Jadid Khabar

ہادیہ کی جرأتِ ایمانی کو سلام

Thumb

24سال کی ایک نومسلم دوشیزہ نے اپنی جرأت ایمانی سے جو جنگ جیتی ہے، وہ تاریخ میں سنہرے حرفوں سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ اپنی مرضی اور خواہش سے اسلام قبول کرنے اور ایک مسلم نوجوان کو اپنا ہم سفر بنانے کی راہ میں ہادیہ کو جن مشکلات اور مصیبتوں سے گزرنا پڑا اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو نہ جانے کب کا ہار کر بیٹھ گیا ہوتا۔ لیکن ہادیہ نے نہ تو اپنے شوہر سے دور رہنا پسند کیا اور نہ ہی اسلام کو ترک کرنے کا دباؤ قبول کیا۔ یہاں تک کہ اسے دہشت گردی کے ایک بدنام زمانہ عالمی گروہ سے جوڑ کر رسوا کرنے کی بھی کوشش کی گئی لیکن ہادیہ نے اپنی جرأت ایمانی سے ان تمام طاغوتی طاقتوں کو زیر کردیا جو اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتی تھیں۔ہادیہ نے ملک کی سب سے بڑی عدالت سے اپنے ازدواجی حقوق کی جنگ ہی نہیں جیتی ہے بلکہ ایک ایسا معرکہ سر کیا ہے جو تاریخ میں بہت دور تک یاد رکھا جائے گا۔ ہادیہ کی کامیابی ان طاقتوں کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے، جو ایک بالغ لڑکی کو اس کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنا چاہتی تھیں اور اسے ایک مجرم بناکر سماج میں بدنام کرنا چاہتی تھیں۔ وہ کون ساالزام تھا جو ہادیہ اور اس کے شوہر شیفین جہاں پر نہیں لگایاگیا اور وہ کون سی سازش تھی جو ان کی جرأت ایمانی کو کمزور کرنے کے لئے نہ رچی گئی ہو۔ مگر یہ دونوں اپنے موقف پر اٹل رہے اور باطل قوتوں سے لوہا لیتے رہے۔ ہادیہ آخر تک یہی کہتی رہی کہ اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور وہ مرتے دم تک اس پر قائم رہنا چاہتی ہے۔ ظاہر ہے یہ ایمان کی ایسی حرارت ہے جس سے ہم پیدائشی مسلمان محروم ہیں اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے اپنے ایمان کا سودا کرتے پھرتے ہیں۔ ہادیہ ان تمام مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہے جو کلمہ گو ہونے کے باوجود نصرت الٰہی پر یقین نہیں رکھتے اور طرح طرح کی گمراہیوں میں مبتلاہوکر اپنا ایمان خراب کرتے ہیں۔

 سپریم کورٹ نے کیرل ہائی کورٹ کے اس حکم کو مسترد کردیا ہے جس میں شیفین جہاں سے ہادیہ کے نکاح کو خارج کرنے کا فیصلہ سنایاگیا تھا۔ اس نکاح کو’لوجہاد‘ کا ایک خطرناک معاملہ قرار دے کرکیرل ہائی کورٹ اس کی جانچ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے سپرد کردی تھی۔ حالانکہ یہ نکاح دونوں کی مرضی کے مطابق دستور کے تحت انجام پایا تھا۔ ہندوستان کا دستور دوبالغوں کو اپنی مرضی سے شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے اور اس معاملے میں مذہب ، ذات پات یا رنگ ونسل کی کوئی قید نہیں ہے۔ اس دستوری تحفظ کے باوجود کیرل ہائی کورٹ نے ہادیہ کے والد کی درخواست پر ایک ایسا فیصلہ صادر کردیا جس کی عدالتی تاریخ میں کوئی مثال ہی نہیں ملتی۔ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے ہادیہ کا نکاح منسوخ کردیا کہ’’ وہ اپنا اچھا برا سمجھنے کی حالت میں نہیں ہے اور اس کا برین واش کیاگیا ہے۔‘‘ اس موقع پر پولیس نے یہ دلیل دی تھی کہ ’’ہادیہ جیسی لڑکیاں تبدیلی مذہب کے بعد سیریا بھیجی جارہی ہیںاور ہادیہ نے بھی سیریا جاکر ’بھیڑ‘پالنے کی بات کہی تھی۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ کیرل ہائی کورٹ نے ہادیہ کا نکاح منسوخ کرتے وقت اس کے ناسمجھ ہونے کی جو بات کہی تھی، وہ پوری طرح غلط تھی چونکہ ہادیہ نکاح کے وقت نہ صرف بالغ تھی بلکہ وہ تعلیم یافتہ ہونے کے ناطے پوری طرح اپنا اچھا اور برا سمجھنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ہادیہ شروع سے ہی یہ کہہ رہی تھی کہ اس نے بہت سوچ سمجھ کر اسلام قبول کیا ہے اور اس کے بعد شیفین جہاں سے شادی کی ہے۔ نہ تو اس پر کوئی دباؤ تھا اور نہ ہی اس کا تعلق کسی دہشت گرد گروہ سے ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عدالت عالیہ نے ہادیہ سے گفتگو کئے بغیر ایسے نتائج اخذ کرلئے جو اس کے مقدمے کو کمزور کرتے ہوں۔ عدالت عالیہ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ایک قطعی غیر دستوری فیصلہ صادر کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے کیرل ہائی کورٹ کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہائی کورٹ کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں لیکن وہ کسی کی شادی رد کرنے کے لئے نہیں بلکہ دستور کی حفاظت کے لئے ہیں۔ہادیہ نے تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور شیفین جہاں سے شادی کی ہے۔‘‘ سپریم کورٹ نے ’لوجہاد‘ کے پہلو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ’’ این آئی اے کی رپورٹ میں کچھ تنظیموں کے ذریعے تبدیلی مذہب کی بات تو سامنے آئی ہے لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نکاح غیر قانونی ہے۔ سپریم کورٹ نے مزید کہاکہ ’’ہادیہ کے والد بھی ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کرپائے جس سے نکاح ناجائز ثابت ہوتا ہو۔‘‘ 
قابل غور بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے اتنے واضح حکم کے باوجود ہادیہ کے والد مسٹر اشوکن آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں اور وہ وہی رٹی رٹائی کہانی دہرارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’’ اپنی بیٹی کو ایک دہشت گرد کے پاس بھیجنا کسی بھی باپ کے لئے بے حد دردناک ہوتا ہے۔ میں اپنا درد بیان نہیں کرسکتااور اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی عرضی دائر کروں گا۔ ‘‘ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہادیہ کے والد بنیادی طورپر کمیونسٹ نظریات کے حامل ہیں لیکن بیٹی کے قبول اسلام اور ایک مسلم نوجوان سے نکاح کے بعد ان پر فرقہ پرست طاقتوں کا دباؤ اتنا شدید تھا کہ انہوں نے اپنے دماغ سے کام لینا ہی ضروری نہیں سمجھا۔انہوں نے اس معاملے کو ’لوجہاد‘ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے بیٹی کا جبری مذہب تبدیل کرانے کا الزام عائد کیا تھا اور ان کی عرضی پر ہی کیرل ہائی کورٹ نے دستور کے خلاف فیصلہ صادر کیا تھا۔ کیرل ہائی کورٹ نے گزشتہ سال 25مئی کو شادی منسوخ کرکے ہادیہ کو اس کے والد کی تحویل میں دے دیا تھا۔ جہاں وہ سخت گھٹن محسوس کررہی تھی۔ ہادیہ کے شوہر شیفین جہاں نے اپنی بیوی کے حصول کے لئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کردیا۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال نومبر میں ہادیہ کو والدین کی تحویل سے آزاد کرانے کا حکم سنایا تھا اور تب سے ہادیہ چنئی کے اپنے کالج کے ہاسٹل میں رہ رہی تھی۔ ہادیہ نے اس موقع پر عدالت میں اپنے اس موقف کو دہرایا تھا کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور اس کے والدین نے زبردستی اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔ اس بیان کے مدنظر سپریم کورٹ نے کہاکہ ہادیہ کو اپنا مستقبل طے کرنے کا حق ہے۔ سپریم کورٹ نے کیرل ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ’’دوبالغوں کی اپنی مرضی سے ہوئی شادی میں دخل اندازی کا اختیار کسی عدالت کو نہیں ہے۔ کوئی تیسرا فریق شادی میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔‘‘ تاہم چیف جسٹس دیپک مشرا کی بینچ نے یہ بھی کہا ہے کہ این آئی اے ’لوجہاد‘ سے وابستہ مجرمانہ پہلوؤں کی تحقیقات جاری رکھے گی اور ضرورت پڑنے پر ہادیہ کے شوہر کو گرفتار بھی کیاجاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ ہائی کورٹ نے گزشتہ سال 16اگست کو این آئی اے کو ہادیہ کے تبدیلی مذہب اور اس معاملے میں مبینہ مجرمانہ سرگرمی کی تحقیقات کا حکم دیا تھا کیونکہ این آئی اے کا دعویٰ تھا کہ کیرل میں ایسے معاملوں کا رجحان سامنے آرہا ہے۔ اس سے قبل 23جنوری کو بھی سپریم کورٹ نے کہاتھاکہ این آئی اے مبینہ ’لوجہاد‘کے معاملے کی چھان بین کرسکتی ہے لیکن وہ دوبالغوں کی شادی کی جانچ کیسے کرسکتی ہے۔ ادھر این آئی اے نے کہاہے کہ اس نے عدالت عالیہ کے حکم پر ہی معاملے کی جانچ شروع کی تھی جو تقریباً مکمل ہوچکی ہے۔ 
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس معاملے میں فرقہ پرست عناصر نے اپنی پسپائی دیکھتے ہوئے ہادیہ کے قبول اسلام اور شیفین جہاں سے اس کے نکاح کو نام نہاد ’لوجہاد‘ کا رخ دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہادیہ کے والد مسٹر اشوکن نے عدالت میں ’لوجہاد‘ سے لے کر دہشت گردی تک کے پہلو پر زوردیا اور وہ اب بھی اپنے اس موقف پر قائم ہیں۔ ہادیہ کے معاملے میں ہر پہلو سے تحقیقات کرنے کے باوجود ابھی تک این آئی اے کوئی ایسا سراغ نہیں ملا ہے جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ شیفین جہاں کے کسی دہشت گرد گروپ سے رابطے ہیں اور اس نے ہادیہ سے شادی اسی گروپ کے دباؤ میں کی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو این آئی اے اب تک شیفین جہاں کو گرفتار کرچکی ہوتی اور اس پر لاتعداد مقدمے قائم کردیئے گئے ہوتے۔ خود ہادیہ کے والد اپنے الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکے ہیں۔ اس لئے اس بات کی پوری امید ہے کہ ہادیہ اور اس کے شوہر کے نکاح کو نام نہاد ’لوجہاد‘اور دہشت گردی سے جوڑنے کی کہانی بھی تاش کے پتوں کی طرح بکھرجائے گی۔ 

Ads