Jadid Khabar

بھگوا دہشت گردی کا ’داغ‘ مٹا دیا گیا

Thumb

مکہ مسجد بم دھماکہ کیس میں سوامی اسیمانند اینڈ کمپنی کے باعزت بری ہوجانے کے بعد بی جے پی نے اپنی توپوں کا رخ ان لوگوں کے طرف موڑ دیا ہے جنہوںنے بھگوا دہشت گردی کو ملک کے لئے انتہائی خطرناک قراردیا تھا۔بی جے پی لیڈران سوال کررہے ہیں کہ جن لوگوں نے ’ہندوآتنک واد‘جیسے الزامات عائد کئے تھے انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہئے ۔بی جے پی کا ارادہ اس مسئلے کو کرناٹک کے چنائو میں انتخابی موضوع بنانے کا بھی ہے ۔دراصل جب سے مرکز میں بی جے پی اقتدار میں آئی ہے تبھی سے اعلیٰ پیمانے پر یہ کوشش کی جارہی تھی کہ کسی بھی طرح بھگو ا دہشت گردی کے ملزمان کو باعزت بری کراکے اپنے ماتھے سے دہشت گردی کا داغ ہمیشہ کے لئے مٹا دیا جائے ۔یہ الگ بات ہے کہ اس داغ کو مٹانے کی اب تک جتنی بھی کوششیں کی گئی ہیں‘وہ انصاف اور قانون کے وجود پر بہت بھاری پڑی ہیں۔بھگواد ہشت گردی کا داغ دھونے کے لئے جس طرح انصاف کے تقاضوں کو پامال کیا گیا ہے‘ وہ اپنی مثال آپ ہیں ۔جن ملزمان کے خلاف سینکڑوں گواہ موجود تھے اور جن کے خلاف ٹھوس ثبوتوں کا دعویٰ کیا گیا تھا‘ وہ سب کے سب یوں ہوا میں اڑ گئے جیسے ان کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ کل تک جو ملزمان قانون کی نگاہ میں سب سے بڑے مجرم تھے‘ وہ یکے بعد دیگرے یوں بری ہوتے چلے گئے گویا وہ سب دودھ کے دھلے تھے ۔آج شہید ہیمنت کرکرے کی روح سب سے زیادہ بے چین ہوگی کیونکہ یہی وہ شخص تھا جس نے اپنی بہترین پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر مالیگائوں بم دھماکوں میں سب سے پہلے بھگوادہشت گردی کا گھنائونا چہرہ بے نقاب کیا تھا اور ملک کو یہ بتایا تھا کہ آج تک آپ نے دہشت گردی کا صرف ایک ہی رخ دیکھا تھا آئیے اب دوسرا رخ دیکھئے جو کہیں زیادہ خطرناک اور تباہ کن ہے ۔مہاراشٹراے ٹی ایس کے سربراہ ہیمنت کرکرے کی یہ جرأت بھگوا دھاریوں کو ایک آنکھ نہ بھائی اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاںدی گئیں۔یہاںتک کہ ممبئی کے دہشت گردانہ حملوں میں پر اسرار طریقے سے ان کی جان چلی گئی ۔آج بھی یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر ہیمنت کرکرے کو کس نے قتل کیا تھا؟۔
حیدرآباد میں این آئی اے کی خصوصی عدالت کے جج نے مکہ مسجد بم دھماکے کے ملزمان کو بری کرنے کے ساتھ ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ۔یہ استعفیٰ اس لئے نہیں دیا گیا کہ وہ کسی قسم کے احساس جرم میں مبتلا تھے بلکہ فاضل جج بدعنوانی کے کئی الزامات کا سامنا کررہے تھے ۔انہیں اس سے قبل اپنے عہدے سے معطل کیا جا چکا تھا ۔یہاں تک کہ ایک مقدمے میں ضابطوں کے خلاف ضمانت دینے کے سلسلے میں کرپشن کے الزامات میں سی بی آئی ان کے خلاف جانچ کررہی ہے ۔ظاہر ہے این آئی نے ایسے ’با کردار ‘جج کو مکہ مسجد دھماکہ کیس کا فیصلہ سنانے کے لئے یوںہی مقرر نہیں کیا تھا ۔اتنا ہی نہیں اس کیس میں این آئی نے جس وکیل کو اسپیشل پبلک پراسکیوٹر مقرر کیا تھا وہ آرایس ایس کی طلبا تنظیم اے بی وی پی کا سرگرم کارکن رہ چکا تھا ۔یعنی سوامی اسیمانند اور ان کے ساتھیوں کو بری کرانے کے لئے بڑی سمجھداری کے ساتھ بساط بچھائی گئی تھی۔ورنہ این آئی اے کی خصوصی عدالت مکہ مسجد بم دھماکہ کیس میں پانچ ملزمان کو بری کرتے ہوئے یہ ہرگز نہ کہتی کہ جانچ ایجنسی نے اس معاملے میں وافر ثبوت مہیا نہیں کرائے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ 18مئی 2007کو حیدرآباد کی مشہور مکہ مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہوئے خوفناک بم دھماکوں میں 9نمازی شہید اور 58دیگر زخمی ہوگئے تھے ۔اس کے کچھ دیر بعد مشتعل مسلمانوں کے ہجوم کو قابو کرنے کے لئے پولیس نے جو فائر نگ کی تھی اس میں پانچ دیگر مسلمانوں کی جانیںچلی گئی تھیں ۔یہ وہ دور تھا جب ہماری جانچ ایجنسیاں ہر بم دھماکے کا قصوروار مسلم نوجوانوں کو قرار دیتی تھیں۔لہٰذامکہ مسجد بم دھماکہ معاملے میں حیدرآباد کے کئی بے قصور مسلم نوجوانوں کو دہشت گرد تنظیموں کا ممبر قرار دے کر گرفتار کر لیا گیا ۔حالانکہ یہ بات خلاف عقل تھی کہ آخر مسلمان ہی اپنے مسلمان بھائیوں کو عین نماز کے دوران کیوں قتل کریں گے لیکن پولیس اور جانچ ایجنسیوں نے اپنے ذہنی تعصبات کے تحت کارروائی انجام دی ۔یہ الگ بات ہے کہ بعد کو تمام گرفتار شدہ مسلم نوجوانوں کو بے قصور قرار دے کر رہا کردیا گیا اور انہیں پولیس نے معاوضہ بھی ادا کیا ۔اس کے بعد 2008میں مالیگائوں بم دھماکوں کی تحقیقات کرنے والے مہاراشٹر اے ٹی ایس کے سربراہ شہید ہیمنت کرکرے نے بھگوا دہشت گردی کا چہرہ بے نقاب کیا تو اس میں مکہ مسجد دھماکہ کے اصل قصوروار بھی گرفت میں آگئے ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ مالیگائوں بم دھماکہ ‘مکہ مسجد بم دھماکہ اور سمجھوتہ ایکسپریس کے واقعات کچھ ہی عرصہ کے دوران وقوع پذیر ہوئے ۔ ان تینوں میں دائیں بازوکی دہشت گرد تنظیم ابھینو بھارت کا نام سامنے آیا تھا ۔ان معاملوں پر ہندوستانی عوام ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی نظریں مرکوز تھیں۔کیونکہ اس میں ہندو پاک کے عوام کو جوڑنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کا بم دھماکہ بھی شامل تھا جس میں 67پاکستانی شہری ہلاک ہوئے تھے ۔لیکن ان تینوں معاملوں میں نہ صرف یہ کہ تحقیقات کی رفتار انتہائی سست رہی بلکہ جانچ کی سمت بھی تبدیل ہوتی رہی ۔مالیگائوں بم دھماکے میں تو خود سرکاری وکیل روہنی سالیان نے یہ الزام عائد کیا کہ ان پر این آئی اے کے اعلیٰ افسران ملزمان کے ساتھ نرمی برتنے کا دبائو ڈال رہے ہیں ۔مسز سالیان کے اس انکشاف کے بعد ہی یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ مستقبل میں بھگوا دہشت گردی کے مقدمات کا کیا انجام ہونے والا ہے ۔مکہ مسجد معاملے میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ مقامی پولیس ‘سی بی آئی اور این آئی اے جیسی چاق وچوبند ایجنسیوں کے ہاتھوں سے گزر کر گیارہ سال بعد جب معاملہ میں فیصلے کی گھڑی آئی تو عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ اسے وافر ثبوت نہیں مہیا کرائے گئے ۔اس معاملے میں سیدھا سوال تحقیقاتی ایجنسیوں کی صلاحیت پر کھڑا ہوتا ہے ۔ظاہر ہے جانچ ایجنسیاں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی بجائے اپنے سیاسی آقائوں کے حکم کی تعمیل کررہی تھیں۔
مالیگائوں ‘مکہ مسجد اور سمجھوتہ ایکسپریس کے دھماکوں میں تمام ہلاکتیں مسلمانوں کی ہوئی تھیںاور انہیں ایک منصوبہ بند سازش کے تحت نشانہ بنایا گیا تھا۔یہ دھماکے مسلمانوں سے انتقام لینے کے لئے کئے گئے تھے ۔اس کا اعتراف خود سوامی اسیمانند نے اپنے اقبالیہ بیان میں کیا تھا ۔سوامی اسیمانند نے یہ اقبالیہ بیان پولیس کے دبائو میں نہیںبلکہ دہلی کی تیس ہزاری عدالت کے میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کے سامنے دیا تھا اور یہ اقبالیہ بیان فرد جرم کا ایک اہم اور کلیدی حصہ تھا ۔سوامی اسیما نند نے اقبال جرم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہندوئوں اور ان کے مندروں پر حملے ہورہے تھے جس سے ہم لوگ غصے میں تھے لہٰذا انتقام کے لئے ہم نے مسلمانوں کے مذہبی مقامات پر حملوں کی سازش رچی ۔‘‘انہوںنے اپنے اقبالیہ بیان میں مکہ مسجد سمیت مختلف جگہوں پر دھماکوں کی سازش کا انکشاف کیا تھا ۔اسیمانند کا یہی اقبالیہ بیان مذکورہ تینوں بم دھماکوں میں ایک اہم ثبوت کے طور پر شامل تھا لیکن اس بیان کو یہ کہہ کر مسترد کردیا گیا کہ یہ دبائو میں لیا گیا بیان تھا جس مقصد بھگوا دہشت گردی کی تھیوری کو ثابت کرنا تھا ۔
مکہ مسجد بم دھماکہ میں سوامی اسیمانند اینڈ کمپنی کے بری ہونے کے بعد اب بی جے پی کے قائدین ان لوگوں سے معافی کا مطالبہ کررہے ہیں جنہوں نے ہندو دہشت گردی کی اصطلاح ایجاد کی تھی ۔اس معاملے میں نہ صرف اخباری بیانات بلکہ وکی لیکس کی رپورٹوں تک کا حوالہ دیا جارہا ہے ۔بی جے پی ترجمان سمبت پاترا کا کہنا ہے کہ کانگریس صدر راہل گاندھی نے 2009میں امریکی سفیر نے کہا تھا کہ ملک میں دہشت گرد تنظیم لشکرطیبہ سے کہیں زیادہ خطرہ ہندودہشت گرد تنظیموں سے ہیں۔اس معاملے میں بی جے پی ترجمان نے بھگوا دہشت گردی پر پی چدمبرم ‘سشیل کمار شندے‘دگ وجے سنگھ اور سلمان خورشیدکے چھ ویڈیو بھی دکھائے اور اس معاملے میں کانگریس صدر راہل گاندھی اور سونیا گاندھی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ۔لیکن سمبت پاترا نے خود مودی سرکار میں شامل ایک وزیر آر کے سنگھ کے بیان کا تذکرہ نہیں کیا جنہوں نے 2013میں آرایس ایس اور بھگوا تنظیموں کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کی بات کہی تھی ۔آر کے سنگھ بی جے پی میں شامل ہونے سے قبل یوپی اے کے دور میں وزارت کے داخلہ کے سب سے بڑے افسر تھے ۔انہوں نے 22جنوری 2013کو بھگوا دہشت گردی کی تھیوری دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس بات کے پختہ ثبوت موجود ہیں کہ سمجھوتہ ایکسپریس ‘مکہ مسجد اور اجمیر کی درگاہ میں ہوئے دھماکوں کے تار آرایس ایس سے جڑے ہوئے ہیں ۔انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ 10ملزمان آرایس ایس کا پس منظر رکھتے ہیں ۔کیا بی جے پی اپوزیشن لیڈروں سے معافی طلب کرنے کے ساتھ ساتھ مرکزی وزیر آرکے سنگھ سے بھی استعفیٰ طلب کرے گی؟

 

Ads