بولا اس وقت وہاں یونین ہال میں سابق نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری ایک تقریب میں شریک تھے اور انہیں یونین کی اعزازی رکنیت عطا کی جارہی تھی۔ ایک ایسے موقع پر جب یونیورسٹی میں ملک کا سابق نائب صدر موجود تھا تو پولیس نے شرپسندوں کو وہاں وبال پیدا کرنے کی چھوٹ کیوں دی۔ جب یونیورسٹی کے طلباء نے شرپسندوں کی موجودگی پر اعتراض کیا تو پولیس نے ان پر لاٹھیاں برسائیں اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔اس ہنگامہ آرائی میں یونیورسٹی کے دودرجن سے زیادہ طلباء زخمی ہوگئے ہیں اور یونیورسٹی کا تعلیمی ماحول غارت ہوگیا ہے۔ 
یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی روز اول سے فسطائی طاقتوں کے نشانے پر ہے اور وہاں شرپسندوں کی طرف سے آئے دن ایسے فتنے جگائے جاتے ہیں۔ابھی گزشتہ ہفتے ہی آر ایس ایس نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ایک خط لکھ کر یونیورسٹی کیمپس میں آر ایس ایس کی شاکھالگانے کی اجازت مانگی تھی۔ جس کا مقصد یونیورسٹی کے طباء میں قوم پرست جذبات کو فروغ دینا اور آر ایس ایس کے تعلق سے غلط فہمیوں کو دور کرنا بتایا گیا تھا۔ ظاہر ہے یونیورسٹی میں آر ایس ایس جیسی فسطائی اور مسلم دشمن تنظیم کی شاکھا لگانے کا مقصد یونیورسٹی کے ماحول سے کھلواڑ کرنا تھا۔ اب اس بات پر ہنگامہ آرائی اپنے شباب پر ہے کہ یونیورسٹی کے یونین ہال میں محمد علی جناح کی تصویر کیوں آویزاں ہے اور اسے کب اتارا جائے گا۔ اس تصویر کے حوالے سے ہندوستانی مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال کھڑے کئے جارہے ہیں اور انہیں پاکستان نواز ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ وہ یونیورسٹی میں جناح کی تصویر لگانے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ انہوں نے اس سلسلے میں جانچ کا حکم بھی دے دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے اب سے 88سال پہلے یہ تصویر آویزاں کی تھی، وزیراعلیٰ ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے کیا طریقہ اپنائیں گے اور انہیں کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں گے۔ ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ آج اونچے عہدوں پر ایسے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جنہیں اس ملک کی تاریخ اور تہذیب کا کوئی علم ہی نہیں ہے۔ ان کے دل ودماغ میں نفرت کے سوا کچھ نہیں ہے اور وہ صرف نفرت پھیلا کر ووٹوں کی فصل اگانا جانتے ہیں۔ 
اس تنازع کی داغ بیل دراصل علی گڑھ سے منتخب بی جے پی ممبرپارلیمنٹ ستیش گوتم نے ڈالی ہے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ایک مکتوب روانہ کرکے پوچھا تھا کہ یونین ہال میں جناح کی تصویر کیوں آویزاں کی گئی ہے۔ممبرپارلیمنٹ نے اپنے خط میں جناح کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے نہ جانے کیا کیا لکھا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ اگر وہ لوگ یونیورسٹی میں کوئی تصویر لگانا چاہتے ہیں تو انہیں راجہ مہندر پرتاپ سنگھ جیسے عظیم لوگوں کی تصویریں لگانی چاہئیں جنہوں نے یونیورسٹی کے لئے زمین عطیہ کی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی ممبرپارلیمنٹ کو خود ان ہی کی پارٹی کے ایک ممبراسمبلی اور صوبائی وزیر نے کرارا جواب دیا ہے۔ اترپردیش کی یوگی سرکار میں کابینہ درجہ کے وزیر سوامی پرساد موریا نے جناح کو عظیم شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کی تصویر پر سوال اٹھانے والوں پر نشانہ سادھا ہے۔ موریہ نے کہاکہ اس ملک کی تعمیر میں جن عظیم شخصیات کا کردار شامل رہا ہے، اگر کوئی ان پر انگلی اٹھاتا ہے تو اس سے زیادہ گھٹیا بات کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی تقسیم سے قبل جناح کی قربانیاں بھی اس ملک کے لئے تھیں۔ 
قابل ذکر بات یہ ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی میں جہاں محمد علی جناح کو ملک کی تقسیم کا قصوروار قرار دے کر مطعون کیاجاتا ہے تو وہیں اس پارٹی میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو جناح کو ایک عظیم اور سیکولر لیڈر قرار دیتے ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے کراچی میں محمد علی جناح کے مزار پر حاضر ہوکر انہیں ایک عظیم لیڈر قرار دیا تھا اور وہاں رکھی ہوئی وزیٹر بک میں انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ وطن واپسی کے بعد انہیں سنگھ پریوار کے زبردست حملوں کو جھیلنا پڑا اور بی جے پی کی صدارت چھوڑنی پڑی۔ لال کرشن اڈوانی کے بعد انہی کی پارٹی کے ایک اور لیڈر سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے محمد علی جناح پر ایک ضخیم کتاب لکھ کر ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔بمبئی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ایچ ایم سیروائی بھی جناح پر کتاب لکھ کر انہیں ایک اچھا انسان اور سیکولر قائد قرار دے چکے ہیں۔ گوپال کرشن گوکھلے نے بھی’جناح ہندو مسلم اتحاد کے سفیر‘ کے عنوان سے انگریزی میں کتاب لکھی ہے۔ یہ کتابیں ملک کی وقیع لائبریریوں اور اہم بک اسٹالوں پر موجود ہیں۔ قومی لیڈران کے ساتھ جناح کی سینکڑوں تصاویر نیشنل آرکائیوز اور نیشنل میوزیم میں لگی ہوئی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ مسلم یونیورسٹی کو نشانہ بنانے کے بعد کیا ہندتوا بریگیڈ کے لوگ ان اہم قومی تنصیبات کی طرف کوچ کریں گے؟ 

Ads