Jadid Khabar

آسنسول میں آگ کیوں لگی؟

Thumb

آسنسول مغربی بنگال کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اس ہفتہ آسنسول آگ کے شعلوں میں جلتا رہا اور باہر اور اندر کے لوگوں نے اشتعال انگیز اور زہریلے نعرے لگائے اور افواہیں پھیلائیں۔ ایک جواں سال لڑکے کو اغوا کرکے دن دہاڑے اس کا گلا گھونٹ دیا گیا پھر اس کی لاش پھینک دی گئی جسے پولس نے وارثین کو بڑی مشکل سے سپرد کیا۔ وہ لڑکا حافظ قرآن تھا جس کا نام صبغت اللہ تھا اور مدھیامک کا امتحان پاس کرچکا تھا۔ اس کا صرف اتنا قصور تھا کہ وہ ایک مسلمان لڑکا تھا۔ 
مشتعل کرنے والے نعرے: رام نومی کے ایک آرگنائزر نے اعتراف کیا ہے کہ جلوس جب اکثریتی مسلم علاقہ سے گزر رہا تھا تو بہت سارے لوگوں نے مشتعل کرنے کیلئے نفرت انگیز نعرے لگائے جس کی وجہ سے حالات قابو سے باہر ہوگئے۔ اس کا کہنا ہے کہ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جے شری رام کے نعروں کے ساتھ یہ نعرہ بھی لگ رہا تھا کہ ’مارو، مارو‘۔ جو لوگ اس میں شریک تھے وہ غنڈہ گردی اور بدمعاشی پر آمادہ تھے۔ میرا تجزیہ یہ ہے کہ یہی چیز تھی جو ٹکراؤ اور تصادم کا سبب بنی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس مسلم علاقہ میں جلوس کا جانا غلط تھا۔ یہ بات ایک شخص نے بتائی جو رام نومی کی ریلی میں شامل تھا۔ آسنسول میں 150ریلیاں نکالی گئیں مگر چار ریلی ایسی نکالی گئی جسے مسلم علاقہ سے جان بوجھ کر گزارا گیا۔ پولس کی اجازت بھی نہیں تھی۔ پولس نے ریلی کو مسلم علاقہ میں گھسنے اور نعرے لگانے سے روکا بھی نہیں۔ آگ لگائی جارہی تھی اور پولس تماشائی بنی ہوئی تھی۔ ریلی کے آرگنائزر نے یہ بھی مانا کہ گزشتہ منگل کے دن جو کچھ ہوا وہ ہرگز نہیں ہونا چاہئے تھا۔ بعض مقامی لوگوں نے ایسے نعرے لگانے سے روکا اور انھیںسمجھانے کی کوشش کی مگر ریلی میں شریک شرپسندوں نے ایک نہ مانا بلکہ جو لوگ سمجھانے آئے تھے ان کو مار پیٹ کر بھگا دیا۔
رانی گنج کے ایک تاجر انجم جمال نے جو آسنسول اور بنارس میں کاروبار کرتے ہیں بتایا کہ ریلی میں یہ نعرہ بھی بلند کیا جارہا تھا ’’پاکستان جاؤ، پاکستان جاؤ‘‘۔ ریلی کے آرگنائزر کا یہ بھی کہنا ہے کہ جلوس میں ایسے بھی لوگ  شریک تھے جو باہر کے تھے اور اجنبی چہرے لگ رہے تھے۔ آرگنائزر نے بتایا کہ اس نے کوشش کی کہ ’جے شری رام‘ کے بجائے ’بھارت ماتا کی جئے‘ کے نعرے لگائے جائیں مگر کسی نے سنا نہیں۔ مارو، مارو کی آواز نے زبردست اشتعال انگیزی کو جنم دیا۔ جس کی وجہ سے معاملہ کنٹرول سے باہر ہوگیا۔ پھر دونوں طرف سے پتھراؤ ہونے لگا۔ کچھ مسلم نوجوانوںنے کوشش کی کہ معاملہ رک جائے مگر ریلی میں شریک شرپسندوں نے رکنے کا نام نہیں لیا۔ وہ اسی لئے ریلی میں شریک تھے کہ ہنگامہ آرائی ہو، مار دھاڑ ہو اور صورت حال کو بگاڑ دیا جائے تاکہ ہندو مسلم میں دنگا اور فساد پھوٹ پڑے۔ ٹکراؤ اور کشمکش کی خبر پورے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ شرپسند اپنے منصوبے میں کامیاب ہوگئے۔
ترنمول کے چند لیڈران کا دعویٰ ہے کہ ریلی میں جھار کھنڈ کے لوگ شریک تھے، مگر یہ لیڈران کیوں بے دست و پاتھے اور پولس ان کی ایک بھی نہیں سن رہی تھی بلکہ پولس کا جھکاؤ بدمعاشوں اور شرپسندوں کی طرف تھا۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ سنگھ پریوار نے یہ کام منصوبہ بند طریقے سے کیا، جس کو کامیاب بنانے میں پولس کی مدد بھی شامل ہے۔ 
حاجی نگر، سری پور، او پی روڈ جو مسلمانوں کے خاص محلے ہیں آسنسول کے شمال میں واقع ہیں، ریلی کے دن دکانیں بند کر دی گئی تھیں۔ دہشت اور خوف کا ماحول تھا۔ آسنسول کے باشعور افراد کا کہنا ہے کہ ابھی بھی مسلمان ڈرے سہمے اور خوف زدہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پولس کا کردار مشکوک ہوگیا ہے۔ پولس فسادیوں کے زیر اثر معلوم ہوتی ہے۔ 
بردوان پچھم ایک نیا ضلع بردوان سے کٹ کر بنا ہے۔ ایس پی اور ڈی ایم کے دفاتر سب کے سب آسنسول میں ہیں۔ بردوان پچھم (Burdwan West) میں آسنسول آتا ہے۔ اسی ضلع کا ایک تھانہ آسنسول شمال (Asansol North PS) کہلاتا ہے۔ یہ وارڈ نمبر 25میں ہے جہاں حضرت مولانا امداد اللہ رشیدی صاحب کی نوری مسجد ہے۔ اسی مسجد میں صبغت اللہ امام صاحب کا بیٹا جس کی عمر 16 سال کی تھی شورو غل سن کر باہر نکلا اسے ریلی میں شریک شرپسندوں نے پکڑ لیا اور رات کے اندھیرے میں اس کا گلا گھونٹ کر شہید کردیا۔ امام صاحب نے بتایا کہ جب صبغت اللہ کے بھائی نے اپنے بھائی کو اغوا کرتے دیکھا تو وہ تھانہ گیا مگر اس کی ایک نہ سنی گئی بلکہ اسے تھانہ میں بیٹھا (Detain) دیا گیا۔ پولس نے ایک طرح سے اسے گرفتار کرلیا تھا۔ امام صاحب نے ایک بااثر شخص سے فون کرایا تو تھانہ کے انچارج نے امام صاحب سے کہاآکر اپنے لڑکے کو لے جاؤ ۔ امام صاحب نے کہاکہ وہ تھانہ نہیں جائیں گے۔ اس کے کچھ گھنٹے بعد تقریباً دو ڈھائی بجے رات میں کونسلر نسیم انصاری کے ذریعہ امام صاحب کے بیٹے کو اس کے گھر پہنچایا گیا۔ 
حکومت مغربی بنگال کو اچھی طرح سے پولس کی طرفداری اور جانبداری کے واقعات معلوم ہیں مگر حکومت خاموش ہے، اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ اگر حکومت پولس پر کارروائی کرتی ہے یا شرپسندوں پر ہاتھ ڈالتی ہے تو مرکز ناردا اور شاردا کے معاملے میں ترنمول کے ایم پی اور ایم ایل اے کا کان پکڑنا شروع کر دے گا۔ حکومت کی پریشانیوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ معاملہ جو بھی ہو حکومت ممتا بنرجی ترنمول کانگریس کی ہے مگر پولس ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کے اشارے پر کام کر رہی ہے۔ مسلمان اس کی وجہ سے پس رہے ہیں اور معاملہ کئی سالوں سے ہے۔ گزشتہ سال نئی ہٹی، تیلنی پاڑہ، مارواڑی کل جیسے علاقوں میں فسادات ہوئے تھے۔ پانچ سو افراد گھر بار چھوڑ کر اپنے اپنے مقامات سے باہر چلے جانے پر مجبور ہوئے تھے۔ اس سلسلہ میں مسلم قیادت اور مسلم تنظیموں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔ اگر مسلمانوں کی طرف سے کوئی کارگر منصوبہ تیار نہیں ہوتا تو مسلمانوں کو آئے دن ان حالات سے گزرنا ہوگا۔ 
سامنے پنچایت کا الیکشن ہے۔ چند مہینوں کے بعد لوک سبھا کا الیکشن بھی ہوگا۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کی کامیابی دنگوں پر منحصر ہے لڑائی جھگڑے کے بغیر ان کا کوئی منصوبہ کارگر نہیں ہوتا۔لہٰذا ابھی سے غور و فکر کرکے مسلمانوں کو انصاف پسند برادرانِ وطن سے مل کر جو منصوبہ تیار ہو اس کے خاکے میں رنگ بھرنا ہوگا۔ 

Ads