Jadid Khabar

کانگریس کے دامن پر مسلمانوں کا خون؟

Thumb

کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر سلمان خورشید کے ایک حقیقت پسندانہ بیان نے انہیں خود اپنی ہی پارٹی میں بیگانہ بنادیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک پروگرام کے دوران جب ایک طالب علم نے ان سے مسلم کش فسادات کے حوالے سے کانگریس کے کردار پر سوال کیا تو وہ خود کو یہ کہنے سے نہیں روک پائے کہ ہاں کانگریس کا دامن مسلمانوں کے خون سے داغ دار ہے۔ سلمان خورشید سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین کے نواسے اور سابق گورنر خورشید عالم خاں کے فرزند ہیں۔ ان کا شمار ملک کے چند کامیاب ترین وکیلوں میں بھی ہوتا ہے۔ لیکن وہ سیاست میں صرف اسی وقت سرگرم ہوتے ہیں جب وہ اپنے روایتی حلقہ انتخاب فرخ آباد سے چناؤ جیت جاتے ہیں۔ چناؤ ہارنے کی صورت میں وہ اپنا تمام وقت وکالت پر صرف کرتے ہیں اور عوام سے ان کا کوئی رابطہ نہیں رہتا۔ پارٹی کے پروگراموں میں بھی وہ خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کی تقریبات میں شرکت سے وہ حددرجہ گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی سیکولر امیج برقرار رکھنے کی فکر بھی دامن گیر رہتی ہے۔ لیکن کانگریسی مسلمان ہونے کے ناطے وہ جانے انجانے میں کہیں نہ کہیں پریشان کن صورت حال سے دوچار ہوہی جاتے ہیں۔ ایسی ہی صورت حال انہیں گزشتہ 22اپریل کو اس وقت پیش آئی جب وہ مسلم یونیورسٹی کے امبیڈکر ہال کی سالانہ تقریب میں شرکت کرنے علی گڑھ پہنچے۔ مسلم یونیورسٹی کے طلباء کا یہ طرۂ امتیاز ہے کہ وہ بڑے سے بڑے شخص کے سامنے اپنی بات کہنے سے گریز نہیں کرتے۔ خواہ بات کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو۔اس حقیقت سے بھی سبھی لوگ واقف ہیں کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہندوستانی مسلمانوں کی تمناؤں اور آرزوؤں کا مرکز ہے۔ مسلم یونیورسٹی کی طلباء یونین کے درجنوں سابق عہدیداران ملک کی سیاست میں سرگرم ہیں اور ان میں ایک ہی قدرمشترک ہے کہ وہ مسلم مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ ایسے ہی ایک طالب علم نے سلمان خورشید کو مسلمانوں کے تعلق سے سوالوں کے نرغے میں لے لیا۔ سلمان خورشیدنے اپنی تقریر کی ابتداء مسلم یونیورسٹی سے اپنے دیرینہ رشتوں کے ساتھ کی اور یہ بھی بتایا کہ ان کی پیدائش یونیورسٹی کے وی سی لاج میں ہوئی تھی۔ انہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اپنی تربیت نہ ہونے کا افسوس ہے ۔ کیونکہ ان کی تعلیم وتربیت انگلینڈ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہوئی ہے۔ 

یونیورسٹی طلباء نے سلمان خورشید کا خطاب ختم ہونے کے بعد ہی ان پر سوالات کی بوچھار کردی۔ یہ سوالات خاصے ترچھے اور پریشان کرنے والے تھے۔ ایک طالب علم عامر منٹوئی نے ان سے پوچھا کہ ملک کی آزادی کے فوراً بعد ہی 1948میں مسلم یونیورسٹی ایکٹ میں ترمیم ہوئی۔ 1950کے صدارتی حکم نامے سے مسلمانوں کو ریزرویشن سے محروم کردیاگیا ۔ کانگریس کے ہی دور حکومت میں ہاشم پورہ، ملیانہ، میرٹھ، مظفرنگر، مرادآباد، بھاگلپور اور علی گڑھ وغیرہ میں مسلمانوں کی قتل وغارت گری ہوئی۔ بابری مسجد کا پوجا پاٹھ کے لئے کھلنا اور مسجد کی شہادت جیسے واقعات بھی کانگریس کے ہی دور حکومت میں ہی ہوئے۔ ان سبھی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے مذکورہ طالب علم نے پوچھا کہ مسلمانوں کے حقوق پر شب خون مارنے اور کانگریس کے دامن پر مسلمانوں کے خون جو دھبے ہیں انہیں آپ کن الفاظ سے دھونا چاہیں گے؟ عامر کے سوالات سے سابق کانگریسی وزیر بری طرح تلملا اٹھے اور شروع میں خود کو ان سوالات کا جواب دینے سے بچاتے رہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ’’کانگریس پارٹی کا لیڈر ہونے کے ناطے مسلمانوں کے خون کے داغ میرے اپنے دامن پر ہیں۔‘‘ ایک اور طالب علم اصغر علی نے سلمان خورشید سے سوال کیا کہ کانگریس نے سچرکمیٹی اور رنگاناتھ مشرا کمیٹی رپورٹ پر مسلمانوں کے ساتھ کھلواڑ کیوں کیا؟ دس برسوں میں رپورٹ کی سفارشات کو نافذ کیوں نہیں کیاگیا؟ سلمان خورشید نے ان سوالوں کا براہ راست جواب نہ دے کر صرف اتنا کہا کہ’’ آپ گزرے ہوئے وقت سے سبق حاصل کریں اور آگے بڑھیں۔ ‘‘
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ کانگریس کے کسی مسلم قائد کو مسلمانوں کے مجمع میں اس قسم کے پریشان کن سوالوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ تمام سوالات ایسے ہیں جن کا کانگریس پارٹی کے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہے اوراس کے مسلم لیڈران کے پاس تو قطعی نہیں۔ 6دسمبر 1992کو بابری مسجد کی شہادت اور ممبئی کے خوفناک فسادات کے بعد راقم نے ایک مرکزی وزیر کی رہائش گاہ پر ایک انتہائی گرماگرم میٹنگ میں شرکت کی تھی۔ جہاں سرکردہ مسلمانوں نے کانگریسی وزیروں کو اپنے نرغے میں لے لیا تھا۔ اس موقع پر کئی مسلمان کانگریسی وزیروں نے یہ کہاکہ وہ اپنا استعفیٰ جیب میں رکھ کر گھوم رہے ہیں۔ ان میں سلمان خورشید اور جعفرشریف بھی شامل تھے۔ لیکن افسوس کہ کسی ایک مسلم وزیر نے بھی اس وقت نرسمہاراؤ کابینہ سے مستعفی ہونے کی ہمت نہیں دکھائی۔ اگر کوئی ایک وزیر بھی ایسی ہمت دکھاتا تو یقینا اس سے مسلمانوں کو حوصلہ ملتا اور خود اس کی قدرومنزلت میں بھی اضافہ ہوتا۔ 
مسلم یونیورسٹی کے طالب علم نے سلمان خورشید کے روبرو جو سوال رکھے ہیں وہ سب تلخ ضرور ہیں لیکن حقائق پر مبنی ہیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جو کانگریس کے تعلق سے ہر باشعور مسلمان کے ذہن میں کروٹیں بدلتے ہیں اور جب کوئی انہیں الفاظ کا جامہ پہناتا ہے تو عام مسلمانوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے جذبوں کو زبان مل گئی ہے۔ ملک میں آزادی کے بعد بیشتر عرصے کانگریس ہی اقتدار میں رہی ہے۔ مرکز سے لے کر بیشتر صوبوں تک اسی کی عمل داری تھی۔ ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ پے درپے ہونے والے مسلم کش فسادات کانگریس کی پالیسی کا حصہ تھے لیکن اتنا ضرور ہے کہ ان فسادات کو روکنے اور ان کے مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے میں کانگریسی حکومتوں نے کبھی دلچسپی نہیں لی۔ جس کے نتیجے میں فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں کے حوصلے بلند ہوتے چلے گئے۔ انہیں ایسا محسوس ہوا کہ اس قتل وغارت گری کو کانگریس کی خاموش حمایت حاصل ہے۔ فرقہ پرست عناصر کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ فسادات کے دوران کتنی ہی قتل وغارت گری کیوں نہ ہوجائے، وہ سب ’فسادیوں‘کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے اور اس کے اصل مجرم کبھی قانون کی گرفت میں نہیں آتے۔ کانگریس نے ہر فساد کے بعد ایک تحقیقاتی کمیشن ضرور بنایا لیکن اس کی رپورٹیں سردخانے میں ڈال دی گئیں۔ اس سلسلے کی سب سے اہم دستاویز 1992-93کے ممبئی فسادات پر جسٹس شری کرشنا کمیشن کی وہ چشم کشا رپورٹ تھی جس نے پہلی بار فسادیوں کی صاف طور پر نشان دہی کی تھی اور انہیں نام لے کر کٹہرے میں کھڑا کیا تھا لیکن آج تک ممبئی فسادات کے ایک بھی مجرم کو سزا نہیں ملی ہے اور یہ رپورٹ آج بھی مہاراشٹر سرکار کے مال خانے میں خاک پھانک رہی ہے۔ اگر واقعی کانگریس فسادات کے تباہ کن سلسلے کو روکنا چاہتی اور اسے مسلمانوں کے جان ومال اور عزت وآبرو سے کوئی سروکار ہوتا تو وہ یقینا آزادی کے بعد ہی اس پر روک لگاسکتی تھی۔ بابری مسجد کے تقدس کی پامالی اور اس میں مورتیاں رکھنے کا واقعہ دسمبر 1949میں پیش آیا تھا اور یہ سب کچھ ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ تھا۔ لیکن کانگریس مرکز اور اترپردیش دونوں جگہ اقتدار میں ہونے کے باوجود بابری مسجد کا تقدس بحال نہیں کراپائی اور وہاں زبردستی رکھی گئی مورتیاں نہیں ہٹائی گئیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بابری مسجد کا تنازعہ ہی کانگریس کے زوال کا سبب بنا اور وہ شمالی ہندوستان میں اجنبی بن گئی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آزادی اور ملک کی تقسیم کے بعد حالات بہت مخدوش تھے لیکن جن مسلمانوں نے ہندوستان میں رہنا پسند کیا تھا انہیں پاکستان بنانے کی سزا دی گئی اور جنہوں نے پاکستان بنایا تھا وہ اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔ آج کانگریس سلمان خورشید کے بیان کو لاکھ مسترد کرے لیکن وہ ان سنجیدہ سوالوں کو ٹال نہیں سکتی جنہوں نے آج اسے سیاسی طورپر حاشیے تک پہنچا دیا ہے اور یہی وہ بنیادی سوالات ہیں جن کی وجہ سے کانگریس آج اپنے وجود کی لڑائی لڑرہی ہے۔ کانگریس نے اگر سیکولرزم کی لڑائی کو مضبوطی سے لڑا ہوتا اور فرقہ پرست طاقتوں کے ایجنڈے کو ان کے ہاتھوں سے چھیننے کی کوشش نہ کی ہوتی تو وہ یقینا آج ملک کے سیاہ سفید کی مالک ہوتی اور فرقہ پرست حاشیے پر پڑے ہوتے۔ 

Ads