Jadid Khabar

آہ !جسٹس راجندر سچر

  • 21 Apr 2018
  • مرزاعبدالقیوم ندوی
  • مضامین
Thumb

آہ سچر صاحب
آپ نے ملک کو مسلمانوں کی حقیقی صورتحال سے اپنے تاریخ ساز دستاویزی شاہکار جسے دنیا’سچر کمیٹی رپورٹ‘ کے نام سے جانتی ہے واقف کراکے مسلمانوں کی منھ بھرائی کے طلسم کو توڑ دیا تھا۔ اس بدنامی کے داغ کو صاف کرنے میں کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے اور وہ ہمیشہ اپنے ووٹ بےنک کی خاطر مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑتی ہے، اس کو غلط ثابت کر دکھایا تھا۔ملک کے انصاف پسند شہریوں کی فہرست میں آ پ کا نام سنہرے لفظوں میں لکھا جائے گا 94 برس کی عمر میں آج ان کا انتقال ہوگیا۔موصوف دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس تھے۔ مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے حکومت ہند کےذریعے بنائی گئی سچر کمیٹی نے جو کا م کےاوہ سب کے سامنے ہے۔ سچر رپورٹ کی تیاری میں پیرانہ سالی کے باوجود انہوں نے انتھک محنت کی تھی ، آپ ہمیشہ حقوق انسانی کے کاز سے جڑے رہے۔
گزشتہ سال دہلی کے عالمی کتب میلہ میں ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ سچر صاحب رام منوہر لوہیا پر لکھی گئی کتاب کے رسم اجراءکے لیے تشریف لائیں تھے۔میں نے وہےں پر وقت نکال کر ان سے تفصیلی گفتگو سچر کمیٹی رپورٹ اور سابقہ وموجودہ حکومت کے رپورٹ پر رویہ پر بات کی تھی۔ انہوں نے ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنی جتنی محنت و کوشش کرنا تھی وہ کرلی مگر ہمیں بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دونوں ہی حکومتیں رپورٹ کے تئیں سنجیدہ نہیں ہےں۔ کانگریس نے آخر تک پارلیمنٹ میں اس رپورٹ کو بحث کے لیے پیش نہیں کیا اور موجودہ بی جے پی حکومت سے توقع رکھنا ہی بے کار ہے۔ میں نے کہا ملک میں موجودہ عدالتی نظام پر آپ کی کیا رائے ہے تو انہوں نے کہا کہ ملک کی مختلف عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں، انصاف ملنے میں دیری اور وکیلوں و ججوں کے موجودہ رویے نے عام شہریوں کو بدظن کردیا ہے۔ انہوں نے بڑے افسوس کے ساتھ کہا کہ فرقہ پرستوں سے خصوصاً آر ایس ایس کے ہندو راشٹر کے خواب کی تکمیل میں ہماری عدالتوں کے کئی ججز پس پردہ اور کبھی کبھی کھل کر حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں. مجھے اس وقت اس بات پر یقین نہیں آیا تھا، لیکن گزشتہ دنوں وی ایچ پی کی عالمی صدارت پر سابقہ ہائی کورٹ جج کوکیز کے انتخاب اور مکہ مسجد حیدرآباد بم دھماکے کے فیصلہ کے ساتھ سپریم کورٹ کے جسٹس لوےاکے کیس پر فیصلہ نے سچر صاحب کے اندیشوں اورخدشات کو سچ ثابت کردیا۔ گجرات فسادات کی ماسٹر مائنڈ مایا کوڈنانی کو بے گناہ ثابت کردیا ہے۔جسٹس راجندر سچر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ہم بس اتنا ہی کہہ سکتے ہیں "بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے"

 

Ads