Jadid Khabar

بی جے پی کا جہاز ڈوب رہا ہے

Thumb

جنوبی ہند کی ریاست آندھراپردیش میں برسراقتدار تلگودیشم پارٹی نے بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے سے ناطہ توڑ لیا ہے۔ آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دلانے کے معاملے پر اس نے مودی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل تلگودیشم کے دومرکزی وزیروں نے مودی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ یاد رہے کہ تلگودیشم کے لوک سبھا میں 16اراکین ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی کی ایک اور حلیف شیوسینا نے این ڈی اے سے باہر آنے کے لئے پرَ تولنے شروع کردیئے ہیں۔ شیوسینا ابھی مودی سرکار میں شامل ضرور ہے لیکن وہ پہلے ہی یہ اعلان کرچکی ہے کہ لوک سبھا کا اگلا الیکشن وہ بی جے پی کے ساتھ مل کر نہیں لڑے گی۔ اترپردیش اور بہار کی تین پارلیمانی نشستوں پر برپا ہوئے ضمنی چناؤ کے نتائج نے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کرنا شروع کردیا ہے۔ ان تینوں نشستوں پر بی جے پی کو شکست فاش ملی ہے۔ سیاسی پنڈت یہ حساب لگارہے ہیں کہ اگر بی جے پی کو شکست دینے کے مقصد سے کانگریس یا تیسرے مورچے کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کی صف بندی ہوئی تو 2019کے چناؤ میں بی جے پی اپنی موجودہ نشستوں میں سے 125سے زیادہ پر چناؤ ہار جائے گی۔ 

یوپی اور بہار کے ضمنی چناؤ میں بی جے پی امیدداروں کی شرمناک شکست نے اپوزیشن اتحاد کی کوششوں میں نئی جان ڈال دی ہے۔ بہار اور یوپی کے ضمنی انتخابات کے نتائج آنے سے ایک روز قبل یوپی اے کی چیئرپرسن سونیاگاندھی نے اپوزیشن لیڈران کو جو عشائیہ دیا تھا، اس کو نئے معنی حاصل ہوگئے ہیں۔ اس ڈنر میں اپوزیشن جماعتوں کے 20لیڈران شریک تھے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مخالفین کا اتنا بڑا اجتماع پچھلے چار سال میں پہلی بار ہوا تھا۔ اس عشائیہ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ 2019کے عام انتخابات میں تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہوکر فسطائیت کا مقابلہ کریں۔ بی جے پی امیدوار کے مقابلے میں ہر جگہ اپوزیشن کا ایک متحدہ امیدوار میدان میں اترے تاکہ بی جے پی کو شکست دی جاسکے۔یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ گزشتہ چارسال کے دوران وزیراعظم نریندرمودی کی قیادت میں چلنے والی سرکار عوامی امیدوں پر کھری نہیں اتری ہے اور لوگ بے حد پریشانی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور لاقانونیت نے لوگوں کا جینا حرام کردیا ہے اور ملک کی عوام جلد ازجلد مودی راج سے نجات چاہتے ہیں۔ 2014کے عام انتخابات میں عوام کو جو سبز باغ دکھائے گئے تھے ،وہ قطعی جھوٹے ثابت ہوئے ہیں اور انہیں انتخابی جملے قرار دے کر مسترد کردیاگیا ہے۔ 
حالیہ ضمنی الیکشن میں بی جے پی کو سب سے کراری شکست اترپردیش میں ملی ہے، جہاں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور نائب وزیراعلیٰ کیشوپرساد موریا کے استعفوں سے خالی ہونے والی لوک سبھا نشستوں پر سماج وادی پارٹی نے اپنا پرچم لہرادیا ہے۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس اترپردیش میں جہاں پہلے لوک سبھا اور پھر اسمبلی انتخابات میں جس بی جے پی نے اپنے جھنڈے گاڑ دیئے تھے، وہ خود اپنے وزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ کی نشستیں بھی نہیں بچا پائے گی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان دونوں سیٹوں پر سماجوادی پارٹی کے امیدواروں کو بہوجن سماج پارٹی کی حمایت حاصل تھی اور دونوں ہی جگہ بی ایس پی کے امیدوار میدان میں نہیں تھے۔ بی ایس پی صدر مایاوتی نے اپنا ووٹ سماجوادی پارٹی کے امیدواروں کے حق میں کامیابی کے ساتھ ٹرانسفر کرایا جس کے نتیجے میں  سماجوادی پارٹی کو کامیابی نصیب ہوئی۔ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے ان دونوں سیٹوں پر جو سمجھوتہ کیا تھا، وہ دراصل دونوں ہی پارٹیوں کے لئے اپنے سیاسی وجود کو بچانے کی لڑائی کا ایک حصہ تھا۔ کیونکہ گزشتہ سال یوپی اسمبلی کے چناؤ میں ان دونوں ہی پارٹیوں کی بری حالت ہوگئی تھی۔ اس سے قبل 2014کے انتخابات میں بہوجن سماج پارٹی اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول پائی تھی اور سماج وادی پارٹی کو محض پانچ نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا تھا ۔ اس لئے باربار یہی کہا جارہا تھا کہ اگر سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کو اپنا وجود بچانا ہے تو آئندہ الیکشن ایک ساتھ مل کر لڑنا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ دونوں ہی پارٹیاں تاریخ کا حصہ بن جائیںگی۔ اس معاملے میں سماجوادی پارٹی نے کسی حد تک نرم روی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن مایاوتی اپنے اندر لچک پیدا کرنے کو تیار نہیں تھیں۔ اب جب کہ سیاسی حالات دگرگوں ہوچکے ہیں تو ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ سیاست میں کوئی کسی کا مستقبل دوست اور دشمن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے راجیہ سبھا کی ایک سیٹ جیتنے اور سماجوادی کو ضمنی چناؤ میں کامیاب کرانے کی حکمت عملی پر رضا مندی ظاہر کی اور یہ فارمولہ امید سے زیادہ کامیاب رہا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 2019 کے عام انتخابات تک یہ حکمت عملی جاری رہتی ہے یا پھر اس میں کوئی نیا موڑ آتا ہے۔ 
اگر آپ غور سے دیکھیں تو بی جے پی جہاں دوردراز صوبوں میں اقتدار حاصل کرنے کا ہدف حاصل کررہی ہے تو وہیں اس کے روایتی علاقوں میں اس کی پوزیشن کمزور ہورہی ہے۔ گجرات میں اسے اپنی لاج بچانے کے لئے لوہے کے چنے چبانے پڑے تھے۔ حال ہی میں تریپورہ ، ناگالینڈ اور میگھالیہ میں حاصل ہونے والی کامیابی سے اسے جو تقویت حاصل ہوئی تھی، وہ یوپی اور بہار کے ضمنی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد خجالت میں تبدیل ہوگئی ہے۔ بی جے پی جیسے جیسے نئے صوبوں میں قدم رکھ رہی ہے، ویسے ویسے روایتی صوبے اس کے ہاتھوں سے نکلتے چلے جارہے ہیں۔ مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں اس کی حالت خاصی خراب ہے، جہاں عنقریب چناؤ ہونے والے ہیں۔ 2014کے عام انتخابات کے بعد بی جے پی نے اپنی گیارہ لوک سبھا سیٹیں گنوادی ہیں۔ گزشتہ سال پنجاب کے گرداس پور کے ضمنی چناؤ میں کانگریس نے بی جے پی کو شکست دے کر یہ سیٹ چھین لی تھی۔ اسی طرح سال رواں کی ابتدا میں راجستھان کے الور اور اجمیر لوک سبھا حلقوں کے ضمنی چناؤ میں دونوں سیٹیں کانگریس نے بی جے پی سے چھینی تھیں اور اب گورکھپور اور پھول پور کی نشستیں سماج وادی پارٹی نے بی جے پی سے چھینی ہیں۔ اپوزیشن کو ایک اور قابل ذکر کامیابی بہار کے ارریہ حلقے میں حاصل ہوئی ہے جہاں راشٹریہ جنتادل کے امیدوار سرفراز عالم نے کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ کامیابی ایسی صورت میں حاصل ہوئی ہے جب لالو پرساد یادو سلاخوں کے پیچھے ہیں اور ان کے بیٹے تیجسوی یادو پارٹی کی کمان سنبھال رہے ہیں۔ اس طرح یہ تیجسوی یادو کی کامیابی اور لالو یادو کے ایم وائی ووٹ بینک کی مضبوطی کا بھی ثبوت ہے۔ 
2014کے عام انتخابات کے بعد بی جے پی نے لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں جس تیزی کے ساتھ اپنی سیٹیں کھوئی ہیں اس کے نتیجے میں وہ اب پارلیمنٹ میں اکثریت سے محروم ہوگئی ہے اور اس کی طاقت ایک سیٹ سے کم ہوگئی ہے۔ چار سال قبل بی جے پی نے مودی لہر میں لوک سبھا کی 543سیٹوں میں سے 282سیٹوں پر تن تنہا کامیابی حاصل کی تھی جبکہ اسے اکثریت کے لئے 272سیٹیں درکار تھیں۔ تب سے اب تک اس کی گیارہ لوک سبھا سیٹیں کم ہوچکی ہیں۔ گزشتہ 15مہینے کے دوران وہ 10سیٹیں لوک سبھا کے ضمنی چناؤ میں ہار چکی ہے۔ اب گورکھپور اور پھول پور میں شکست کے بعد بی جے پی کو خود اپنے بل پر اکثریت کی تعداد ایک سیٹ کم ہوگئی ہے۔ ان میں کیرتی آزاد اور شتروگھن سنہا جیسے باغی لیڈران بھی شامل ہیں جو بی جے پی سے اپنا ناطہ توڑ چکے ہیں۔ اگر این ڈی اے کے سارے حلیف بی جے پی سے اپنا ناطہ توڑ لیتے ہیں تو عدم اعتماد کی تحریک کی صورت میں لوک سبھا اسپیکر سومترا مہاجن کو مودی سرکار بچانے کے لئے اپنا ووٹ دینے کے لئے اترنا پڑے گا۔ فی الحال مغربی یوپی کی کیرانہ لوک سبھا سیٹ پر ضمنی چناؤ باقی رہ گیا ہے۔ این ڈی اے میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری ہے اور حال ہی میں آندھرا کی تیلگودیشم پارٹی این ڈی اے سے علیحدہ ہوچکی ہے جبکہ شیوسینا پہلے ہی بی جے پی سے خار کھائے بیٹھی ہے۔ یوپی کے ضمنی چناؤ کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے شیوسینا ترجمان سنجے راوت نے کہاکہ میںیہ مانتا ہوں کہ ’’شری رام چندر جی کی سب سے زیادہ مذمت کرنے والے لیڈر (نریش اگروال) کے لئے جس دن آپ نے ریڈ کارپیٹ بچھایا اسی دن رام بھی آپ کے خلاف ہوگئے۔ ‘‘ عام خیال یہ ہے کہ بی جے پی اپنے ڈوبتے ہوئے جہاز کو بچانے اور اپنے پیروں تلے سے کھسکتی ہوئی سیاسی زمین کو واپس لانے کے لئے ایک بار پھر اپنے آزمودہ فرقہ وارانہ ایجنڈے کو ہی ہوا دے گی۔ وہ ایک بار پھر رام مندر کی تعمیر کے موضوع کو اچھال کر معاشرے میں منافرت پھیلائے گی اور ووٹروں کو مذہب کے خانوں میں تقسیم کرکے اپنا الّو سیدھا کرے گی۔ حال ہی میں آر ایس ایس کے لیڈر بھیاجی جوشی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ’’ ایودھیا میں رام مندر کے سوا کچھ اور نہیں بن سکتا۔‘‘ ظاہر ہے یہ بیان عدالت کی توہین کے مترادف تو ہے ہی اس سے سنگھ پریوار کے منصوبوں کا بھی پتہ چلتا ہے ۔ بی جے پی نے عدالت کے باہر اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے شری شری روی شنکر کے ذریعے جو جال بچھایا تھا اس میں کچھ مچھلیاں تو ضرور پھنسیں لیکن وہ اپنے انجام سے جلد ہی دوچار ہوگئیں۔ اب دیکھنا یہ کہ ملک کے عوام اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لئے اپوزیشن اتحاد کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں یا پھر وہ جذباتی موضوعات میں الجھ کر اپنے مسائل اور مشکلات میں اضافے کا راستہ کھولتے ہیں۔ 

Ads