Jadid Khabar

کرکٹر محمد سمیع اور حسین جہاں کا معاملہ

Thumb

بہت دن نہیں ہوئے، غالباً نو دس مہینے ہوئے ہوں گے کہ محمد سمیع اور حَسین جہاں اپنی شادی سے بیحد خوش تھے۔ خوشی کا عالم یہ تھا کہ میاں بیوی کی تصویریں وہاٹس اَیپ اور فیس بک میں وائرل ہورہی تھیں۔ اخبارات کے صفحات کی بھی زینت بن رہی تھیں۔ مسلمانوں کے طبقہ میں کثیر رائے ان لوگوں کی تھی کہ مسلم کرکٹر ہوکر اپنی بیوی کے حسن کی نمائش اور ننگے پن کا مظاہرہ اچھا نہیں۔ کچھ لوگوں کی رائے مختلف تھی کہ میاں بیوی ہیں، چاہے جیسے رہیں۔ ایسے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر وہ مسلمان ہیں تو جیسے چاہیں ویسے رہیں تو مشکل یہ آن پڑتی ہے کہ غیر یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوںکی نمائندگی ہورہی ہے اور وہ خوش ہوتے ہیں کہ مسلمانوں میں بھی بے حیائی اور بے شرمی عام ہے۔ اسے وہ آزاد خیالی اور روشن خیالی بتاتے ہیں۔ لوگ یقینا آزاد خیال بن کر اپنی بیوی اور اپنی بہن اور ماں کو جیسے چاہیں پبلک کے سامنے لے جائیں مگر جب ان کا نام مسلمانوں جیسا ہوتا ہے تو مسلمانوں کو یقینا تکلیف ہوگی کیونکہ ایسے لوگ بے حیائی اور بے شرمی کو فروغ دیتے ہیں۔ میں نے بھی اس موقع پر ایک مضمون لکھا تھا اور سمیع کی بیوی کی نیم برہنہ تصویر پر لکھا تھا کہ سمیع جو کچھ کر رہے ہیں یا اُن کی بیوی مجبوراً یا خوشی سے تسلیم کر رہی ہے یا برداشت کر رہی ہے ایک دن دونوں کو خمیازہ بھگتنا پڑسکتا ہے۔ میں نے لکھا تھا کہ اپنی بیوی کو سمیع کو چاہئے کہ چراغ خانہ بنائیں، شمع محفل نہیں؛ کیونکہ جو بیوی شمع محفل یا سبھا کی پری ہوجاتی ہے وہ کسی ایک کی بیگم نہیں ہوتی، وہ سوسائٹی یا معاشرہ کی بیگم ہوجاتی ہے۔ سب کی اس پر نظر پڑتی ہے۔ دیر تک اس کی حیا اور شرم باقی نہیں رہتی کیونکہ لوگوں کی نگاہیں ٹکراتی رہتی ہیں اسی لئے اکبر الہ آبادی نے کہا تھا ؎ 
وہ زنِ لطیف رہ نہیں سکتی جو ہے بے پردہ
 سبب ہے کہ نگاہوں کی مار پڑتی ہے 
 حدیث میں ہے ’’بے حیا باش ہر چہ خواہی کن‘‘ (جب تجھ میں حیا نہیں جو تیرا جی چاہے کر) 
کیونکہ جب حیا نہیں ہوگی تو خواہش، جس کا مبداء جبلّتِ حیوانی ہے، تجھ پر غالب آجائے گی اور کوئی برائی ترے لئے برائی نہیں رہے گی۔ 
اس کے برعکس اخلاقی یا اسلامی تربیت اس تعلیم یافتہ شرم و حیا کو اس قدر حساس بنا دیتی ہے کہ منکر کی جانب ادنیٰ سے ادنیٰ میلان اس سے مخفی نہیں رہتا اور نیت اور خیال کی ذرا سی لغزش کو بھی وہ تنبہ کئے بغیر نہیں چھوڑتی۔ حسین جہاں ایک عورت ہے، ا س کے اندر بے حیائی آتے آتے دیر لگتی ہے اور وہ بھی جس کی پرورش و پرداخت کسی اچھے مسلمان گھر میں ہوئی ہو جہاں حیا اور شرم کا چلن ہو۔ سمیع مرد ہیں اور کرکٹرس کے ساتھ رہتے ہیں جہاں لڑکے اور لڑکیوں کا ہجوم شیدائی بن کر داد حسن دیتا رہتا ہے۔ ظاہر ہے سمیع کی بیوی کا یہ الزام کہ وہ کراچی کی ایک خاتون سے دل لگا بیٹھے ہیں کوئی ایسا الزام نہیں ہے جس کا اس کے پاس ثبوت نہ ہو،سمیع کے موبائل میں لڑکی سے بات چیت کی ریکارڈنگ ہوگی۔ واٹس ایپ میں اس کی تصویر ہوگی۔ ثبوت کیلئے یہ چیز کافی ہے، جو اس کے ہاتھ لگ گیا ہے۔
کرکٹر یا فٹ بالر کی دنیا بڑی ہوجاتی ہے اور اس میں بننے اور بگڑنے کے بہت سے مواقع ہوتے ہیں۔ سمیع کو اظہر الدین کی زندگی سے بھی سبق لینا چاہئے تھا مگر وہ ایسا لگتا ہے چمک دمک کی دنیا سے متاثر ہوگئے۔ مغرب کی چمک بہتوں کی نگاہوں کو خیرہ کرتی ہے۔ ممکن ہے وہ اپنے فرائض منصبی کو بھول گئے ہوں اور دنیائے حسن ان کو اپنی طرف کھینچ لینے میں کامیاب ہوگئی ہو۔ اب جو دونوں کی باتیں آرہی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ سمیع اب بھی گھر بسانے کی فکر میں ہے۔ دونوں طرف کے رشتہ داروں کی کوشش شروع ہوئی ہے ۔ گھر کو ہر حال میں بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بسا بسایا گھر پر کسی کی نظر لگ جائے تو وہ باقی نہیں رہتا۔ اجڑ جاتا ہے۔ ہر گھر کو نظر بد سے بچانا چاہئے۔ خود اپنی نظر کو نظر بد کے حوالے نہیں کرنا چاہئے۔ حسین جہاں نے جسے اپنا وکیل کیا ہے وہ اچھے مسلمان ہیں۔ وہ یقینا گھر بسانے میں مدد کریں گے۔ بیوی کے لہجے میں بھی نرمی آئی ہے وہ کہہ رہی ہے کہ اپنی بچی کی زندگی کیلئے سمیع کی غلطیوں کو معاف کرسکتی ہے۔ سمیع کو بھی چاہئے کہ بجائے عذر لنگ پیش کرنے کہ اپنی غلطی کو تسلیم کرلے اور معافی کا خواستگار ہوجانا چاہئے۔ توبہ و استغفار سے بہت بڑی بڑی بلا ٹل جاتی ہے۔ دونوں کے جو قریب ہیں ان کو بھی چاہئے کہ مل جل کر اس خاندان کی خوشحالی اور خوشی کو لوٹانے کی کوشش کریں اور سمیع یا ان کی بیوی حسین جہاں ماضی کی زندگی سے سبق لیں اور ایک مسلمان کی حیثیت سے زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں۔ اگر شرم و حیا کے ساتھ زندگی بسر ہوتی ہے اور اسلامی آداب کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے ہیں تو شک و شبہ کو گھر میں داخل ہونے کا موقع نہیںملتا ہے ۔ اگر خدانخواستہ داخل ہو بھی جائے تو ایک ساتھ مل بیٹھ کر اس کا ازالہ جلد ہوجانا چاہئے۔ اس سے آنے والی مصیبت ٹل جاتی ہے اور دوسروں کو بھی سازش پیدا کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ 
آج جو لوگ روشن خیال یا جدت پسندی کو گلے لگائے ہوئے ہیں جہاں روشن خیالی اور جدت پسندی نے جنم لیا ہے اس جہان کا ایک بہت بڑا فلاسفر Emmanuel Macron (امانیول ماکرون) کہتا ہے: Modernity is disruptive i endorse that. (جدت پسندی ہنگامہ خیز اور بگاڑ کو راہ دیتی ہے، میں اسے تسلیم کرتا ہوں)۔ 

Ads