Jadid Khabar

مودی جی کا دورہ چین

Thumb

سنہ 2014کی انتخابی مہم کے دوران مسٹرنریندرمودی نے فلمی انداز میں جو ڈائلاگ بولے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ چین سے آنکھیں لال کرکے بات کرنی چاہئے ۔ ایک خاص لابی کا جی خوش کرکے ووٹ حاصل کرنے کے لئے ان کا یہ بیان بین اقوامی معاملات میںغیرمحتاط زبان کی ایک نادرمثال ہے۔گستاخی معاف کسی پڑوسی ملک کے لئے اس طرح کی دھمکی آمیززبان کا مطلب کیا ہوتا ہے، یا تومودی جی کواس کی سمجھ نہیں تھی اوراگرتھی تو انہوں نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے قومی مفاد کو نقصان پہنچایا ۔چنانچہ چین نے جوروش اختیارکی ہے ، مودی جی اس میں جھولے جارہے ہیں۔
وزیراعظم بن جانے کے بعداگروہ اپنے موقف پر جمے ہوتے تب بھی سمجھا جاتا کہ یہ ان کے دل کی آواز تھی۔لیکن اس کے بعد گزشتہ چارسال سے بین اقوامی تعلقات کے طے شدہ پروٹوکال کو باربارتوڑ کر انہوںنے بعض موقعوں پرجو عامیانہ اور فدویانہ روش اختیارکی ہے اس سے فائدہ تو کچھ ملا نہیں البتہ ملک کا وقار مجروح ہوا ہے۔ کئی مواقع پر محسوس ہوا کہ وہ یہ بھول گئے کہ وہ ہندستان جیسے عظیم ملک کے وزیراعظم ہیں اورکسی غیرملکی ذمہ دار سے مخاطب ہیں۔
 صدربارک اوبامہ سے ملاقات کے دوران کا برانڈڈ کپڑے کا لاکھوں کا سوٹ اور پروٹوکال کے مطابق مسٹرپریزیڈنٹ کہہ کر مخاطب کرنے کے بجائے ، باربار نام لے کرمخاطب کرنا ،میڈیا میں موضوع بحث بنا تھا، مگراس کے بعد بھی انہوں نے ان طورطریقوں پر کوئی توجہ نہیں دی جن کی بین اقوامی ڈپلومیسی میں بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ چین کے حالیہ سفرکے دوران صدر زی جن پنگ کے ساتھ ان کی بعض تصویرں ایسی آئی ہیں جن سے یہ محسوس ہی نہیںہوتا کہ وہ ہندستان جیسے باقارملک کے وزیراعظم اور اس کی سواارب سے زاید آبادی کے نمائندہ ہیں، بلکہ ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی کسی افسراعلیٰ کی حضور میں حاضر ہےں۔ مودی جی کو شاید یہ اندازہ ہی نہیں کہ اس طرح کی ملاقاتوںمیں الفاظ ہی نہیں بلکہ لیڈرکے ہاو¿ بھاو¿ بھی معنی رکھتے ہیں جس کو انگریزی میں باڈی لنگوئج کہتے ہیں۔ہماراکوئی مہمان ہو یا میزبان، اس سے خوش اخلاقی سے ملنا ، خوش اسلوبی سے بات کرنااوراس کو اچھے الفاظ سے خطاب کرنا ،ہماری تہذیب کابھی حصہ ہے اورسفارت کاری کا تقاضا بھی مگرساتھ میں جھولا جھولنا اورغیرضروری بے تکلفی اختیارکرنا یا بھیگی بلی بن جانا ،ہاتھ باندھ کر جھک کر کھڑا ہوجانا ،مناسب نہیں۔ 
مودی جی کی حلف برداری تقریب میں سارک ممالک کے سربراہان کی شرکت سے یہ تاثر پید ا ہوا تھا کہ نئی سرکار پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کی بہتری پر خاص توجہ دے گی۔ وزیراعظم کا منصب سنبھالتے ہی مودی جی بھاگے بھاگے دوبار نیپال تشریف لے گئے۔کابل سے واپسی میں لاہور بھی ہوآئے اورایسی بے تکلفی سے ملے جیسے بچپن کے بچھڑے ہوئے یارغار ہوں ۔انہوں نے وزارت خارجہ کے منجھے ہوئے افسران سے شاید پوچھا ہی نہیںکہ اس طرح کی ملاقات کا کیا کچھ منفی ردعمل ہوگا؟ چنانچہ تعلقات مزید خراب ہوگئے۔55 دیگرممالک کے دورے بھی کئے، لیکن چارسال کے بعد بشمول سری لنکا ،مالدیپ تمام پڑوسی ممالک سے تعلقات خراب ہی ہوئے ہیں۔ درجنوں چکر یورپی ممالک کے بھی لگالئے مگرکہیں سے حاصل کچھ نہیں ہوا۔ جاپان بھی دومرتبہ گئے ۔وزیراعظم جاپان کو آرتی دکھانے بنارس بھی لے گئے اوربلٹ ٹرین کا بھی شورمچا،لیکن اب یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑتا نظرآتا ہے۔
عالمی سطح پرتعلقات کا دارومدار لیڈروں کے ساتھ ملاقات میں بے تکلف ہوجانے یا کندھے جھکالینے پر نہیں، بلکہ دوطرفہ مفادات پرہوتا ہے۔ آپ نے اپنی غلط پالیسیوں سے ملک کی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا۔ آپ کے قریبیوں نے بنکنگ نظام کو تباہ کردیا۔ اربوں لے کر بھاگ گئے۔ اندرون ملک آپ کے گﺅ پریم نے ماحول کو ایسا خراب کردیا کہ لاکھ ترغیبات کے باوجود نہ’ میک ان انڈیا‘ کا شیرکہیں نظرآتا ہے اورنہ ’اسٹارٹ اپ‘ اور’اسٹیند اپ انڈیا‘ کا جادو نظرآیا اورنہ’ اسکل انڈیا‘ نے بے روزگاری مٹائی ، بلکہ سچی بات یہ ہے ’اسٹنڈا پ‘ (کھڑاہونے)کے بجائے ایسی ہزاروں چھوٹی یونٹیں بند ہوگئیں یا سمٹ گئیں جن میں ہنرمندی اورکاریگری یااسکل انڈیا کاجلوہ نظرآتا تھا۔جی ایس ٹی کے نام پرآتنک مچا ہوا ہے۔حد یہ ہے کہ گرودواروں کے لنگربھی جی ایس ٹی لگادیا۔ گزشتہ چند برسوں میں بے روزگاری بڑھی ہے ۔ وعدہ کیا تھا دوکروڑ روزگارہرسال نئے نکلیں گے۔ لیکن اب تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مشورہ دیاجارہا ہے کہ کام کےلئے سرکار کی طرف نہ دیکھو۔پکوڑے بیچو، پان بیچو، مویشی پالو ۔ اب اگراعلیٰ ڈگریاں حاصل کرکے بھی یہی سب کرنا ہے توپھر کیوں نہ اسکول کالج بند کرکے ان میں گﺅ شالہ کھول دئے جائیں۔ 
بات چین کے دورے کی چل رہی تھی۔ ہم بس اتناہی کہہ سکتے ہیں اچھے کی دعاکیجئے اور بدترکے لئے ذہنی طورسے تیاررہئے۔دعوا تو حالات میں ہمواری کا ہے مگردیکھئے کیا ہوتا ہے۔
ہیںکواکب کچھ نظرآتے ہیں، 
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گرکھلا
 چین کی اقتصادی ترقی کی رفتارتیز ہے۔ بین اقوامی تجارتی کاریڈور کے بعداورتیز ہوگی جس میں شریک ہونے کےلئے بڑے بڑے ملک آگے آئے مگرمودی سرکار تیار نہیں ہوئی۔اگرچہ 2019 میں مودی سرکاربدلنے کے آثار ہیں۔لیکن اگراس کے بعد پھرکسی ناتجربہ کار کو ان کی جگہ بٹھادیا گیا تو بس اس دیش کااللہ ہی حافظ ہے۔ مودی جی کی معاشی اورعالمی معاملات میں ناتجربہ کاری نے ملک کو جس پستی کی طرف دھکیل دیا ہے،دیرسویر اس سے نکل توآئے گا کہ ہندستان کے اندراتنی طاقت ہے۔ لیکن لیڈرکی ناتجربہ کاری کا جو نقصان قوم کو پہنچتا ہے، اس کی تلافی جلد نہیں ہوتی۔
عالمی اقلیتی کانفرنس، ابوظہبی
کوئی دودہائی قبل عالم کاری (گلوبلائزیشن) کاشوراٹھا تھا۔ سنہ 2001کو اقوام متحدہ نے ’تہذیبوںکے درمیان مکالمہ ‘ کے سال کے طورپر بھی منایا۔توقع کی جارہی تھی کہ اس کے نتیجہ میں پوری دنیا میں تحمل اورخوش ہمسائگی کا ماحول پنپے گا مگرہوا الٹا ہی۔ امریکا کی قیادت میں ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ عالم اسلام کے خلاف ایک نئی صلیبی جنگ بن کرابھری۔عالمی میڈیا میں اسلام اورمسلمانوںکی شبیہ کومسخ کرنے کی ایک مہم چل پڑی ۔نام نہاد’اسلامی دہشت گردی‘ کے خلاف مہم نے عالم اسلام میں جو تباہی مچائی وہ ر کنے کانام نہیں لے رہی۔اس دوران ایک نئی طرح کی نسل پرستی کی وبا پھیلی جس کو عرف عام میں’ اسلامو فوبیا ‘کا نام دیا گیا۔اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اوردشمنی کو دائیں بازو کے انتہا پسند عناصرنے دنیا بھر میں سیاسی مفاد کےلئے استعمال کیا۔ کہیں مسجدوںکی میناریں آنکھوں میں خاربن گئیں اورکہیں مسلم خواتین کا ساترلباس ناگوارگزرنے لگا، ڈھکے ہوئے سرمیں بم نظرآنے لگے۔ اپنے ہی گھروں میںنمازباجماعت پر بھی اعتراض ہونے لگا۔غرض یہ کہ دنیا کے بیشترممالک میں مسلم اقلیت کو طرح طرح کے چیلنجوںکاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اس صورت حال کا تفصیل سے جائزہ لینے اورحالات کو درستگی کی طرف لیجانے کے لئے خود مسلم اقلیتوں کو کیا پہل کرنی چاہئے ،کیا حکمت عملی اختیارکرنی چاہئے اوراپنے رویوں میں کیا تبدیلی لانی چاہئے کہ مختلف ثقافتوں کے درمیان تعلقات میں اس طرح خوش گواری آئے کہ ہمارے ایمان اورمستند دینی اعمال پر کوئی زد نہ پڑے؟ یہ سوالات یقینا نہایت اہم ہیں۔ ان پر غورکرنے کےلئے متحدہ عرب امارات کے ادارے ’انٹرنیشنل مسلم مائنرٹی کانگریس ‘ (IMMC)نے ، 8اور9مئی کو ایک بین اقوامی کانفرنس بلائی ہے جس میں زاید از 140ممالک کے 400سے زیادہ رہنما اور دانشوروںکی شرکت متوقع ہے۔اس ادارہ کے سرپرست متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے تحمل(Tolerance) عالی جناب الشیخ نہیان بن مبارک آل نہیان ہیں۔ آئی ایم ایم سی کی ہائرکمیٹی کے چیرمین ڈاکٹرعبدالرشیدنعیمی کے مطابق اسی دوران نوتشکیل شدہ ’ورلڈ کونسل آ ف مسلم مائنرٹیز ‘ پہلا اجلاس بھی ہوگا۔ یہ مضمون نگار(سید منصورآغا) اس کانفرنس میںبطور مقررمدعو ہے ۔مقالہ کا موضوع ہے©: "The cultural spectrum of India; need to strengthen pluralism; action plan for Muslims"
) ’ ہندستان کی ثقافتی رنگارنگی (اسپکٹرم)؛ ثقافتوں کے کثرتِ وجود کو تقویت پہنچانے کی ضرورت؛ مسلمانوں کے لئے حکمت عملی‘ )دعاکیجئے کہ یہ کانفرنس اپنے مقاصد میں موثرثابت ہو اور اس کے اچھے نتائج نکلیں۔ شب برا¿ت مبارک اوررمضان بھی۔

 

Ads