Jadid Khabar

برقع اور ٹوپی سے بیر کیوں؟

Thumb

’انڈین ایکسپریس‘ میں ایک مہینے سے جاری بحث جو کہ سونیا گاندھی کے بیان پر ہرش مندر کے مضمون اور جواب الجواب کے طور پر رام چندرا گوہا کے مضمون کے بعد سے شروع ہوئی تھی ‘ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ آج (10 اپریل2018) کے’انڈین ایکسپریس‘ میں ایک بار پھر سے دونوں مضمون نگاروں نے اپنے اپنے موقف کو مزید وضاحتوں کے ساتھ دہرایا ہے۔ ہرش مندر کا مضمون کانگریس کے ذریعہ مسلمانوں کو منجدھار میں چھوڑ دینے اور انہیں اپنی انتخابی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرانے کے حوالے سے تھا جسے  رام چندرا گوہا کہیں اور لے گئے اور خود مسلمانوں کو ہی ان کی زبوں حالی کا ذمّہ دار ٹھہرا ڈالا اور برقعے اور داڑھی کا موازنہ ہندو احیاء پرستی کی علامت ترشول اور زعفرانی پٹّی سے کر ڈالا آج کے مضمون میں بھی انہوں نے کوئی نئی بات نہیں کہی ہے سوائے اس کے کہ اس بار برقعے کے خلاف بھیم راؤ امبیڈکر کے بیانات نقل کئے ہیں اور مسلمانوں سے یہ امید کی ہے کہ وہ اپنی عورتوں کو برقعہ نہیں پہنائیں گے اور حمید دلوائی کو وہی جگہ دیں گے جو دلتوں کی نظر میں امبیڈکر کی ہے۔ 
ابھی ہمیں اس قسم کے بہت سارے مشورے ملیں گے اور یہ بحث کافی دنوں تک چلے گی۔فی الحال گوہا کا مضمون پڑھ کر مجھے دشینت داوے یاد آ گئے ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ انہیں ’’برقعہ اور داڑھی سے احتراز کرنا چاہیے تاکہ ہندو انتہا پسندوں کو اْن پر حملہ کرنے کا بہانہ نہ ملے۔ یہ مشورہ انہوں نے پچھلے دنوں جامعہ کلیکٹِو کے ایک پروگرام میں دیاتھا۔ جامعہ کلیکٹِو بی بی سی کے صحافی اقبال احمد کے ذریعہ قائم کیا ہوا ایک پلیٹ فارم ہے جو ہر ماہ دہلی کے جامعہ نگر علاقے میں واقع سیدہ حمید کے گھر پر’گفتگو‘ کے عنوان سے ایک نشست کا اہتمام کرتا ہے جس میں صحافیوں، قلمکاروں، آرٹسٹوں، سماجی کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کو اپنی بات رکھنے کی دعوت دی جاتی ہے جس کے بعد شرکاء کو یہ موقعہ ہوتا ہے کہ مقرر سے براہ راست مکالمہ کر سکیں۔
دْشیَنت دَاوے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہیں جن کا شمار ہندو انتہا پسندی کے مخالفوں میں ہوتا ہے جس کا اظہار وہ اخبارات میں اپنے مضامین اور ٹیلی ویژن چینلوں پر ہونے والی بحثوں میں کرتے رہتے ہیں۔ وہ اپنا شمار مسلمانوں کے ہمدردوں میں کرتے ہیں اور خود ان کے دعوے کے مطابق وہ مظلوم مسلمانوں کا مقدمہ بغیر فیس لئے اور اکثر اپنی جان پر کھیل کر لڑتے ہیں. جامعہ کلیکٹِو کے پروگرام میں ان کی گفتگو کا موضوع مسلمان نہیں تھے۔ وہ بات کر رہے تھے عدلیہ کی زبوں حالی کی جوان دنوں سپریم کورٹ کے چار سینئر ججز کی طرف سے چیف جسٹس پر لگائے گئے الزامات کے بعد زیر بحث ہے. جب سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو اْن سے ایک سوال’ہیٹ کرائم‘یعنی نفرت پر مبنی جرائم پر کیا گیا جس کے جواب میں ان سے امید تھی کہ وہ اس میں ملوّث لوگوں کے خلاف ہونے یا نہیں ہونے والی قانونی کاروائی پر روشنی ڈالیں گے. مگر انہوں نے جو کچھ کہا وہ چونکا دینے والا تھا. انہوں نے ایک طرح سے مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کا ذمّہ دار خود انہیں ہی ٹھہرا ڈالا. ان کا کہنا تھا کہ مسلمان عورتوں کو برقعے میں اور مردوں کو داڑھی کے ساتھ مخصوص حلیہ میں دیکھ کر چند لوگوں کو غصّہ آجاتا ہے چنانچہ مسلمانوں کو برقعہ اور داڑھی تج دینا چاہئے تاکہ دشمنوں کو ان پر حملہ کرنے کا بہانہ نہ ملے۔ ان کا جواب اتنا غیر متوقعہ تھا کہ اس کے بعد گفتگو کا اصل موضوع پیچھے رہ گیا اور بات مسلمانوں کے آئینی اور جمہوری حقوق کے حوالے سے ہونے لگی جس کے جواب میں موصوف اپنی انسان دوستی اور مسلم پرستی کی قسمیں کھاتے رہے مگر کسی بھی سوال کا کوئی تشفّی بخش جواب نہیں دے سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ "مٹھی بھر ہندو ایسے ہیں جنہوں نے پورے ملک میں دہشت کا ماحول بنا رکھا ہے." مگر وہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکے کہ اْن "مٹھی بھر" لوگوں کے خلاف ہندو اکثریتی طبقہ، خاص کر ان کا دانشور طبقہ، کیا کاروائی کر رہا ہے۔ 
ہم دْشیَنت دَاوے کی نیت پر شبہ نہیں کر رہے ہیں۔ نہ ہی ان کی خدمات سے انکار مگر ان کی زبان سے نکلا ہوا بے ساختہ جواب اور رام چندر گوہا جیسے دانشوروں کا انداز فکر ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ ضرور ہے۔ نریندر مودی کے صرف چار سال کے اقتدار میں ملک کے حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ اکثریتی طبقے کا وہ گروہ جسے مسلمان اپنا مسیحا سمجھتے ہیں وہ اپنے آپ کو بے بس سمجھنے لگا ہے یا پھر آر ایس ایس کے پروپگنڈہ کا اثر لینے لگ گیا ہے۔ وہ خود خوف زدہ ہو کر مصلحت کی چادر اوڑھے بیٹھا ہے اور اب مسلمانوں کو بھی خوف میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ مسلمانوں کامسئلہ یہ ہے کہ وہ ان جیسوں کو اپنی محفلوں میں بلاکر ان کی عزت افزائی کرتے ہیں اس امید پر کہ ان سے کوئی رہنمائی ملے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ رہنمائی ملنے کی بجائے اکثر ہمارے حصّے میں لعنت و ملامت آتی ہے۔کبھی ایسا جان بوجھ کر کیا جاتا ہے اور کبھی نا سمجھی میں۔ 
’انڈین ایکسپریس ‘میں جاری بحث بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی کے ذریعہ مسلمانوں پر لگائی گئی تہمت کہ ان کی وجہ سے ان کی پارٹی کا امیج’مسلم پرست‘ ہو کر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے کانگریس کے حصّے میں مسلسل انتخابی محرومی و ناکامی ہاتھ آرہی ہے ایک بے ہودہ بیان تھا جس کی سخت الفاظ میں نہ صرف مسلمانوں کی طرف سے بلکہ تمام ہندوستانیوں کی طرف سے مذمت ہونی چاہیے تھی۔انہیں یہ یاد دلایا جانا چاہیے تھا کہ آزادی کے بعد سے پچاس سال تک ان کی پارٹی جو اقتدار میں رہی اس کا کریڈٹ مسلمانوں کو بھی جاتا ہے۔ اور آج بھی اگر وہ اقتدار میں واپس آئے گی تو یہ بھی مسلمانوں کی وجہ سے ہی ممکن ہو سکے گا۔ مگر افسوس کہ سونیا گاندھی کو کم از کم مسلمانوں کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ عام طور پر مسلم قائدین نے یا تو ان کے بیان کو نظر انداز کیا یا پھر مصلحتاً خاموش رہے۔ 
ہرش مندر نے اپنے پہلے مضمون میں ایک دلت لیڈر کے بیان کا حوالہ دیا تھا جس میں اس نے مسلمانوں کو مشورہ دیا تھا کے وہ اس کی میٹنگوں میں ضرور آئیں مگر برقعہ اور ٹوپی میں نہیں۔یہ انکشاف سونیا گاندھی کے بیان سے کچھ کم افسوسناک نہیں۔ یہ ہمارے لئے دوسرا بڑا جھٹکا ہے کہ ہم دلتوں کی نظر میں بھی اچھوت ٹھہرے۔ اس صورت حال پر سنگھ پریوار کے لوگ خوش ہوں اور مسلمانوں کو طعنہ دیں تو بات سمجھ میں آتی ہے مگر رام چندر گوہا جیسے لبرل اور پروگریسو سمجھے جانے والے دانشور اْس دلت لیڈر کے مشورے کو جائز قرار دیں اور برقعے کا موازنہ ترشول سے کریں تو یہ بھی ایک جھٹکا ہے۔دْشیَنت دَاوے جیسے ہمدرد بھی ہمارے حوصلوں کو پست کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔

 

Ads