Jadid Khabar

دین کے نام پر مسلمان ایک کیوں نہیں ہوسکتے؟

Thumb


معروف صحافی معصوم مراد آبادی نے آج مجھے اپنے پندرہ روزہ ’خبردار جدید‘ کا تازہ شمارہ عنایت فرمایا جس میں میرے کئی مضامین بھی شامل اشاعت ہیں اور کئی بڑے صحافیوں کے اہم مضامین بھی ہیں مگر مجھے مدیر اخبار کا ایک مختصر مضمون ’’یہ خواب ہے یا حقیقت‘‘ نے چونکا دیا۔ پہلے تو معصوم صاحب کے قلم سے لکھی ہوئی بات ملاحظہ فرمائیے: 
’’اپنے گھر کا پتہ بتا دیجئے، ایک دعوت نامہ بھیجنا ہے‘‘۔ یہ ٹیلیفون کال اقلیتی امور کی مرکزی وزارت کی طرف سے تھی۔ اگلے روز بتائے ہوئے پتے پر جو دعوت نامہ پہنچا اس کا مضمون یہ تھا کہ ’’جارڈن کے بادشاہ عبداللہ دوئم نئی دہلی کے وِگیان بھون میں اسلامی وراثت کے موضوع پر خطاب کریں گے اور اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی بھی موجود رہیں گے‘‘۔ 
یوں تو یہ دعوت نامہ انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کی طرف سے تھا لیکن اس کے آخر میں نہ تو سنٹر کے صدر کا نام درج تھا اور نہ ہی کسی دیگر عہدیدار کا۔ مجھے اس پروگرام سے کوئی دلچسپی نہیں تھی؛ کیونکہ اس قسم کی تقریبات محض خانہ پُری کیلئے برپا کی جاتی ہیں اور ان میں کوئی روح نہیں ہوتی، لیکن اس دوران وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے فون پر دریافت کیا کہ ’’کیا آپ کل کے پروگرام میں شریک ہورہے ہیں‘‘۔ جس سے یہ اندازہ ہوا کہ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے غیر معمولی جدوجہد کی جارہی ہے، ورنہ عام طور پر اس قسم کی تقریبات کیلئے مدعوئین کو فون نہیں کئے جاتے ہیں۔ میں نے بوجوہ اس پروگرام میں شرکت سے گریز کیا۔ پروگرام شروع ہوا تو سوشل میڈیا پر اس کے شرکاء نے اپنی سیلیفیاں شیئر کرنا شروع کر دیں اور یہ تاثر دینا چاہا کہ وہ کسی ایسے پروگرام میں مدعو کئے گئے ہیں جس سے ان کی قدر و منزلت اچانک بڑھ گئی ہے۔ ظاہر ہے جس بڑے پیمانے پر دعوت نامے تقسیم کئے گئے تھے ان میں ایسے لوگوں کا شامل ہونا لازمی تھا جنھوں نے کبھی کسی بادشاہ یا وزیر اعظم کے پروگرام میں شرکت نہ کی ہو۔ یہ بات یہاں تک تو ٹھیک تھی لیکن جب سوشل میڈیا پر اس پروگرام کے اسٹیج کی تصاویر آنے لگیں تو مجھے یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ اسٹیج پر جارڈن کے بادشاہ عبداللہ دوئم اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ارد گرد علمائے کرام کی جو قطار موجود تھی اس کا تعلق ہندستانی مسلمانوں کے تمام مسلکوں اور مکاتب فکر سے ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دعوت نامے میں صرف جارڈن کے بادشاہ اور وزیر اعظم ہند کا ہی نام درج تھا اور کسی دیگر مقرر یا شریک محفل کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا تھا۔ میرے لئے یہ موقع خوشگوار حیرت کا تھا کیونکہ مختلف مسالک کے وہ علمائے کرام جو اپنے فروعی اختلافات کی وجہ سے ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے کے رودار نہیں۔ وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور جارڈن کے بادشاہ کے ارد گرد بڑے خوشگوار موڈ میں موجود تھے اور ایک دوسرے سے بغلگیر بھی ہورہے تھے‘‘۔ 
معصوم صاحب نے اپنے اسی مضمون میں ایک گروپ فوٹو بھی شائع کیا ہے۔ مودی صاحب بہت ہی خوشگوار موڈ میں اخترا لواسع، مولانا محمود مدنی اور ایک صاحب اور ہنس ہنس کر باتیں کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ آصف عمر آصف نے مجھے اس دعوت کے بارے میں فون کیا تھا کہ جماعت اسلامی ہند کے ذمہ داران کے علاوہ تقریباً تمام چھوٹی بڑی جماعتوں کے ذمہ داران اور عہدیداران مودی کی دعوت میں رونق افروز تھے۔ بات آئی گئی۔ میں نے اس پر کچھ توجہ نہیں دی۔ مگر معصوم صاحب کا مضمون پڑھ کر میں بہت کچھ اس ملت اور ان کی ذمہ دار شخصیتوں کے بارے میں سوچنے لگا۔ معصوم صاحب نے مضمون کے آخر میں ملت کے ذمہ داروں سے ایک سوال کیا ہے: 
’’یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ مذکورہ تمام شخصیات جو ایک ہی اللہ اور ایک ہی رسول کو ماننے والی ہیں اور خود کو اسلام کا سب سے بڑا پیرو کار کہتی ہیں وہ کبھی اپنے فروعی اختلافات کو دور کرنے کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع نہیں ہوئیں اور اچانک حاکمانِ وقت کے اسٹیج پر کیونکر جمع ہوگئیں۔ ہمیں کسی کی نیت پر شبہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ دلوں کا حال اللہ ہی جانتا ہے اور وہی روزِ جزا کا مالک ہے، لیکن ہم اتنا ضرور پوچھنا چاہیں گے کہ اب جبکہ وہ ایک اسٹیج پر آہی گئے ہیں تو کیا اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کوئی ایسا ملی پلیٹ فارم تشکیل دیں گے جس میں اسی طرح تمام مسلکوں اور مکاتب فکر کے لوگ ایک ساتھ اکٹھا ہوں اور اسلامیان ہند کو درپیش سنگین مسائل کیلئے سر جوڑ کر بیٹھیں اور کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو پھر ہندستانی مسلمانوںکے بیشتر مسائل کا حل نکل آئے گااور ان کے درمیان حائل مسلکی دیواریں پاش پاش ہوجائیں گی۔ فی زمانہ مسلمانوں کو درپیش مسائل میں سب سے بڑ مسئلہ مسلکی اختلافات ہیں جنھوں نے پوری ملت اسلامیہ کا شیرازہ منتشر کر رکھا ہے۔ حالانکہ حاکمان وقت کی دلچسپی اسی میں ہے کہ مسلمان مسلکی اختلافات اور فروعی جھگڑوں میں پڑے رہیں تاکہ وہ اپنی صفوں کو درست نہ کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف طریقوں سے مسلمانوں کے درمیان موجود مسلکی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور ان کی طاقت کو کمزور کیا جاتا ہے، لیکن اب جبکہ خود ہمارے علمائے کرام اس دیوار کو توڑ کر ایک پلیٹ پر جمع ہوئے ہیں اور حکومت کو یہ احساس کرادیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو فراموش کرکے یکجا بھی ہوسکتے ہیں تو وقت کا سب سے بڑا امر یہ کہ وہ اسلامیان ہند کو درپیش سنگین مسائل کے حل کیلئے ایک متحدہ آواز بن کر آگے آئیں اور تاریخ میں اپنا نام سنہرے حروف میں لکھوائیں‘‘۔ 
غالباً اسی سے ملتا جلتا ایک مضمون آج سے بیس سال پہلے کسی رسالہ یا اخبار میں پڑھا تھا کہ بمبئی کے پولس کمشنر نے مسلمانوں کے تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کو اپنے دفتر میں بلایا تھا۔ صاحب مضمون نے لکھا تھا کہ تمام مکتبہ فکر کے افراد خوشی خوشی وقت سے پہلے پولس کمشنر کے دفترمیںپہنچ گئے۔ مضمون نگار نے آخر میں لکھا تھا کہ اگر کوئی مسلم تنظیم کا سربراہ مسلمانوں کے تمام مکتبہ فکر کے علماء اور ذمہ دار شخصیتوں کو بلایا ہوتا یا دعوت دی ہوتی تو یہ حضرات جمع نہ ہوتے مگر ایک پولس کمشنر کے بلاوے پر سب کے سب جمع ہوگئے۔ مسلمانوںکے اتحاد کے موضوع پر بہتوں نے بہت کچھ لکھا ہے علامہ اقبالؒ نے جو کچھ کہا اور لکھا ہے اسے علماء اکثر اپنی مجلسوں میں دہرایا کرتے ہیں : 
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک 
حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
آبرو باقی تری ملت کی جمعیت سے تھی … جب یہ جمعیت گئی دنیا میں رسوا تو ہوا 
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ جب تک مسلمان متحد تھے اور اتحاد و اجتماعیت کی اہمیت کو سمجھتے تھے اس وقت تک ان کی آبرو و عزت باقی تھی مگر اتحاد و اجتماعیت کے ختم ہونے کے بعد رسوائی اور ذلت ان کا مقدر بن گئی ہے۔ 
یہ سب باتیں میں نے تمہید کے طور پر لکھی ہیں مگر جس سوال پر متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ایک ایسا وزیر اعظم جو مسلمانوں کا ہی نہیں انسانیت کا دشمن ہے اس کے بلاوے پر سارے مسلمان جمع ہوجاتے ہیں۔ ایک شہر کے پولس کمشنر کے بلانے پر سب خراماں خراماں چلے جاتے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی شخصیت بلائے تو کیوں نہیں جمع ہوتے؟ لکھتے لکھتے ایک بات اوریاد آگئی وہ یہ ہے کہ گجرات کے اقبال میمن صاحب کلکتہ تشریف لائے تھے۔ انھوںنے ایک فارمولہ بتایا کہ ایک ایسا اجتماع بلایا جائے جس کے کنوینرس (داعیان) تمام جماعتوں کے لوگ ہوں تو شاید اس میں سارے لوگ آجائیں گے۔ ان کی تجویز پر راقم نے عمل کیا مگر میںنے دیکھا کہ اس میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ معصوم صاحب نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ہندستان میں ایک پلیٹ فارم مسلم پرسنل لاء بورڈ کا ضرور ہے جس میں بیشتر مسلکوں اور مکاتب فکر کی نمائندگی ہے لیکن حالیہ عرصے میں اس پلیٹ فارم پر ایک خاص مسلک اور علاقے کا تسلط ہونے کے بعد اس کی افادیت کچھ کم ہوگئی ہے‘‘۔ 
میں اپنی بات مسلم پرسنل لاء بورڈ سے ہی شروع کرتا ہوں۔ مسلم پرسنل لاء یعنی اسلام کے ایک جز ’’عائلی قانون‘‘ کے نام سے بمبئی میں پہلا اجلاس ہوا جس میں تقریباً تمام مکتبہ فکر کے علماء جمع ہوئے اور اس کا حشر یہ ہوا کہ یہ بورڈ ایک خاص مسلک یا ایک خاص مکتبہ فکر کی مجلس ہوکر رہ گئی۔ ہندستان کی سب سے بڑی عدلیہ کے سامنے بورڈ نے تین طلاق کے مسئلہ کو اس طرح پیش کیا کہ اسلام کا یہی ایک نقطہ نظر ہے۔ کوئی اور نقطہ نظر نہ مسلمانوں میں ہے نہ اسلام میں، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی۔ آج تک یہ بات سمجھ میں بورڈ کے نہیں آئی کہ مسلمانوں میں طلاق کے تعلق سے قرآن و حدیث کی روشنی میں اور بھی نقطہ نظر ہے جسے پیش کیا جاتا تو جگ ہنسائی کی نوبت نہیں آتی۔ بہت سے لوگوں بشمول راقم نے اس نقطہ کی طرف توجہ دلائی تھی مگر کسی نے سننا گوارانہیں کیا۔ میرا خیال ہے کہ مسلم پرسنل لاء یعنی عائلی قانون یعنی اسلام کے کل کا ایک جز کو کہتے ہیں۔ یہ جز ہندستانی دستور کا حصہ ہے اور حکومت اسے ختم کرنا چاہتی ہے۔ مسلم پرسنل لاء اسلام کا ایک جز ہے کل نہیں اور پر اس حکومت کی تلوار لٹک رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بمبئی کے پہلے اجلاس میں اکثر مکتبہ فکر کے علماء جمع ہوگئے۔ اگر جز کے بجائے پورے اسلام کی بنیاد پر کوئی اجلاس بمبئی یا کسی اور شہر میں بلایا گیا ہوتا تو ایک دو تنظیموں کے علاوہ کسی تنظیم کا ذمہ دار اس میں شرکت بھی نہیں کرتا۔
 دو چار دن پہلے کی بات ہے کہ میں ’فیس بک‘ دیکھ رہا تھا کہ جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس جس میں ہندو اور مسلمان سبھی اسٹیج پر موجود تھے۔ مولانا محمود مدنی صاحب تقریر کر رہے تھے۔ انھوں نے بہت زور دار الفاظ میں کہاکہ ہمارے اسلاف نے نظام مصطفیؐ یا اسلامی نظام کے قیام کی باتوں کو رد کر دیا۔ ہمارے اسلاف اور ہم نے سیکولر نظام کو پسند کیا۔ ہم اس زمین پر سیکولرزم کا مکمل نفاذ چاہتے ہیں۔ ہمیں اس ملک میں کوئی آنکھ دکھا نہیں سکتا۔ 
میرا خیال ہے کہ مسلمانوں کی بیشتر تنظیمیں پورے اسلام سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتی ہیں۔ ہر تنظیم کسی نہ کسی جز سے جڑی ہوئی ہے اور اسی کو پورا سلام تصور کرتی ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے اپنے آخری زمانے میں فرمایا کہ ’’شاید اللہ مجھے معاف نہ کرے کہ میں زندگی بھر ایک مسلک کا تحفظ کرتا رہا۔ تحفظ اسلام کی نہیں‘‘۔ علامہ موصوف کا اعترافِ گناہ بہت اہمیت کا حامل ہے مگر ان کے حلقہ میں غالباً نہ اس کی پذیرائی ہوئی اور نہ ہی ان کی آخری بات پر توجہ دی گئی۔ 
دوسری بات جس کی وجہ سے مسلمانوںمیں اتحاد کا امکان مشکل ہے، وہ دنیوی مفادات ہیں۔ ہر ایک جماعت کے اپنے اپنے دنیوی مفادات ہیں۔ ان مفادات کو کوئی جماعت نہ قربان کرنا پسند کرتی ہے اور نہ اسلامی یا ملی مفادات کو ان پر ترجیح دینا پسند کرتی ہے۔ ظاہر ہے اگر مفادات اور مقاصد الگ الگ ہوں تو سب کے ایک ساتھ جمع ہونے کا امکان کیسے ہوسکتا ہے؟ قرآن مجید میں سارے مسلمانوں کو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی بات کہی گئی ہے اور تفرقہ اور انتشار سے پرہیز کرنے کی ہدایت ہے مگر معاملہ یہ ہے کہ مسلمان ایک رسی کے بجائے بے شمار رسیوں کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہے اور انتشار سے پرہیز کرنے کے بجائے انتشار کو گلے لگائے ہوئے ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’اے ایمان والو؛ تم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے‘‘۔ 
حقیقت یہ ہے کہ مسلمان پورے طور پر اسلام میں داخل نہیں ہونا چاہتا اور نہ ہی شیطان  پیروی سے منہ موڑنا چاہتا ہے۔ اکبر الہ آبادی نے کہا تھا  ؎
مے بھی ہوٹل میں پیو چندہ بھی دو مسجد میں… شیخ بھی خوش رہیں شیطان بھی بیزار نہ ہو
حاصل یہ ہے کہ مسلمان دو رنگی چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ قرآن میں لکھا ہوا ہے کہ سب سے اچھا رنگ اللہ کا ہے۔ اس رنگ میں اپنے آپ کو رنگ دو مگر مسلمانوں کے بیشتر لوگوں کو ایک رنگ سے کام نہیں چلتا، وہ کئی رنگوں میں نظر آنا چاہتے ہیں۔ 
یہی وجہ ہے کہ ملک کے ایک ناپسندیدہ حکمراں کے بلانے پر تو مسلمان جمع ہوجائیں گے مگر کسی ایک ذمہ دار مسلمان کے بلانے پر جمع نہیں ہوں گے۔ یہاں تک کہ ایک شہر کے پولس کمشنر کی دعوت پر خوشی خوشی اس کے دفتر میں چلے جائیں گے مگر مسلم تنظیموں کے کسی سربراہ کی دعوت پر اس کے دفتر میں کسی حال میں جانا پسند نہیں کریں گے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ غیر کسی مکتبہ فکر سے تعلق نہیں رکھتا۔ اس کا مکتبہ فکر کفر یا شرک ہے۔ وہ مسلم تنظیموں اور سربراہوں کو زیادہ قابل قبول ہے مگر خالص اور مکمل اسلام قابل قبول نہیں ہے۔ اس پر اور بھی باتیں کی جاسکتی ہیں مگر میں انہی باتوں پر اکتفا کرتا ہوں یہ کہہ کر کہ اور بھی وجہیں اتحاد نہ ہونے کی ہوسکتی ہیں۔ 

 

Ads