Jadid Khabar

سلمان خورشید کا بیان - بے وقت کی شہنائی

Thumb

سلمان خورشید صاحب سپریم کورٹ کے بڑے وکلاء میں سے ہیں،ڈاکٹر ذاکر حسین خان کے نواسے اور خورشید عالم خان کے چشم و چراغ ہیں۔ کانگریس کے زمانے میں کئی بڑے عہدوں اور وزارتوں کی کرسی پر فائز رہے مگر کسی وقت بھی کانگریس کی خرابیوں اور کوتاہیوں پر منہ نہیں کھولا۔ اس وقت جب کہ کانگریس کی لڑائی ملک و قوم اور مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن آر ایس ایس اور بی جے پی سے درپیش ہے تو سنگھ پریوار پر گرجنے اور برسنے کے بجائے کانگریس ہی کو اپنے بیان سے کمزور کرنے اور بی جے پی کو کانگریس کے خلاف سند فراہم کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ جہاں تک کانگریس کی کوتاہیوں اور مسلمانوں کے ساتھ نا انصافیوں اور زیادتیوں کا معاملہ ہے یہ تو اظہر من الشمس ہے مگر خورشید صاحب کو معلوم ہے کہ کانگریس میں جو لوگ آتے جاتے رہتے ہیں وہ سب کے سب اپنی پارٹی یا پارٹی کے اصول و نظریات کے نہ علمبردار ہوتے ہیں اور نہ وفادار ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ موقع پرست ہوتے ہیں اور تعصب و عصبیت کے شکار ہوتے ہیں۔ 
کانگریس میں بیس سے پچیس فیصد افراد آر ایس ایس کی ذہنیت کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ نرسمہا راؤ اگر چہ کانگریس میں شامل تھے مگر وہ آر ایس ایس کے ہی آدمی تھے جو سیکولرزم کا لبادہ اوڑھ کر کانگریس میں شامل تھے۔ اسی طرح ہندستان کی ریاستوں میں جو کانگریس کی طرف سے وزرائے اعلیٰ بنائے گئے تھے ان میں بھی 80فیصد تعصب پسند اور فرقہ پرست تھے جیسے مغربی بنگال میں پی سی سین تھے۔ اگر چہ وہ اپنے آپ کو گاندھین کہتے تھے مگر جب مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ ہوئے تو مسلمانوں پر ظلم و جبر ڈھائے۔ 1965ء کی ہندو پاک کی جنگ کے موقع پر سیکڑوں بے قصور مسلمانوں کو جیل میں بند کردیئے۔ ہندستان کی مختلف ریاستوں میں جو کانگریس کے زمانے میں فسادات ہوئے ان کی تعداد پچاس ہزار سے کم نہیں ہے۔ کانگریس نے انکوائری کمیشن ضرور بنایا مگر کسی کی سفارشات کو لاگو نہیں کیا اور نہ ہی فسادیوں کو سزا دلانے میں کسی قسم کی کوشش کی۔ میرٹھ، ملیانہ، آسام، احمد آباد وغیرہ میں جو فسادات ہوئے وہ بڑے پیمانے پر ہوئے۔ کانگریس کی حکومتیں تماشائی بنی رہیں۔ ان سب کے باوجود بی جے پی کے مقابلے میں کانگریس کو کم خراب (Lesser Evil) ہی کہا جاسکتا ہے۔ 
ایسے وقت میں جب کہ ملک کی ساری سیاسی جماعتیں کانگریس کی رہنمائی میں متحد اور منظم ہورہی ہیں سلمان خورشید کا بیان بے وقت کی شہنائی معلوم ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں کانگریس کی طاقت اور قوت کم ہوگئی ہے۔ مرکز میں اس کی حکومت نہیں ہے۔ چار پانچ ریاستوں کے علاوہ ساری ریاستوں میں حکمرانی سے محروم ہے۔ کانگریس کی اس وقت نئی قیادت راہل گاندھی کے ہاتھ میں ہے۔ راہل گاندھی یا ان کی ماں سونیا گاندھی کو نہ فرقہ پرست کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی مسلمانوں کا دشمن۔ منموہن سنگھ نے مسلمانوں کی بھلائی کیلئے سچر کمیٹی اور رنگ ناتھ مشرا کمیشن قائم کیا تھا جس سے مسلمانوں کا حال زار اعداد و شمار میں سرکاری سطح سے ملک کے عوام و خواص کو آگاہی ہوئی۔ یہ ایک بڑا کام تھا۔ ان دونوں رپورٹوں کی جو سچائی تھی اس سے یقینا کانگریس شرمسار ہوئی تھی۔ 
ملک کی ایک ریاست مغربی بنگال میں 34سال تک کمیونسٹوں کی حکومت تھی۔ معاشی لحاظ سے سب سے زیادہ بد حال مسلمان مغربی بنگال ہی میں ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کانگریس اور غیر کانگریس حکومتوں نے مسلمانوں کی ترقی اور بھلائی کیلئے کبھی سوچا ہی نہیں۔ مغربی بنگال میں یہ ضرور ہوا تھا کہ مسلمان معاشی ترقی زیادہ نہیں کرسکے مگر کمیونسٹوں کے راج میں فرقہ پرستوں کو نہ بڑھنے دیا گیا اور نہ ہی وہ بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 
سلمان خورشید ہوں یا ان کے والد اور نانا جان ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب کانگریسی تھے مگر ان سب میں کسی میں ایسی ہمت نہیں تھی کہ وہ مسلمانوں کے بارے میں کھل کر بول سکتے جب یہ حضرات کسی نہ کسی عہدہ یا منصب پر فائز تھے۔ ایک بار سلمان خورشید کے والد خورشید عالم خان جب وہ ٹیکسٹائل منسٹر تھے تو راجیو گاندھی کے پرنسپل سکریٹری مکھن لال فوتیدار نے شاہ بانو کے مقدمے کے فیصلے کے خلاف مسلمانوں کے علماء کے اثرات کے بارے میں تمام مسلم ایم پی اور وزراء سے معلومات کیلئے اپنے دفتر میں طلب کیا تھا۔ سارے لوگوں نے کہاکہ مولانا مولوی یا علماء کے کچھ اثرات نہیں ہوتے ۔ جب سب کہہ چکے تو خورشید عالم نے کہا کہ فوتیدار صاحب آج بھی مسلمانوں میں علماء کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ دوسرے روز فوتیدار نے خورشید عالم سے منہ کھولنے کے قصور پر وزارت سے استعفیٰ نامہ طلب کرلیا۔ 
ایک واقعہ اسی خاندان کا یہ قابل ذکر ملتا ہے اور دوسرا سلمان خورشید نے شاہ بانو کیس کا معاملہ جب گرمایا تھا تو انگریزی میں ایک کتاب "At Home India A Restatement of Indian Muslim" نام کی لکھی تھی جو اچھی کتاب تھی جس میں انھوں نے سچائی سے کام لیا تھا۔ موصوف نے اس زمانے میں راقم کو از راہ کرم عنایت کیا تھا۔ اسی وقت انھوں نے اپنے والد محترم کی جرأت مندی کا واقعہ سنایا تھا۔ ان دو چیزوں کے علاوہ کوئی چیز قابل ذکر اس خاندان سے نہیں ملتی۔ جب ملک میں فسادات ہورہے تھے تو یہ ہوش مند تھے۔ لندن سے پڑھائی کرکے آنے کے بعد جب اندرا گاندھی وزیر اعظم تھیں تو ان کی سکریٹریٹ میں تھے مگر اس وقت سے آج تک کوئی قابل ذکر کام ان کا نہیں ملتا ہے۔ جب موصوف اقلیتی امور کے وزیر تھے تو ایک بیان میں کہا تھا کہ سچر کمیٹی رپورٹ آیاتِ قرآنی نہیں ہے۔

 

Ads