Jadid Khabar

میں تجھے بتاؤں ناصح جو ہے فرق مجھ میں تجھ میں

Thumb

رات کو سوچ رہا تھا کہ کل نیا کالم کس موضوع پر لکھوںکہ آنکھ لگ گئی۔صبح جاگا توشکیل بدایونی کی ایک دلکش غزل کایہ شعر ذہن کے نہاں خانہ سے نکل کراچانک کانوں میں گونجنے لگا:
میں بتاﺅں تجھ کو ناصح، جو ہے فرق مجھ میں تجھ میں
میری زندگی طلاطم تیری زندگی کنارہ
راست وحی کا نظام تو ختم رسالت کے ساتھ ختم ہوا ۔لیکن اللہ والے، جن کے دل گناہوں سے پاک اور زندگی تقوٰی کی صورت ہوتی ہے، ان پر بھی گاہے ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے، جس کوالہام یا القاکہتے ہیں۔ ہم جیسے گناہ گاروںکے ساتھ بھی کبھی کبھی یہ ہوتا ہے کہ گزرے زمانے کی کوئی بات یا کوئی نیا خیال اچانک ذہن پر چھاگیا ۔ میں نے یہ غزل غالباً 1961یا 1962 میں پڑھی تھی اور بار بارپڑھی تھی۔ پھربھول گیا۔ شاعر نے نجانے کیف وسر مستی کے کس عالم میں یہ شعرکہا ہوگا، لیکن غورکیاجائے تولگتا موجودہ منظرنامے کاعکس اس میں اتاردیا گیا ہے۔دیکھئے کیسے۔
تبلیغی اجتماعات
گزشتہ دنوںاورنگ آباد سے پے درپے خبریں،تصویرں اورویڈیو تبلیغی اجتماع کے آتے رہے، بے شمار افراداس میں شریک نظرآئے۔ چند ماہ قبل اترپردیش کے قصبہ شیرکوٹ میں علاقائی اجتماع میں بھی لاکھوںنے شرکت کی۔ جس تحریک کی بنیاد اخلاص اورللٰہیت کے ساتھ ڈالی جاتی ہے، وہ یوںہی پھلتی پھولتی اور مقبول ہوتی ہے ، چاہے بعد کے دنوں میں اس کی بنیادوںمیں دیمک ہی کیوںنہ لگ جائے۔ اس تحریک کاآغاز حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی ؒ نے دہلی سے متصل میوات علاقے میں ارتدادکی لہرکوروکنے کےلئے کیا تھا۔ وہ بنگلہ والی مسجد، نظام الدین کے مدرسہ کاشف العلوم میں پڑھاتے تھے۔وہ جمعرات کی شام ایک دو اصحاب کو ساتھ لے کراس علاقے میںچلے جاتے، چھٹی کا جمعہ کا دن وہیں گزارتے۔ گھرگھرجاکر دستک دیتے ۔ کلمہ یاددلاتے اورنماز کی طرف متوجہ فرماتے۔ مسجد میں لاتے اور نہایت سادہ انداز میں وعظ ونصیحت کرتے۔اس دور میں اس کام میں نہ دولت تھی، نہ شہرت اورنہ دکھاوا اورنہ اس کی خواہش۔اس خاموش تحریک کا اچھا اثر ہوا۔ لیکن جولائی1944میںصرف 59سال کی عمر میں وفات ہوگئی۔ ان کے بعد ان کے صاحبزادہ مولانا محمد یوسف ؒنے کام کا بیڑا اٹھایا۔حالات خراب تھے اورکام کا تقاضا زیادہ۔ میں جب بھی گاو¿ں سے دہلی آتا توقیام نظام الدین میں مرکز کے قریب لال محل میںہوتا۔ان کے خطاب بھی سنے، انہماک اورلطف و التفات بھی دیکھااورتوکل کا مشاہدہ بھی ہوا۔ مخلصین کاتعاون ان کو خوب ملا۔ تحریک تیزی سے پھیلتی گئی۔لیکن ان کی عمر نے بھی زیادہ وفا نہیںکی۔ 48سال کی عمر میںوفات پائی۔ یہ 1965 کی بات ہے ۔ صحت کی خرابی کے باوجود پاکستان کے دونوں حصوں کا طویل دورہ کیا۔ درجنوں اجتماعات سے خطاب کیا۔ آخری خطاب لاہورمیںہوا۔ ڈاکٹروں نے لاکھ چاہا کہ آرام کریں اور تقریر نہ کریں۔ مگراس جذبہ کو سلام کہ مولانا مرحوم نے کہہ دیا، لوگ منتظرہیں، ان کو مایوس نہیںکیا جا سکتا ۔ تقریر بھی طویل ہوئی اور دعابھی لمبی کرائی۔ دلسوزی کا جومنظربندھا ہوگا،اس کا صرف تصور ہی کیا جاسکتاہے۔ لیکن اسی کے ساتھ اس مجاہد کا سفرحیات بھی پورا ہوا۔ جلسہ گاہ سے فوراً اسپتال لے جایاگیا ۔مگرقضاوقدر کے فیصلے کوکون ٹال سکتاہے۔ 
ان کے بعد مولانا انعام الحسنؒ کا دورآیا وہ1995تک تیس سال امیر رہے۔ کام خوب پھیلا۔ ان کی وفات کے بعد مولانا اظہارالحسنؒ کا دور آیا۔ مگربہت مختصررہا۔یہ چاروںحضرات سلف صالحین کا نمونہ تھے۔ علامہ ابن خلدون نے شہرہ آفاق کتاب ’مقدمہ‘ میں اقوام اورخاندانوں کے عروج و زوال کے تاریخی تجزیہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ چار نسلیںترقی کی منزلیں طے کرتی چلی جاتی ہیں ۔ان کے بعدآنے والی نئی نسلوں کو اندازہ ہی نہیں ہوتا ورثہ میں جوکچھ ملا وہ کس محنت کا پھل ہے۔ چنانچہ انحطاط شروع ہوتا ہے ۔سب سے پہلے اصولوں سے انحراف اور اخلاقی انحطاط گھیرتا ہے۔ تفصیل کا موقع نہیں۔لیکن حالیہ واقعات وحالات سے یہ تکلیف دہ احساس ہوتاہے کہ اب سربراہان اور کارکنان میںوہ احتیاط پسندی نہیں رہی جوپہلے ان کی پہچان تھی۔فکرونظرمیں وسعت اورہرکسی کو اپنے دامن میںسمیٹ لینے کی چاہ کے بجائے برعکس ذہنیت کی علامتیںنظرآرہی ہیں۔فکرونظرمیں وسعت اورغیروں کو بھی اپنے دامن میں سمیٹ لینے کی فکر کے بجائے اب اپنے بھی غیر نظر آنے لگے ہیں اورنوبت دست وگریباں تک پہنچ گئی ہے۔ بہت سی خرابیاںدولت کی ریل پیل سے پیدا ہوتی ہےں۔ اب ایک خبریہ آئی ہے کہ تبلیغی نصاب میں مسائل کوبھی شامل کیا جائے گا۔ بانیان تحریک نے نصاب کو اکرام مسلم، عبادات اور فضائل اعمال تک محدوداس لئے رکھا تھا کہ مسائل میں اختلاف ہوتاہے۔ جیسے ہی مسائل کا باب کھولیں گے فقہی اختلافات اورپھر ان میںہمارامتشدد رویہ انتشار کا باعث بنے گا۔ اللہ اپنا کرم فرمائے۔
حیدرآباد کا جلسہ
اسی دوران ایک بڑاجلسہ حیدرآباد میںمسلم پرسنل لاءبورڈ کا ہوا جس میں منظرانتشار اورتلخ کلامی کا تھا اوراپیل ملت سے اتحا د کی تھی۔ بزرگوں کی بے ادبی اورزبان کی بے احتیاطی سے وقار مجروح ہوا۔ دل بہت دکھا۔ سنا ہے اس پر لاکھوں خرچ ہوئے، جس کابڑاحصہ ایک ہی صاحب نے عطیہ کیا اور پھر جلسہ عام میں نہایت ناپسندیدہ انداز میں تقریرفرمائی اورواہ واہی لوٹی۔ اسی کے ضمن میں ملک بھر میں جابجاجلسہ جلوسوں کی خبریں آرہی ہےں۔ اللہ ان میںشریک ہونے والوں کو توبیشک ان کی نیت کا اجردے گا مگراس تدبیر کی مقصدیت اورافادیت غور طلب ہے۔ 
شام کاغم
جلسہ جلوسوں اورمظاہروں کاایک تیسراسلسلہ شام کی خانہ جنگی کے حوالے سے شروع ہواہے۔ چندروز قبل ہمارے ایک کرم فرما نے چاہا کہ ان کی مجلس میں حاضرہوکرشام کے واقعات پراپنے مشاہدات بیان کروں۔ میں نے ان حالات کا اس وقت تک بغورمطالعہ نہیں کیا تھا۔معذرت کرلی۔ پھرجو سوشل میڈیا پربے شمار ویڈیو، فوٹواورمیڈیا پرخبریںدیکھیں تو ساری سازش آئینہ ہوگئی۔ ہم نے یہ دیکھا ہی نہیں کہ اس میڈیا مہم کی سرخیل وہی امریکی اوریہودی لابی ہے جس کی رگ وپے میں اسلام اورمسلم دشمنی سمائی ہوئی ہے۔اسی لابی نے پہلے افغانیوں کو نشانہ بنایا ۔ دہشت گردی کا بہانا کرکے ملک کو تباہ کردیا اور گیارہ لاکھ سے زیادہ افغانی باشندوں کوشہید کردیا۔لپٹ پاکستان تک پہنچی۔ پھر عراق پرجھوٹ باندھ کر یلغار کی اور ایک ترقی یافتہ ملک کوکھنڈر کردیا ۔سربراہ مملکت صدام حسین کو پھانسی پرچڑھوادیا۔ چھ لاکھ سے زیادہ عرب عورتوں، مردوںاوربچوںکو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ یہی حشر لیبیا کاکیا۔ قذافی کے خلاف متحد ہو گئے۔ ہوائی حملے کرکے ملک کو تباہ کر دیا۔ اور تیل کی دولت پر قبضہ کرلیا ۔
 اب یہ تصدیق ہوچکی ہے کہ داعش ،آئی ایس آئی ایس وغیرہ کے نام سے جن وحشیوں نے اسلام کا نام لے کر شام کونشانہ بنایا تھاوہ امریکا کے جمع کئے ہوئے سفاک مجرم تھے۔ شام ایک نہایت پرامن اورترقی یافتہ ملک تھا جس میں خواندگی صد فیصد تھی۔ تعلیم کا معیار بلند،شہرخوبصورت ۔ بیشک باشندگان کی اکثریت سنی اور حکمراں شیعہ ہیں۔ لیکن سب امن چین سے رہ رہے تھے۔ اس میں آگ کو بھڑکایا کس نے اورکیوں؟ کیا مسلمانوں سے ازلی پرخاش رکھنے والے سنیوں کے خیرخواہ بن گئے تھے؟ نہیں۔ مقصد یہ تھا کہ شام میں بھی ان کی کٹھ پتلی حکومت قائم ہو۔
ادھر ایک پروکسی جنگ امریکا نے روس کے خلاف چھیڑرکھی ہے۔ امریکا کو یہ گوارہ نہیں کہ روس پھربڑی طاقت بنے۔ پہلے یوکرین میں مداخلت کی اوراب شام میں تختہ پلٹ کی سازش شکست سے دوچار ہے۔ ترکی میں بھی تختہ پلٹ کی کوشش ہوئی۔ ایران پربس نہیںچل رہا۔بشارالاسد کوجو اقتدارسے برطرف کرانا چاہتے ہیں وہ ہرگز اسلام اورمسلمانوں کے ہمدردنہیں؟ یہ میڈیامہم ان کی ہی چھیڑی ہوئی ہے اورہم بغیرسوچے سمجھے، ان کے پیچھے چل پڑے ہیں،حالانکہ اللہ کا دوٹوک ارشاد ہے، ” اگرکوئی منافق بدکارتمہارے پاس کوئی خبرلے کرآئے توخوب تحقیق کرلیا کرو۔ ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچادو، پھرتم کو اپنے کہے پر نادم ہونا پڑے۔ (الحجرات آیت 6)
وہجومتعدد ویڈیوزگشت کررہے ہیں، ان کو توجہ سے دیکھئے اور سنئے۔ سب میں ایک خاص یکسانیت ہے ۔محسوس ہوتاہے کہ ایک ہی ذہن کی پیداوارہیں۔ ڈائلاگس اکثرانگریزی میں ہیں حالانکہ شام میں عوامی زبان عربی ہے ۔دوسری زبان فرینچ ہے نہ کہ انگریزی۔غورسے دیکھئے لاشوں کے دلخراش منظر فرضی نظرآرہے ہیں۔دنیانے آج تک کوئی ایسی جنگ نہیں دیکھی جس میں صرف بچے ہی مرے ہوں اوران کی میتوں کی قطاریں الگ لگی ہوں۔
رپورٹوں میں بھی تضاد ہے۔ بی بی سی اور سی این این پرجائیں، یایہودی کنٹرول والی خبررساں ایجنسیوں کو پڑھیں اورپھر الجزیرہ اور صنعاوغیرہ کودیکھیں ، دہشت گرد اور حملہ آوربدل جاتے ہیں۔ ابھی چند روز قبل شام کے تباہ شدہ شہر الپو کے باشندہ ایک صحافی معاذن کااین ڈی ٹی وی پر انٹرو آیا۔ ان کاپوراکنبہ الپو میں ہے ۔انہوںنے کہا حالات ہرگز اتنے سنگین نہیں جتنے یہ فرضی ویڈیو دکھا رہے ہیں ۔یہ سب کارستانی اسرائیل امریکی لابی کی ہے ۔لگتا ہے کہ لاشیںبھی کسی فیکٹری میں بنائی گئی ہیں تاکہ ایک رائے عامہ ترکی، ایران اورشام کے خلاف بناکر اپنا مقصد پورا کیا جائے۔ فلسطین کا مسئلہ پیچھے دھکیل دیا جائے۔
اب ذرا یہ غورکیجئے ہم مسلم مفاد کو نقصان پہنچانے والوں کے آلہ کارکتنی آسانی سے بن جاتے ہیں۔ ہم اسلام اورمسلمان تو بھول جاتے ہیں اور شیعہ سنی ، وہابی اورغیروہابی میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔ یہ بات پہلے بھی لکھی تھی کہ ہماری امت اپنا ایجنڈا خود نہیں بناتی بلکہ کس وقت ہم کیا کریں ؟یہ کوئی نامعلوم پادری، کسی اخبار کا کارٹونسٹ ، کوئی فلم ساز اورکوئی دشمن اسلام طے کرتا ہے۔جب امریکی سازش سے مسلم ممالک میں عدم استحکام کی لہریں اٹھ رہی تھیں ،توہمارے دانشوربہت شور مچا رہے تھے ’بہارعرب ‘ کا۔ کہاں گئی وہ بہار؟ تباہی ہی تباہی ہے ہر طرف۔اب شام، ایران اور ترکی کو نشانہ بنایا جارہاہے اورہم انجانے میں ماحول سازی کی مہم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ 
ایک مثال یہ بھی ہے
اب اپنی ان مصروفیات اوران پر کروڑوں کے مصارف کااندازہ کیجئے ، اس کے بعداپنے سے بھی چھوٹی اقلیت کا حال دیکھئے۔ چنڈی گڑھ کی ایک سکھ تنظیم ’گروگرنتھ صاحب سیواسوسائٹی‘ نے تین سال قبل سیکٹر18میں آنکھوں کاایک خیراتی اسپتال قائم کیا۔اس میںبلاامتیاز مذہب غریبوں کی آنکھوں کا علاج و آپریشن مفت ہوتا ہے۔ اس کی افادیت کے پیش نظر امریکا میںمقیم سکھوںنے ایک کروڑ کی مشینری بھیجی۔مقامی سکھ بھائیوں نے کروڑوں کا ساز وسامان فراہم کیا۔اب اس کے جنرل سیکریٹری مسٹرہرجیت سبھروال (Cell-9814017102)نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے کسی بھی کونے سے کوئی بھی غریب شخص آئےگا تواس کا رہنا،کھانا،آنکھ کی دوا علاج، آپریشن ، چشمہ سب فری اورجن کے پاس پیسہ نہیں ان کو آنے جانے کا کرایہ بھی۔(تفصیل یوٹیوب پر)
مجھے یہ خیال ہوا کہ خدمت خلق کایہ کام توہمارے کرنے کا تھا، ہم اپنے وسائل کو کن کاموںمیںلگارہے ہیں؟ جوہمارے کرنے کے کام ہیں، جن سے دنیا میں عوام کے دلوںمیں اورمرنے کے بعد جنت میں جگہ ملتی ہے ، ہم ان کو بھول گئے۔ افسوس کہ وہ بڑھیا جس کی گٹھری حضورصلعم نے اٹھا کر منزل تک پہچائی تھی، اورراستہ بھر اس کی جلی کٹی سنی تھی، وہ صرف وعظوں کی زینت بن کر رہ گئی ہے۔حالانکہ ہر قدم پرکوئی نہ کوئی بندہ خدامعذورمجبور ہمیں ملتاہے ، جس کی مصیبت کی گٹھری رسول صلعم کی پیروی میںہمیں اٹھانی چاہئے۔ وہ خاتون جو آپ پرروزکوڑاڈالتی تھی، صرف زیب داستاںبن رہ گئی ہے۔انسانیت کی خدمت کا جذبہ اور دشمن جاں کی عافیت کی فکرہمارے کرداروںکو حصہ بن جائے تو نفرتیں محبتوں میں بدل جائےں گی اوربہت سے مسائل خودبخود حل ہوجائیں۔سنئے شکیل بدایونی نے کیا کہا ہے! 
سخت سہی ہستی کے مراحل، عشق میں راحت آج بھی ہے
اے غمِ جاناں! ہو نہ گریزاں، تیری ضرورت آج بھی ہے
گلشنِ حسنِ یار میں چلیے، ہے جو تلاشِ کیف و سکوں
لاکھ ہے برہم نظمِ دو عالم، زلف میں نکہت آج بھی ہے
Cell:9818678677

 

Ads