Jadid Khabar

مکہ مسجد: ناانصافی کی ایک اور دستاویزپرمہر

  • 20 Apr 2018
  • سید منصور آغا، نئی دہلی
  • مضامین
Thumb

مکہ مسجد کیس میں عدالت کا جو فیصلہ آیا ہے اس سے کوئی حیرانی نہیںہونی چاہئے۔اس سے قبل گجرات نسل کشی کے کیسوں میں بھی ایسے ہی فیصلے آئے تھے جن میںملزمان بری ہوتے چلے گئے۔ لیکن جب سپریم کورٹ کے حکم پر کچھ کیسوں کو دوبارہ کھولا گیا توپتہ چلا کہ استغاثہ نے جان بوجھ مقدموںکوکمزورکیا تھااور ملزمان کو بچایا تھا۔ چنانچہ پہلے جو بری ہو گئے تھے ،دوبارہ سماعت میں قصوروار پائے گئے اورجیل گئے۔ 
مکہ مسجد کیس میں اب جو ملزم بری ہوئے ہیں،وہ توپیادے تھے جو کسی خاص مقصد کو پورا کرنے کے لئے کام کر رہے تھے۔ لیکن حکومت سازش رچنے والوں پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے فرضی کہانیاں سناتی رہی۔موجودہحکومت میں ان ملزمان کو سزاہوجانے کا تصوربھی محال تھا۔ اس کااشارہ 2015میں مل گیا جب مالیگاو¿ںکیس میں خصوصی سرکاری وکیل روہنی سالین نے انکشاف کیا تھا کہ ’مرکز میں نئی سرکارآتے ہی ان سے کہا گیاکہ دہشت گردکیسوں میں نرم رویہ اختیارکریں۔‘ مالیگاو¿ں، درگاہ اجمیر شریف، سمجھوتہ ایکسپریس اورمکہ مسجد بم دھماکہ سمیت دہشت گردی کے 9 کیس این آئی اے کے پاس تھے اور ان تمام میں اطلاعات کے مطابق گھریلودہشت گرد شامل تھے جن کا مقصد ملک میں مسلمانوںکے خلاف نفرت کا ماحول بنانا تھا۔مکہ مسجد کیس کی پیروی تو اس طرح ہوئی کہ اس میں این آئی اے نے جن مسٹراین ہری ناتھ کو سرکاری وکیل مقرر کیا تھا انہوں نے خود اعتراف کیاہے کہ طالب علمی کے زمانے میں اے بی وی پی سے جڑے رہے ۔بعد میں اس کی سرگرمیوں میں مدد کرتے رہے ۔ سوال یہ بھی ہے کہ ہماری وہ ملی تنظیمیں جو دہشت گردی کے کیسوں میں اپنی کامیابیوں کے دعوے کرتی رہتی ہیں، اس کیس سے بے خبرکیسے رہیں اوراس کی پیش رفت میں خامیوںپر نظرکیوں نہیں رکھی ؟افسوس کہ ہماراملک ایسے دورسے گزررہا ہے جس میں حکمراں قانون کی دانستہ پامالی اورمظلوموں کے ساتھ ناانصافی پر جری ہیں۔ ابھی تومحترم وزیر اعظم کے اس بیان کی گونج بھی کم نہیں ہوئی تھی کہ کٹھوعہ اوراناو¿ کی مظلوم بیٹیوں کوانصاف دلایا جائیگا کہیہ فیصلہ آگیا اورپتہ چل گیا کہ اس دورحکومت میں انصاف کا مطلب کیاہوسکتا ہے۔
لیکن اس فیصلے کے لئےعدالت کو مطعون کرنا سخت زیادتی ہے۔ عدالت کسی مفروضہ پرنہیں بلکہ شواہد اورسرکاری وکیل کے دلائل پرفیصلہ کرتی ہے ۔عدالت نے صاف کہا ہے کہ استغاثہ نے شواہد ہی پیش نہیں کئے اورجرم ثابت کرنے میںناکام رہا،اس لئے ملزمان بری ہوگئے۔اسپیشل این آی اے جج رویندرریڈی نے فیصلہکس کرب کے عالم میں لکھا ہوگا، اس کا اندازہ اس بات سے کرسکتے ہےں کہ فیصلہ سناتے ہی انہوں نے منصب سے استعفے دیدیا۔وجہ کچھ بھی بیان کی جائے، مگر جج لویا کے انجام کو کون بھول سکتا ہے؟ سپریم کورٹ کے جج ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ سرکار عدالتی کام میں دخل دے رہی ہے۔ اگرسرکاری مداخلت سے سپریم کورٹ متاثر ہے توذیلی عدالتوںکا کیا کہنا؟ اس کیس میں استغاثہ، یعنی این آئی اے توبراہ راست سرکار کے انگوٹھے کے تلے ہے۔ حکومت کو فکرانصاف کی ہوتی تو شواہد پیش کرنے سے کیسے گریز کیا جاسکتا تھا؟
اب زراکچھ پچھلے اوراق بھی کھول لیں۔بم دھماکوںکا یہ واقعہ 18مئی 2007کو پیش آیا ۔ شہرمیںفسادہوا۔گولی چلی۔ کل ملاکر جس میں 11افراد مارے گئے۔فوراًچندمسلم نوجوان ملزم بنا کر گرفتار کرلئے گئے۔اس وقت مرکز میں یوپی اے سرکار تھی۔ مسٹرشیوراج پاٹل مرکزی وزیرداخلہ اور راج شیکھر ریڈی ریاست کے کانگریسی وزیراعلیٰ تھے۔ابھی تفتیش شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ ریاست کے اعلیٰ پولیس افسران نے اگلے ہی دن جرم کی ایسی تفصیلات بیان کیں جیسے ان کے پاس پہلے سے ہی ساری اطلاعات موجود ہوں۔ مثلاً قطعی طورسے کہا گیا کہ اس سازش کا اصل دماغ حوجی کا سرغنہ بلال عرف سہیل ہے جس نے بنگلہ دیش سے سازش کوانجام دیا۔اس کے مقامی ساتھیوں نے مسجد میں بم رکھ کرموبائل پر ایم ایم ایس بنا کر بلال کو بنگلہ دیش بھیجے۔اس نے وہاں سے ریموٹ کنٹرول سے دھماکے کئے۔دوبم جوگیٹ کے پاس رکھے تھے کیوں نہیںپھٹے؟ اس کا جواز یہ دیاگیاکہ وہاں افراد کم تھے،بلال نے اس لئے ان میں دھماکہ نہیں کیا۔ بموںمیں جو سم کارڈ استعمال ہوئے وہ کلکتہ سے خریدے گئے تھے۔ گمان ہے کہ اس میں سہیل کے بھائی جلیل نے مدد کی جس کی موبائل کی دوکان ہے۔ دھماکوںکے لئے آرڈی ایکس اورٹی این ٹی استعمال کیاگیا جو ہندستان میںدستیاب نہیں اوربنگلہ دیش سے لایا گیا تھا۔ (ٹائمزآف انڈیا، 20مئی 2007)
اس رپورٹ سے لگتاتھا کہ پولیس نے ڈرامائی انداز میں چند گھنٹوںمیں ہی پورا کیس حل کر لیا۔ فوری طورسے تین مقامی نوجوانوںکو ملزم بناکر گرفتارکرلیا۔(بعد میں 29اورپکڑے گئے۔ جن کو اسیمانندکے اقبال جرم کے بعد رہا کرناپڑا )۔20مئی کوہی پونا کے ایک اخبار’سکال‘ نے اس سے مختلف تفصیلات بیان کیں۔ اس کے مطابق بلال کا تعلق حوجی کے بجائے جیش محمد سے تھا۔ کہا گیا کہ جو دوبم پھٹے نہیں ان میں استعمال سم کارڈ بلال نے خود کلکتہ سے خریدے تھے اوروہ اس لئے نہیں پھٹے کہ ان سم کارڈس نے سگنل کو قبول نہیں کیا۔ یہ دھماکے بالکل ایسے تھے جیسے ممبئی کی ٹرینوں میں اورایس ٹی ایف کے ہیڈ کوارٹر پرہوئے تھے۔ ان دھماکوںکے لئے بھی بلال عرف سہیل کو ہی ماسٹرمائنڈقراردیا گیا تھی۔
21مئی کو ٹائمزآف انڈیا نے ایک تیسری کہانی بیان کی جو کلکتہ سے آئی ۔ اس کے مطابق کلکتہ پولیس نے ممبئی بم دھماکوںکے مبینہ سرغنہ سمیر اورمکہ مسجد دھماکوں کے مذکورہ ماسٹرمائنڈ بلال کے درمیان تعلق کا پتہ لگالیا ہے۔ دعوا کیاگیا کہ سمیرکلکتہ میں پھل فروشی کی آڑ میں جیش محمد کی سرگرمیاں چلا رہاتھا اوراس نے ہی ایس ٹی ایف دھماکے کے بعد بلال کو بنگلہ دیش بھیج دیاتھا۔ مذکورہ سم کارڈ آسنسول کے بابولال یادو نام کے کسی شخص کے ڈرائیونگ لائسنس پر فروخت ہوئے تھے لیکن بابولال کا کچھ اتا پتہ نہیںملا اس لئے پولیس نے قیاس کیا کہ یہ جعلی لائسنس سمیرنے بنواکر بلال کو دیا تھا۔جس نے سم کارڈ حاصل کئے۔
چوتھی کہانی این ایس جی کے بم ماہرین کے حوالے سے یہ آئی کہ یہ بم قطعی ویسے تھے جیسے مالیگاو¿ں میں استعمال ہوئے۔ اس مماثلت کا توجواز ہے کہ یہ سارے دھماکے خانہ زاد دہشت گرد گروہوں کے کرتوت ہیں جن کے سرے مبینہ طورسے بھگوا برگیڈ سے ملتے ہیں۔ کرکرے کی جانچ کے مطابق ان کو یہ دھماکہ خیز مادہ کرنل پروہت نے فراہم کیا تھا جومالیگاو¿ں کیس میں گرفتارہوئے۔
پانچویں کہانی وہ ہے جو ایس ٹی ایف کے حوالے سے اخباروں میں شائع ہوئی۔ لب لباب ان کا یہ ہے:کہ سارے کرتوت جالنہ کے صہیب جاگیردارکے ہیں جو چوری کےمعاملہ میں پکڑاگیا تھا۔ مگر’پوچھ تاچھ ‘ کے دوران پولیس نے اس سے قبول کرالیا کہ اس کوغیرملک سے ڈیڑھ کلو آرڈی ایکس حاصل ہوا تھا۔ کس سے اورکیسے ،اس کا ذکرنہیں۔ صہیب غیرقانونی طور سے چارپاکستانیوں کو لایا تھا اوران کے ساتھ فروری میں حیدرآباد کی ریکی کی تھی۔اب سمیراورصہیب کے رشتے تلاش کئے جارہے ہیں۔اب کیونکہ حوجی کا بلال حیدرآباد دھماکے میںاور سیمی کے لڑکے مالیگاو¿ں دھماکے میں مبینہ طورسے ماخوذ تھے اس لئے اب سیمی اورحوجی کے رشتے تلاش کئے جارہے ہیں۔ (ٹائمس آف انڈیا، 26 مئی 2007)۔پونا کے ایک مقامی اخبارپدھاری نے ایک الگ ہی کہانی بیان کی جس کے مطابق بلال کے بھائی ماجدنے نارکوٹسٹ میں بتادیا کہ اصل ہاتھ داو¿د ابرہیم کا تھا۔ 
اس وقت مرکزی وزیرداخلہ مسٹرپاٹل نے بھی دھماکوںکے دوسرے ہی دن پولیس کے گمان پر مہر تصدیقلگادی۔ان قیاسات کی بنیادمبینہ طورپر آئی بی سے موصولہ معلومات یا ہدایات ہیں۔ لیکن یہ بات صاف ظاہر ہے کیس کی پیشہ ورانہ انداز میںتفتیش کے بجائے کچھ قیاسات کو اہمیت دیکر 32نوجوانوںکامستقبل تباہ کیاگیا۔پس پردہ وجہ شایدیہ رہی کہ سرکار اورتفتیشی ایجنسیوں کی توجہ جرم کی گتھی سلجھاکرخطاکاروںکو سزادلانے بجائے ان وارداتوںسے فائدہ اٹھا کر پڑوسی ممالک کو مطعون کرنے پر رہی ۔ پالیسی کی اس ترجیح سے کیا قومی مفاد حاصل ہوا، یہ توواضح نہیں البتہ اصل خطاکار بچ نکلے جن کے سرپر بہت سے بے قصورانسانوں کا خون ہے۔ ہم جانتے ہیں کی شرپڑوسی بھی کرتے ہیں، لیکن کچھ فساد تو ہمارے ’دیش بھکت ‘ بھی برپاکراتے ہیں۔ان کونظراندازکرنا قرین انصاف نہیں۔ خیال رہے کہ اس وقت بنگلہ دیش میںخالدہ ضیا کی سرکا ر تھی اورہردہشت گردانہ جرم کے تار حوجی سے جڑجاتے تھے۔ جیسے ہی وہاں کی سرکار بدلی حوجی کا ذکرآنابند ہوگیا۔اس کاآج تک کچھ سراغ حسینہ حکومت کوبھی نہیںملا۔
مجھے اس وقت پاکستان کے ایک فقیرمنش شاعرساغرصدیقی کا شعریاد آرہاہے:
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس دور کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
جس دور میںمظلوموں کوانصاف نہ ملے اس دورکے حکمراں اپنے راج دھرم سے ہٹ گئے اور اخلاقا مجرم ہیں۔ موقعہ کی مناسبت سے ایک لوک کہانی بھی سن لیجئے۔ ایک بادشاہ کا گزرایک ہرے بھرے باغ سے ہوا۔مالی نے اجنبی مہمان کی تواضع انارکے رس سے کی۔بادشاہ یہ دیکھ کرحیران رہ گیا کہ ایک ہی انار کے رس سے پیالہ بھر گیا۔ اس کی نیت میں خلل آگیا۔ اس وقت توچلا گیا۔چندروز بعدپھرادھرسے گزرا توکیادیکھتا ہے باغیچہ کی شادابی پہلے جیسی نہیں رہی۔ وہ رکا۔ مالی نے آج پھراس کی ضیافت کے لئے انارکا رس نکالا ۔مگر کئی انارنچوڑنے کے باوجود پیالہ بھرا نہیں ۔بادشاہ نے اس سے پوچھا کیا ماجرا ہے، پہلے تمہاراباغیچہ خوب ہرابھرا تھا۔ ایک انارمیںہی پیالہ بھر گیا تھا، اب کیاہوگیا ؟تواس سادہ لوح نے سیدھا سا جواب دیا، لگتا ہے ہمارے بادشاہ کی نیت میں کچھ خلل آگیا ہے اسی لئے خوشحالی اور برکت جاتی رہی۔
 مکہ مسجد کے شہداءاورمظلومین کوانصاف اس لئے نہیں ملا کہ سرکار کی نیت میں خلل آگیا۔ چاہتی توجس طرح علیم الدین کیس میں جھارکھنڈ میں آنا فانا خطاکاروںکوسزاہوگئی اس میں بھی ہوجاتی۔علیم الدین کو گﺅ رکشکوں نے پیٹ پیٹ کرماردیا تھا۔ایک آدھ کوچھوڑ کرہمارے جج اور پولیس افسرفرض شناس اوراہل ہیںمگران کو پیشہ ورانہ انداز میں کام نہیںکرنے دیا جاتا۔سیاست دانوں کا دباو¿ رہتاہے جس سے انصاف کا خون ہوتا ہے۔ آج جو تاحد نظرشعلے ہی شعلے اٹھتے نظرآرہے ہیں اس کی وجہحکمرانوںکی یہی بے کرداری ہے۔ بقول ساغرصدیقی
تاحد نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن میں
پھولوں کے نگہبان سے کچھ بھول ہوئی ہے
سنا ہے کٹھوعہ کیس میں بھاجپا یہ جانچ پڑتال کررہی ہے کہ اس کے مستعفی وزیروں نے جو خطاکاروں کی حمایت میں جلوس میں حصہ لیا، وہ ہندو¿ں کے مفاد میں تھا یا نہیں؟ اگرتھا، توان کو دوسرا موقع دیا جاسکتا ہے۔ اگرسوچ یہ ہے کہ انصاف کاچاہے خون ہوجائے، مگرفرقہ پرستانہ ہندتووا کا جھنڈابلندرہے تو سوچئے ملک کدھر جا رہا ہے۔

 

Ads