Jadid Khabar

علیم الدین کے قاتلوں کوعبرتناک سزا

Thumb

گئو کشی کے جھوٹے الزام میں انتہائی سفاکی سے موت کے گھاٹ اتارے گئے علیم الدین انصاری کے قاتلوں کو سزا سنادی گئی ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اوم پرکاش کی عدالت نے بی جے پی لیڈر نتیانند مہتو سمیت گیارہ نامزد ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ گائے کے تحفظ کے نام پر پورے ملک میں دہشت پھیلانے والوں کے خلاف یہ پہلی عدالتی کارروائی ہے جس میں مجرموں کو عبرتناک سزائیں دی گئی ہیں۔ عدالت نے کلیدی مجرم دیپک مشرا ، چھوٹوورما اور سنتوش سنگھ کو علیم الدین کی گاڑی روک کر ہجوم اکٹھا کرکے اس کے قتل کی سازش رچنے اور گاڑی میں آگ لگانے کے الزام میں دفعہ 120Bاور 302 کے تحت قصوروار پایا ہے۔ جھارکھنڈ کی فاسٹ ٹریک عدالت نے یہ کیس انتہائی مختصر مدت میں حل کرکے ان لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کا کام کیا ہے جن کے دلارے گزشتہ چار سال کے دوران گئو رکشکوں کی دہشت گردی کا شکار بنے ہیں۔ ان میں بیشتر معاملات میں پولیس اور انتظامیہ نے قانون اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی بجائے اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کا کام کیا ہے ۔نام نہاد گئو رکشکوں کے ہاتھوں اپنی قیمتی جانیں گنوانے والوں کے پسماندگان مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے اور اس وحشت وبربریت کو روکنے کے لئے مسلسل دیواروں سے سرٹکراتے پھر رہے ہیں مگر حکومت ہے کہ بس رسمی بیانات جاری کرکے اپنی بلا ٹالنے کی کوشش کررہی ہے۔ 

ملک میں گائے کے تحفظ کے نام پر دہشت گردی کا سب سے پہلا اور سنگین واقعہ اترپردیش کے دادری گاؤں میں ستمبر 2015میں پیش آیا تھا، جہاں عین بقر عید کے موقع پر محمد اخلاق کے گھر میں رکھے ہوئے قربانی کے گوشت کو گائے کا گوشت قرار دے کر انہیں انتہائی بے دردی سے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیاگیا تھا۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ محمد اخلاق کے معاملے میں ملک گیر سطح پر بے مثال احتجاج ہونے کے باوجود مجرموں کے خلاف کارروائی اتنے معمولی انداز میں کی گئی تھی کہ آج وہ سب کے سب ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں اور ان میں سے بعض ملزمان کی بازآبادکاری کے طورپر انہیں مرکزی وزارت توانائی کے ذیلی شعبے این ٹی پی سی میں ملازمت بھی دے دی گئی ہے۔ اسی طرح راجستھان کے الور ضلع میں پہلو خان اور فیروز خان کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کرنے والے ملزمان بھی ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں۔ ان ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے میں ریاستی انتظامیہ کا کردار انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے جنید خاں معاملے میں ہریانہ سرکار اور مرکزی حکومت کو سی بی آئی جانچ کرانے کی درخواست پر نوٹس جاری کئے ہیں۔ ہریانہ کے بلبھ گڑھ کے رہنے والے نوجوان جنید خان کو چلتی ٹرین میں گوشت کھانے کا الزام لگاکر انتہائی بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتاردیاگیا تھا۔ یہ معاملہ اپنی سنگینی کے اعتبار سے اس نوعیت کا تھا کہ ملک کے کئی نامی گرامی صحافیوں اور کالم نگاروں نے جنید کو اپنا بیٹا قرار دے کر مضامین قلم بند کئے تھے۔ لیکن جنید کے قاتلوں کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرنے کی بجائے ہریانہ پولیس نے معمولی دفعات لگاکر اس معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی۔ اسی لئے اس کیس کی سی بی آئی سے تحقیقات کا مطالبے کو لے کر جنید کے والدین سپریم کورٹ تک پہنچے ہیں۔ سپریم کورٹ میں دائر عرضی میں کہاگیا ہے کہ ہریانہ پولیس نے جنید کیس کی جانچ کو توڑ مروڑ دیا ہے اور اسے یکطرفہ نفرت کی بجائے معمولی جھڑپ کا واقعہ قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ ان واقعات سے آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ گزشتہ چار سال کے عرصے میں جن مسلمانوں کو گئو کشی کا الزام لگاکر ہجومی تشدد میں موت کے گھاٹ اتاراگیا ہے ان کے ملزمان کے ساتھ سرکاری مشینری اور پولیس کا رویہ کتنا ڈھیلا ڈھالا اور لاپروائی والا ہے۔ اس معاملے میں واقعی علیم الدین انصاری کے پسماندگان خوش قسمت ہیں کہ محض آٹھ ماہ کے عرصے میں انہیں انصاف مل گیاہے۔ 
گوشت کے تاجر علیم الدین انصاری کو گزشتہ 29جون 2017کو بجرنگ دل اور گئو رکشا سمیتی کے کارکنوں نے اس کی کار سمیت گھیر کر بہت بری طرح زدوکوب کیا تھا۔ علیم الدین کو جس درندگی اور بربریت کے ساتھ ہجومی تشدد کا نشانہ بنایاگیا تھا اس کی گواہ وہ تصویریں جو اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ مارنے والے انسان نہیں بلکہ وحشی درندے ہیں جو علیم الدین کو نیم مردہ حالت میں پولیس کو سونپ دیا گیا جو انہیں رانچی اسپتال لے جارہی تھی ، لیکن زخموں سے چور علیم الدین نے راستے میں ہی دم توڑ دیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وکیل دفاع نے مجرموں کا بچاؤ کرتے ہوئے عدالت میں یہ کہا ہے کہ علیم الدین کی موت گئو رکشکوں کی پٹائی سے نہیں بلکہ پولیس حراست میں ہوئی ہے اور یہ معاملہ حراستی موت کا ہے جس کے لئے پولیس ذمہ دار ہے ، لہٰذا تمام ملزمان کو بری کردیا جائے۔ لیکن فاسٹ ٹریک عدالت کے جج اوم پرکاش نے تمام 11ملزمان کو عمرقید کی سزا سنائی اور ایک ملزم کو نابالغ قرار دے کر بچہ گھر بھیج دیا۔ سزا پانے والوں میں بی جے پی ضلع میڈیا انچارج نتیانند مہتو، گئو رکشا سمیتی کے صدر چھوٹو ورما، بجرنگ دل کے ضلع کنوینر دیپک مشرا ،وشوہندوپریشد کے کارکن سنتوش سنگھ، سکندر رام ، وکی ساہو، اتم رام ، بجرنگ دل کے کارکن کپل ٹھاکر ، روہت ٹھاکر، راجوکمار اور وکرم پرساد شامل ہیں۔قابل غور بات یہ ہے کہ جن مجرموںکو علیم الدین انصاری کے وحشیانہ قتل کے سلسلے میں سزا سنائی گئی ہے ان کا تعلق بی جے پی ، بجرنگ دل، وشوہندو پریشد اور گئو رکشا سمیتی جیسی تنظیموں سے ہے اور یہ تمام سنگھ پریوار کی ذیلی شاخیں ہیں جن کو آرایس ایس کنٹرول کرتی ہے۔ آر ایس ایس کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک امن پسند رفاہی تنظیم ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج تک مسلمانوں کے خلاف تشدد بھڑکانے اور نفرت پھیلانے کے جتنے بھی معاملے سامنے آئے ہیں ان میں سنگھ  پریوار کی یہی تنظیمیں گردن تک ملوث تک پائی گئی ہیں۔ اس لئے آر ایس ایس کا ایک امن پسند رفاعی تنظیم ہونے کا دعویٰ قطعی جھوٹا اور آنکھوں میں دھول جھونکنے والا ہے۔ 
 عدالت نے علیم الدین انصاری کے قاتلوں کو عمرقید کی سزا سنائے جانے کے ساتھ ساتھ دوماہ کے اندر ان کی بیوہ مریم کو معاوضہ دلانے کا حکم بھی صادر کیا ہے چونکہ ابھی تک حکومت نے علیم الدین کے پسماندگان کو کوئی مالی مدد مہیا نہیں کی ہے جبکہ وہ اپنے خاندان کا اکلوتا کمانے والا شخص تھا۔ علیم الدین کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے سلسلے میں علیم الدین کی بیوہ مریم نے جس جرأت اور ہمت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ مریم ہی تھی جس نے اپنے شوہر کی لاش پر یہ قسم کھائی تھی کہ وہ قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچاکر ہی دم لے گی اور تب تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔ مریم نے ہی گئو رکشک سمیتی اور بجرنگ دل کے کارکنوں پر علیم الدین کے قتل کا الزام عائد کرتے ہوئے رام گڑھ تھانے میں کیس درج کرایا تھا۔ علیم الدین کے بیٹے شعبان انصاری کا کہنا ہے کہ میری والدہ عدالتی فیصلے سے مطمئن ہے ، تاہم اس معاملے میں وہ حکومت سے شاکی ہیں جس نے ابھی تک معاوضے کے نام پر ایک پیسہ بھی ادا نہیں کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد ہمارے گھر افسران اور سیاست دانوں کا تانتا بندھ گیا تھا اور سبھی نے ہرممکن مدد کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن ہمیں ابھی تک کہیں سے کوئی مدد نہیں ملی ہے ۔ صرف جھوٹی تسلیاں ہی ملی ہیں۔ 

Ads