Jadid Khabar

سزامیں اضافہ علاج نہیں،ریپ کی ذہنیت کو روکئے

Thumb

کٹھوعہ اوراناؤ کی وارداتوں پرلیپا پوتی کی کوشش اوران پر وزیراعظم کی معنی خیز خاموشی سے دنیا بھرمیں ملک کی بدنامی ہوئی ہے۔ کئی غیرملکی اورقومی اخباروں میںسخت ادارئے اورتبصرے شائع ہوئے۔ اسی دوران امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ میں ملک کو تنقیدکانشانہ بنایا گیا۔ مودی جی لندن گئے تو ان کے خلاف مظاہرہ ہوا۔اندرون ملک انسانیت نواز اورسچے قوم دوست عوام میں بھی شدید غم وغصہ پھوٹ پڑا۔ جابجا احتجاج ہوئے۔ اس کا ردعمل یہ ہوا کہ سرکار آناً فاناً Protection of Children from Sexual Offences Act of 2012 (POCSO),  میں ترمیم کا ایک آرڈیننس لے آئی۔جس کے تحت12سال سے کم عمرکی بچیوں کی عصمت دری کے مجرموںکو موت کی سزا دی جاسکے گی۔اورپولیس کو تفتیش مقررہ وقت میںپوری کرنی ہوگی۔مقدمہ کا فیصلہ بھی مقررہ وقت میںہوگا۔ بہت خوب۔بعض حلقوں نے  اس کا خیرمقدم کیا ہے حالانکہ اس میں کئی بنیادی خامیاں موجود ہیں۔ 
سب سے پہلے تویہ سوچئے کہ قانون کی کتابوں میں کسی جرم کی سزاسخت لکھ دینے سے کیا جرم رک جاتا ہے؟ اگرپھانسی کے پھندے پرلٹکا دینا کوئی حل ہوتا توقتل کی وارداتیں رک گئی ہوتیں، بڑھتی نہیں۔ مقبول بٹ اورافضل گروکو پھانسی دیدینے اوربرہان وانی کے انکاؤنٹر اور سینکڑوں افراد کو نامعلوم قبروںمیں اتاردینے سے کشمیر میں شورش رک جاتی۔سچی بات یہ ہے کہ سزاکوسخت کردینے سے کبھی کوئی جرمکم نہیں ہوتا جب تک اس کے اسباب کو نہ روکا جائے۔
اس کی دوسری خامی یہ ہے کہ پوسکو ایکٹ 16سال تک کی تمام نابالغ بچیوں کو یکساں تحفظ فراہم کرتا ہے۔ لیکن اس قانون میں ان کو دوقطعی غیرمنطقی زمروں میں تقسیم کردیاگیا ہے۔ پہلا زمرہ 12سال تک کی بچیوں کا اوردوسرا 12سے 16سال تک کا۔اس زمرہ بندی کی نہ توکوئی قانونی بنیاد ہے اورنہ سماجی۔ اگرجرم 12سال سے اوپر کی بچی کے ساتھ ہوا تو وہ کم سنگین کیسے ہوگیا اوراس کی سزا کم کیوں ہوگئی؟ تیسری خرابی یہ ہے کہ عصمت دری کے کیس میں سزائے موت کا مطلب یہ ہے مجرم کو یہ ترغیب ملے گی کہ گناہ کے بعدوہ اپنی شکار مظلومہ کو زندہ نہ چھوڑے۔
پوسکو ایکٹ، جس میں یہ ترمیمات لائی گئی ہیں، زیادہ پرانا نہیں۔  2012میں بنا تھا۔ صرف پانچ چھ سال کی مدت میں اگرترمیم کی ضرورت محسوس ہورہی تھی تو تمام پہلوؤں پراچھی طرح غور ہونا چاہئے تھا۔لیکن سرکار یہ آرڈیننس  اسی طرح آناًفاناً لے آئی جس طرح تین طلاق پرایک  نامعقول اور ناقص بل لے آئی تھی۔ یہ طریقۂ کارجمہوری اور پارلیمانی مزاج سے میل نہیں کھاتا۔ جیسا کہ دہلی ہائی کورٹ نے نشاندہی کی ہے کہ آرڈیننس لانے سے پہلے کوئی  رسرچ نہیںکی گئی۔
عصمت دری کے مجرم کو سزائے موت دینے یا کمیاوی طریقہ سے آختہ کرنے کی تجویز جسٹس ورما کمیٹی کے سامنے بھی آئی تھی۔سنہ 2012 میں نربھیا کیس کے بعد یہ کمیٹی یو پی اے سرکار نے قائم کی تھی جس کے سربراہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جے ایس ورما تھے۔انہوں نے  آختہ (بدھیا ) کردینے اورسزائے موت کی تجویزیں مسترکرتے ہوئے رپورٹ میں لکھاہے:
  "The Committee rejected the proposal for chemical castration as it fails to treat the social foundations of rape.  It opined that death penalty should not be awarded for the offence of rape as there was considerable evidence that death penalty was not deterrence to serious crimes.  It recommended life imprisonment for rape."
’’کمیٹی نے کیمیاوی طریقے سے مجرم کوآختہ کرنے کی تجویزکواس لئے مسترد کردیا کہ یہ طریقہ عصمت دری کی سماجی بنیاد کاعلاج کرنے میں ناکام ہے اورریپ کے مجرم کو سزائے موت اس لئے نہیں دی جانی چاہئے کہ اس بات کے کافی ثبوب موجود ہیں کہ سزائے موت سنگین جرائم سے باز رکھنے کا موثرطریقہ نہیں ہے۔‘‘
اس کمیٹی نے  جرم وسزا کے تمام منطقی، قانونی اورعملی پہلوؤں پر غورکرنے کے بعد ایک جامع رپورٹ پیش کی تھی،جس کی بنیاد پر ضابطۂ فوجداری میں اصلاحات کرکے "The Criminal Law (Amendment) Act 2013  منظورہوا  تھا۔ ساتھ میں نفاذ قانون اورپولیس اصلاحات کی کچھ تجاویزبھی شامل کی تھیں، جن پر آج تک توجہ نہیں دی گئی۔شاید یہی وجہ ہے کہ قانون بن جانے کے باوجود جرم رکا نہیں ہے۔ دہلی پولیس کے مطابق قومی راجدھانی میں ہی گزشتہ پانچ سال میں آبروریزی کے کیسوںمیں 277 فیصد اضافہ ہواہے۔ 2011میں یہ تعداد 572 درج ہوئی تھی جو 2016 میں بڑھ کر 2155 ہوگئی۔
اسی ہفتہ ایک این جی او ’سی آر وائی‘ (CRY)کی ایک رپورٹ آئی ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں ہر15 منٹ میں ایک کمسن بچی کے ساتھ بدکاری ہوتی ہے ۔گزشتہ 10 سال میں اس میں 5.69گنا اضافہ ہوا ہے۔2006 میں صرف 18967 کیس ہوئے تھے جو 2016 میں بڑھ کرایک لاکھ سات ہزار ہوگئے۔ سب سے تیز رفتار اچھال این ڈی اے سرکارآنے کے بعد 2014 تا 2016میں آیا۔ سنہ2013 میں 58236کیس ہوئے تھے جو 14  میں 89423 اور 16 میں ایک لاکھ سات ہزارہوگئے۔ بچوں کے خلاف جرائم کا یہ تجزیہ بتاتا ہے سنہ 2016 میں کل جرائم کے ایک تہائی جنسی جرائم تھے۔ 
یہ ہوشربا اضافہ قانون کی کتاب میں سزاسخت کردینے سے رکنے والا نہیںبلکہ ان راستوں کو بند کرنا ہوگا جن سے نوجوانوں میں  جنسی اشتعال پھیلایاجارہا ہے۔جیسا کہ جسٹس ورما کمیٹی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اصل مسئلہ جنسی ہوس رانی کی سماجی بنیاد (social foundations of rape) ہے جس کو اکھاڑنا  ہوگا۔لیکن یہ ہوکیسے جب کہ برسر اقتدارپارٹی کے لیڈرمقدس بھگوا لباس پہن کربرسرعام قوم کے نوجوانوں کو عصمت دری کی تلقین کرتے ہیں اوراس کو ایک سیاسی ہتھیارکے طورپر استعمال کرنے کو جائز جانتے ہیں۔ اس طرح کی فحش کلامی کرتے ہوئے نام نہاد سادھو سنتوں اور سادھویوں کو بھی یہ یاد نہیں رہتا کہ آبرو ہر عورت کی ہوتی ہے چاہے وہ ہندوہو یا غیر ہندو۔ بیٹی اوربچی کسی کی بھی ہو، وہ ہمارے دیش کی بیٹی اوربچی ہے، اس کی حفاظت کا ماحول ہم سب پرلازم ہے۔ اس کے بجائے قوم پرستی اورشری رام کا نعرہ لگاکر نوجوانوں کواکسایا جائے کہ ان کی سو بیٹیوں کو اٹھا لاؤ، قبروں میں سے عورتوں کی لاشوں کو نکال کران کے ساتھ بلاتکارکرو، اور بڑے رہنما خاموش رہیں تو ماحول خراب ہی ہوگا۔ جب سادھو سنتوں کے آشرم اورمندرتک محفوظ نہ رہیں، مندرکے تقدس کو پامال کر کے ایک معصوم بچی کے ساتھ بدکاری کرنے والوں کو بچانے کے لئے ہندو دھرم کے نام پر منچ بنالیا جائے، وزیر اور لیڈر خطاکاروں کو بچانے کے لئے مظاہرے کریں،کہ خطاکار ان کے دھرم کے اوربچی غیردھرم کی ہے، جب وکیل قانون کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں، اور وزیراعظم کا ٹوئٹرخاموش رہے تو سماج میں عصمت دری کی جڑیں کمزورہونگیںیا مضبوط ہونگیں؟ ریپ کی اس سوشل فاؤنڈیشن کوپوری طرح منہدم کرنے کی ضرورت ہے جس کو نام نہاد راشٹروادی طاقت پہنچارہے ہیں ورنہ کیا وجہ تھی کہ ایک ایم ایل اے پر الزام لگے اسی کی برادری کی لڑکی فریاد لے کر آئے اورسرکار کے کان پر جوں بھی نہ چلے اوراس کے باپ کو حراست میں لے لیاجائے اورا س کی موت ہوجائے! اس بے حسی کو دورکرنا ہوگا اور قانون کی حکمرانی اورانسان کی جان ، عصمت اورعزت کی آئینی گارنٹی کی پامالی کو روکنے کے لئے دل کڑاکرناہوگا۔
آرڈیننس لانے سے پہلے سرکار پر لازم تھاقانون اورسماجیات کے ماہرین کو مصروف کرکے کوئی تجویز لاتی۔ہماراملک جمہوری ہے ۔اس کا قانون سازی کا بھی ایک طریقہ کارہے ۔ہرمسودہ قانون پر مختلف پارٹیوں کے ممبرانکیکمیٹی میں باریکی سے غورکیا جاتا ہے جس میں خطا کا امکان کم ہوجاتا ہے۔ قانون سازی کسی فرد کی مرضی اورسیاسی مفاد کی بنیاد پرنہیں بلکہ قومی مفاد کے پیش نظر ہونی چاہئے۔ اس ترتیب کو الٹ دینے کا مطلب جرم وسزا کی معقولیت کو نظرانداز کرکے اور مقررہ پارلیمانی طریقۂ کار کو پامال کرکے  اکثریت کے بل پراپنی مرضی چلانا ہے۔ یہ روش جمہوریت کی موت اورآمریت کی آمد کا پیغام دیتی ہے۔
ابھی چند ہفتہ قبل موہن بھاگوت جی نے ایک بڑی معقول بات کہی تھی اوروہ یہ کہ کوئی ایک فرد دیش کو نہیں چلا سکتا۔سب کو ساتھ لے کر سب کے مشورے سے چلاناہو گا۔ ہمیں افسوس ہے کہ وزیراعظم نریندرمودی کی قیادت میں ان کی کابینہ نے اس اچھے مشورے کی وقعت کو نہیں پہچانا۔ مودی جی جس سیاسی شعبدہ بازی سے کام نکالنا چاہتے ہیں، وہ چلے گی نہیں۔ ہمیں یہ شکایت تھی کہ جب مسلم مطلقہ بل لایا گیا، تب نہ اپوزیشن سے مشورہ کیا گیا اور نہ متعلقہ فرقہ کے مذہبی اورسیاسی رہنماؤں سے رائے مشورہ لیا گیا،نہ قانونی ماہرین کو بلایا گیا۔ چند افراد نے بیٹھ کر مسودہ لکھا اورپیش کردیا۔ زیرتبصرہ آرڈیننس لانے سے قبل بھی کسی کو شریک مشورہ نہیں کیا گیا۔ حالانکہ یہ ایک اہم قومی معاملہ ہے اوراس پر سب جماعتوں اورانجمنوں کو، جن کاعوام پر اثرورسوخ ہے، ساتھ لینا چاہئے۔ ہماری ملی تنظیموں نے اس اصولی بنیاد پربجاطورپر طلاق بل پر سوال کیا تھا۔ اس آرڈیننس کے موقعہ پر بھی اس اصولی پہلو پرتوجہ دلائی جانی چاہئے۔یہ آواز اٹھائی جائے کہ سرکارسب کو نظرانداز کرکے قانون سازی کے نظام کوکمزورنہ کرے۔ یہ آواز اٹھانا اس لئے ضروری ہے جمہوری پارلیمانی نظام کو رفتہ رفتہ آمریت میں تبدیل کیا جارہا ہے۔
ہماری مودی جی سے گزارش ہے کہ اوائل ہفتہ جو انہوں نے ہلکے سے اپنی پارٹی کے لیڈروں سے کہاہے کہ وہ غیرضروری بیانات نہ دیں، ان سے یہ بھی کہیں اور خود اپنے پلے میں بھی باندھ لیں کہ جب تک نفرت کی اور گناہ کی سیاست کو ترک نہیں کیا جائے گا، ہندستانی سماج کو بچایا نہیں جاسکے گا۔  جرائم کوروکنے کے لئے قانون کم نہیں ہیں۔لیکن قانون کی یکساں حکمرانی سیاست زدگی کا شکاربن گئی ہے۔ انتظامی عملہ کو پارٹی کا نہیں ملک اورقانون کا وفادارہونا چاہئے۔ مکہ مسجد اورنرودہ پاٹیہ معاملہ میں حال ہی میں جو فیصلے آئے ہیں، وہ اس کا کھلا ثبوت ہیں کہ حکمرانوںکی شہ پر قانون کی حکمرانی کا خون کیا گیا ہے۔
اخری بات یہ کہ ورما کمیشن نے بہت سی سفارشات نفاذ قانون کے تعلق سے کی ہیں۔ ان پر عمل نہیں ہواہے۔ ان کو ٹھنڈے بستے سے باہرنکالیںاورآئین وقانون کی حکمرانی کو سختی سے نافذ کرنے کے ماحول کو بحال کیجئے جس پر زردی چھاگئی ہے۔
Cell; 9818678677

 

Ads