Jadid Khabar

ایڈزابھی تک لاعلاج

Thumb

ایک تازہ ترین خبر کے مطابق بیس برس کی تحقیق کے بعد بھی سائنس دان ایڈز کی ویکسین بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ”امریکی ایسوسی ایشن برائے سائنسی ترقی“ جس کا سالانہ بجٹ تین بلین ڈالرز سے زیادہ ہے کے صدر بالٹی مور نے تنظیم کے سالانہ اجلاس میں کہا ہے کہ سائنس دان اس سلسلے میں خاصی مایوسی کا شکارہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سائنس یا سائنس دانوں نے ہار مان لی ہے یا ہم نے اپنی کوششوں کو ترک کردیا ہے تاہم ہمیں ایڈز پر قابو پانے کے لئے کچھ نئے طریقے اپنانے پڑیں گے ورنہ یہ موذی مرض ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ ایچ آئی وی ایڈز نے خود کو انسانی جسم کے مدافعتی نظام سے بچائے رکھنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ مدافعتی نظام کی بنیاد پر ایڈز کوشکست دینے کے لئے سائنس دانوں کو فطرت کے خلاف لڑنا پڑے گا۔
گزشتہ صدی جہاں بہت سی ایجادات اپنے جلو میں لائی وہاں دنیا کو ایک ایسے لاعلاج بھیانک اور خوفناک مرض کے بارے میں آگاہ کیا جس کو ایڈز کا نام دیا گیا۔اس خوفناک مرض نے دریافت ہونے سے لے کر اب تک تقریباً تین کروڑ سے زائد انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ 2015ء میں تیس (30) لاکھ افراد کی ایڈز کی وجہ سے موت واقع ہوگئی اس کے علاوہ آج چار کروڑ سے زائد افراد (HIV-PO) ایچ آئی وی پوزیٹو کی زندگی گزار رہے ہیں جن میں سے 50لاکھ افراد کا تعلق جنوب اور جنوبی مشرقی ایشیا سے ہے۔ یہ اطلاع عالمی یوم ایڈز کے موقع پرUNAID یو این ایڈ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے جاری رپورٹ میں دی گئی ہے رپورٹ کے مطابق صحارا سے ملحق افریقی علاقوں میں جہاں ایڈز موت کی سب سے بڑی وجہ بن گئی ہے۔ وہاں عالمی سطح پریہ ہماری دنیا کی چوتھی بڑی بیماری ہے ایک تہائی لوگ 14 سے 24برس کی عمر کے ہیں جن میں سے بیشتر کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ اس موذی مرض کی جکڑ میں آچکے ہیں۔
دنیا میں کروڑوں لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں ایڈز کے بارے میں ”معمولی معلومات“ بھی نہیں ہیں۔ لاطینی امریکہ میں ایڈز سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 15لاکھ بتائی جاتی ہے، مشرقی یورپ، وسطی افریقہ، مشرقی ایشیا اور خطہ بحرالکاہل میں ایسے لوگوں کی تعداد 13لاکھ بتائی جاتی ہے، شمالی امریکہ میں 5لاکھ، مغربی یورپ میں چھ لاکھ، شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں 5لاکھ اور کریبین علاقوں میں ساڑھے پانچ لاکھ افراد اس مہلک بیماری میں مبتلا ہیں۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد سب سے کم ہے ایک اندازے کے مطابق یہاں صرف بیس ہزار افراد اس مرض سے متاثر ہیں۔ میرے حساب سے ایڈز اور ایچ آئی وی کی بیماری اور وبا جہاں تیزی سے پھیل رہی ہے وہاں یہ لاعلاج مرض بھی ہے۔ اب تک جتنا بھی علاج دریافت ہوچکا ہے اس سے مریض کی زندگی میں کچھ طوالت آسکتی ہے مگر اس کی دوائیں بہت مہنگی ہیں اگرچہ دعاﺅں پر کچھ خرچ نہیں آتا تاہم ایک ماہ کی دوا پر کم از کم بیس سے تیس ہزار روپے تک خرچ ہوتے ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ مغربی ممالک میں، جن میں امریکہ سرفہرست ہے مختلف امراض کے لئے آئے دن نئی نئی دوائیں ایجاد ہوتی رہتی ہیں چونکہ مقامی بازاروں میں نہ تو ان دواﺅں کی بہت زیادہ کھپت ہے کہ لوگ صحت مند ہیں اورنہ ہی دوا ساز کمپنیاں اپنی مرضی کے مطابق منافع کما سکتی ہیں اس لئے انہیں بیرونی منڈیوں کی تلاش رہتی ہے اس لئے دوسری اور تیسری دنیا کو سب سے بڑی منڈی ہونے کا ”اعزاز“ حاصل ہے یہاں میں عالمی معاشی نظام وغیرہ کی تفصیلات بتائے بغیر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ امریکی دوا ساز کمپنیاں اپنی سرکاری مشینری اور ذرائع ابلاغ کی مدد سے اپنے حق میں ماحول کو سازگار بنانے کے لئے اتنا زبردست پروپیگنڈا کرتی ہیں کہ تھرڈ ورلڈ کے باسیوں کو یقین ہوجاتا ہے کہ انہیں جو کچھ بتایا جارہا ہے وہی سچ ہے یہی وجہ ہے کہ تپ دق سے لے کر دمہ تک، ملیریا سے لے کر دماغی بخار تک اور برڈ فلو سے لے کر ڈینگی بخار تک میں مبتلا ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد اسی تھرڈ ورلڈ میں پائی جاتی ہے۔ یہی حال کینسر اور امراض قلب کا ہے لیکن چند برسوں سے جس ایک بیماری کا سب سے زیادہ چرچا ہے اور جسے کینسر سے بھی زیادہ خطرناک اور مہلک قرار دیا جارہا ہے وہ ہے ایڈز۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس مرض کا کوئی حتمی علاج یا دوا موجود نہیں ہے اور صرف اس کے پھیلنے کو روکنے کیلئے حفظ ماتقدم اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ ایڈز کوئی متعدی مرض نہیں ہے تاہم یہ بات باعث تشویش ہے کہ 14سے 44سال کی عمر کے افراد اس میں تیزی سے مبتلا ہوتے جارہے ہیں ایسے نوجوان جو ”بے راہ روی“ کی زندگی گزارتے ہیں، وہ اس مرض الموت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ مرض موروثی بھی بن گیا ہے اب اس مرض میں مبتلا ہونے والوں کے لئے عمر اور جنس کی بھی کوئی قید نہیں رہ گئی جہاں نوزائیدہ اس مرض کا شکارہیں وہاں پچاس تا ساٹھ برس عمر کے مرد اور خواتین بھی اس میں مبتلا ہیں۔ اس کی وجوہات میں اب صرف ”بے راہ روی“ ہی نہیں ہے بلکہ خون کی منتقلی کے دوران خراب خون کے شامل ہوجانے اور انجکشن کی خراب سرنج سے بھی یہ مرض منتقل ہورہا ہے۔ ایک اچھی اور اہم بات یہ ہے کہ ایڈز کے متعلق ان دوسری وجوہات کے منظرعام پر آنے سے وہ لوگ جو شرم کے مارے مرض کو چھپائے پھرتے تھے اب علاج پر مائل ہو رہے ہیں۔ شہرت کی دنیا سے تعلق رکھنے والے افراد اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور ایڈز کے مریضوں میں گھل مل جانے سے بھی اس مرض کے متعلق غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں پھر بھی ہم مشرقیوں میں کچھ تعداد ایسی ہے جو اس مرض کا انکشاف کرنے کو برا محسوس کرتی ہے۔ آخر میں پھر امریکی سائنس دان پروفیسر بالٹی مور کا بوسٹن میں دیئے ہوئے ایک انٹرویو کا اقتباس پیش کرکے آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔ ”ہمیں ایڈز کو شکست دینے کے لئے کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈنا پڑے گا جو گزشتہ چار ارب سال کے ارتقاکے دوران انسانی جسم نے نہ سیکھا ہو، ہم آج کل یہی کوشش کررہے ہیں“
بس اتنی عمر تھی اس سرزمین دل پہ میری
پھر اس کے بعد اسے وہم و خواب ہونا تھا

 

Ads