Jadid Khabar

’’ورنہ میرے آنسو پورے شہر کو جلادیتے‘‘

Thumb

پرانی کہاوت ہے کہ ’’دنیا کا سب سے بڑا بوجھ بوڑھے باپ کے کاندھے پر جوان بیٹے کا جنازہ ہوتا ہے۔ ‘‘

ظاہر ہے جس شخص نے اپنے جواں سال بیٹے کی دردناک موت کا غم برداشت کیا ہو اس کے صبر وضبط کو آپ لفظوںمیں بیان نہیں کرسکتے۔ اس پہاڑ جیسے غم کو برداشت کرنے کی ہمت اور حوصلہ وہی شخص دکھا سکتا ہے جو غیر معمولی ہمت اور عقل وشعور کا انسان ہو۔ورنہ عام حالات میں ایسے موقع پر انسان کا دل پھٹ جاتا ہے اور وہ اپنا آپا کھوبیٹھتا ہے۔ مغربی بنگال کے آسنسول شہر میں نورانی مسجد کے امام مولانا امداداللہ رشیدی نے اپنے جواں سال بیٹے کے وحشیانہ قتل پر صبر وضبط اور تحمل وبرداشت کی جو نظیر پیش کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس کی جتنی بھی پذیرائی کی جائے وہ کم ہے۔ نہ صرف یہ کہ انہوں نے انسان نما درندوں کے ہاتھوں انتہائی وحشیانہ طریقے سے قتل کئے گئے اپنے بیٹے کی ادھ جلی لاش دیکھ کر صبر وتحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا بلکہ اپنے آس پاس جمع ان سینکڑوں لوگوں کو ایسی تلقین کی کہ اگر اس پر عمل کی داستان طویل کی ہوجائے تو اس ملک میں فرقہ وارانہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوسکتا ہے اور لوگ ایک دوسرے کے ہمدرد اور غمگسار بن سکتے ہیں۔ 
آسنسول مغربی بنگال کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے جہاں رام نومی کے موقع پر شرپسندوں نے منصوبہ بند طریقے سے فساد کی آگ بھڑکائی۔ آسنسول کے علاوہ مغربی بنگال کے تین دیگر شہروں میں فساد برپا کیاگیا جس کی زد میں آکر کم وبیش 4لوگوں نے اپنی زندگیاں گنوادیں۔لیکن ان میں آسنسول کی نورانی مسجد کے امام مولانا امداداللہ رشیدی کے جواں سال بیٹے کا وحشیانہ قتل ایک ایسی تاریخ رقم کرگیا جسے بہت دور تک اور دیر تک یادرکھا جائے گا۔ امام صاحب کا 16سال کا نوجوان بیٹا حافظ صبغتہ اللہ شورشرابہ سن کر گھر سے باہر نکلا تو فسادیوں میں کہیں گم ہوگیا۔ کافی دیر تک جب وہ گھر نہیں لوٹا تو اس کا بڑا بھائی ڈھونڈتے ڈھونڈتے مقامی پولیس اسٹیشن جا پہنچا جہاں پولیس نے اس کی مدد کرنے کی بجائے خود اسی کو فسادی قرار دے کر تھانے میں بٹھالیا اور گرفتار کرنے کی دھمکی دی۔ امام مولانا امداداللہ نے کسی نہ کسی طرح اپنے بڑے بیٹے کو پولیس کے چنگل سے باہر نکالااور حافظ صبغتہ اللہ کی تلاش جاری رکھی۔ لیکن وہ اپنی کوششوں میں ناکام رہے۔ اگلی صبح مولانا امداداللہ کے پاس اسپتال سے فون آیا اور انہیں ایک لاش کی پہچان کرنے کے لئے وہاں بلایا گیا۔ جیسے تیسے وہ خود کو سنبھال کر وہاں پہنچے تو پایا کہ وہ لاش ان کے جواں سال بیٹے حافظ صبغتہ اللہ کی تھی۔ اسے بڑی بے رحمی سے پیٹ پیٹ کر قتل کیاگیا تھا اور لاش ادھ جلی حالت میں مردہ خانے میں رکھی ہوئی تھی۔ ظاہر ہے یہ ایک ایسا منظر تھا جسے دیکھ کر باپ کا کلیجہ پھٹ سکتا تھا۔ لیکن امام صاحب نے اسے مشیت ایزدی قرار دے کر قبول کرلیا۔ لاش جب گھر آئی تو لوگوں کا ایک سیلاب امڈآیا اور سب کے اندر انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔ مگر امام صاحب کی ہمت، حوصلہ اور سوجھ بوجھ تو دیکھئے کہ انہوں نے مشتعل لوگوں کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کہاکہ’’ خبردار اگر کسی نے انتقام کے جذبے سے ایک قدم بھی آگے بڑھایا۔ اگر کسی نے انتقا م لینے کے خیال سے کوئی کام بھی کیا تو میں مسجد کی امامت ہی نہیں بلکہ آسنسول چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے کہیں چلا جاؤں گا۔‘‘ اس تلقین کے نتیجے میں مشتعل لوگوں کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوا اور آسنسول شہر ایک بڑی تباہی سے بچ گیا۔ 
مولانا امداداللہ رشیدی کے اس لافانی کردار کو پورے ملک میں خراج تحسین پیش کیاگیا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے انگریزی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے ’’فردواحد کی طاقت‘‘ کے عنوان سے جو اداریہ تحریر کیا ہے اس میں لکھا ہے کہ ’’مولانا امداداللہ نے اپنے ذاتی غم واندوہ کو نظرانداز کرکے جس طرح ایک مشتعل ہجوم کو خاموش کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ظاہر ہے کوئی بھی شخص شدید اشتعال ، غم واندوہ ، ناانصافی اور ایسے نقصان کی صورت میں ایسی مثال کیونکر پیش کرسکتا ہے۔ ‘‘اخبار نے مولانا امداد اللہ کے حوصلے کی داد دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے مولانا کے جواں سال بیٹے کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچا کر ان کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ’’ مولانا امدا داللہ کسوٹی پر کھرے اترنے والے شہری ہیں جنہوں نے ہندوستان کے سیکولر آئین اور ملی جلی تہذیب پر مشتمل معاشرے اور اپنے ذاتی انسانی کردار سے ہم سب کو حوصلہ دیا ہے۔ آئیے ہم سب ان جیسا بننے کی کوشش کریں۔‘‘ ٹائمز آف انڈیا کے اس اداریہ کے علاوہ انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ میں مولانا امداداللہ کو ’مہاتما‘ کے خطاب سے نوازتے ہوئے ملیالم زبان کے ایک بڑے ادیب ایس گوپال کرشنن نے زبردست خراج تحسین پیش کیاہے۔ 
مولانا امداداللہ رشیدی نے اپنے اوپر گزرنے والی اس واردات کو بڑے دردناک انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’ میں امن چاہتا ہوں۔ میرا بیٹا چلاگیا۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی دوسرا خاندان اپنا بیٹا کھوئے۔ میں نہیں چاہتا کہ اب اور کسی کا گھر جلے۔ میں نے لوگوں سے کہا ہے کہ اگر میرے بیٹے کی موت کا بدلہ لینے کے لئے کوئی کارروائی کی گئی تو میں آسنسول چھوڑ کر چلاجاؤں گا۔ میں نے لوگوں سے کہاکہ اگر آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں تو کسی کے اوپر انگلی بھی نہیں اٹھائیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہاکہ ’’میں پچھلے تیس سال سے یہاں پر امام ہوں۔ میرے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کو صحیح پیغام پہنچاؤں اور وہ پیغام ہے امن اور بھائی چارے کا۔ مجھے ذاتی نقصان سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ ‘‘ واردات کی تفصیل مزید بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’رام نومی کا دن تھا۔ بیٹا نماز پڑھ رہا تھاکہ اچانک باہر سے ہنگامے کی آواز آئی اور وہ باہر دیکھنے چلاگیاکہ معاملہ کیا ہے۔ تبھی وہ بھیڑ میں کہیں گم ہوگیا۔ ہم تلاش کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ فساد کے دوران گھر سے باہر نکلا ہوا ہر شخص فسادی نظر آتا ہے۔ اس کی تلاش میں نکلے تو بڑے بیٹے کو پولیس نے پکڑلیا۔ جیسے تیسے اسے چھڑایا تو اگلی صبح اسپتال سے فون آیا ۔ ہمیں ایک لاش کی تصدیق کے لئے بلایاگیا تھا۔ جیسے تیسے خود کو سنبھالتے ہوئے وہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ لاش بیٹے ہی کی تھی۔ 16سال کا مضبوط قدوقامت کا میرا بچہ۔ اسے اس طرح مارا گیا تھا کہ کوئی اس کی حالت دیکھ کر برداشت ہی نہیں کرسکتا تھا۔ میں بلک بلک کر رونے لگا تو اچانک یاد آیا کہ میں صرف ایک باپ نہیں ہوں بلکہ 30برس سے محلے کی مسجد کا امام بھی ہوں۔ میرے آنسو لوگوں کے اندر غصے کا سیلاب لاسکتے ہیں ۔ پہلے سے جل رہا شہر پوری طرح خاک ہوسکتا ہے۔ میں نے آنسو پونچھ لئے۔ ‘‘
امام صاحب کی یہ داستان رونگٹے کھڑے کردینے والی ہے۔ انہوں نے صبروضبط اور تحمل وبرداشت سے اپنے غم کو لازوال بنادیا ہے۔ انہوں نے لوگوں کے دلوں پر جو نقوش چھوڑے ہیں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے ہندوستانی قوم کو ایک ایسا پیغام دیا ہے کہ جس پر اگر سب لوگ عمل کریں تو اس ملک میں امن وامان کی پائیدار فضا قائم ہوسکتی ہے۔ مولانا امداد اللہ رشیدی کے اس کردار نے اپنوں کو تو متاثر کیا ہی ہے ، غیروں کو بھی حیرت زدہ کردیا ہے۔ خود وہ لوگ بھی جو نفرت کا کاروبار کرنے والی پارٹی کے ممبر ہیں عش عش کراٹھے ہیں۔ بی جے پی کے ممبرپارلیمنٹ سپریونے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’امام صاحب میں آپ کو سلام کرتا ہوں اور امید کرتاہوں کہ ایک دن میں ووٹ بینک کی سیاست کے الزام کے بغیر آپ سے مل سکوں گا۔ ہم اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتے کہ آپ کس درد سے گزررہے ہوں گے لیکن جس قسم کے جذبے کا آپ نے اظہار کیا ہے، اس سے مجھے یقینی طورپر کافی تحریک ملی ہے اور میں خود کو طاقتور محسوس کررہا ہوں۔ ‘‘ 
سوال یہ ہے کہ مسٹر سپریو کو مولانا رشیدی کے لاثانی کردار سے جو تحریک اور طاقت حاصل ہوئی ہے کیا وہ اس کے بل پر اپنی پارٹی کی ہندوتو کی سیاست اور مسلمانوں سے اس کی نفرت کو ختم کرنے کے لئے بروئے کار لائیںگے۔ کیا مسٹر سپریو امام صاحب کو ’بھارت رتن ‘دینے کا مطالبہ کریں گے کیونکہ صحیح معنوں میں وہی آج کے ’بھارت رتن‘ ہیں۔

Ads