Jadid Khabar

بابری مسجد سے دستبرداری اور شنکر اچاریہ

Thumb

شنکراچاریہ جنیندر سرسوتی گزشتہ بدھ کو 83سال کی عمر میں چل بسے۔ وہ 1954میں محض 19برس کی عمر میں شنکراچاریہ بنے تھے۔ انہوں نے 65برس تک کانچی کام کوٹی کی گدی سنبھالی۔ شنکراچاریہ پر قلم اٹھانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ آج کل ہندو مذہبی رہنما ایودھیا تنازع کو گفتگو کی میز پر حل کرنے کی جو کوششیں کررہے ہیں، اس کی داغ بیل شنکراچاریہ نے 2002میں سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے دور اقتدار میں ڈالی تھی اور مسلمانوں کے اندر اپنے ایسے کئی ہم نوا پیدا کرلئے تھے جو بابری مسجد کی دستبرداری کے ان کے فارمولے پر’رضامند‘ ہوگئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اٹل بہاری واجپئی نے ایودھیا تنازع حل کرنے کی ان کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا تھا اور انہیں ہندو مسلم اتحاد کا سب سے بڑا علمبردار قرار دیاتھا۔ اس مسئلے پر ہم ذرا آگے چل کر گفتگو کریں گے پہلے ایک نظر شنکراچاریہ پر ڈالتے ہیں۔ یوں تو ہندوو¿ں میں شنکر اچاریوں کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن کانچی کام کوٹی پیٹھ کے شنکر اچاریہ جنیندر سرسوتی اس سلسلے کے سب سے اہم شنکر اچاریہ تھے کیونکہ کانچی مٹھ کانچی پورم میں واقع سب سے اہم ہندو مٹھ ہے اور یہاں کے مٹھادیش کو شنکر اچاریہ کہاجاتا ہے۔ یوں تو آج کل شری شری روی شنکر ایودھیا تنازع کاعدالت سے باہر حل تلاش کرنے کے لئے ہاتھ پاو¿ں ماررہے ہیں لیکن ہندو مذہبی لیڈروں میں اس سلسلے کی سب سے پہلی کوشش شنکر اچاریہ نے ہی کی تھی اور وہ مسلم پرسنل لاءبورڈ کے کئی ممبران کو شیشے میں اتارنے میں کامیاب بھی ہوگئے تھے لیکن یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔شنکراچاریہ کوجو رتبہ حاصل تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ جب وہ اس وقت کے صدرجمہوریہ ڈاکٹر عبدالکلام سے ملاقات کرنے راشٹرپتی بھون پہنچے تھے تو ڈاکٹر کلام نے انہیں صدرجمہوریہ کی کرسی پر بٹھایا تھا۔ جب شنکر اچاریہ نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہاتھا کہ وہ ایسا اس لئے کررہے ہیں تاکہ اس کرسی پر آپ کا آشیرواد قائم رہے۔ یہ بھی پہلا موقع تھا کہ صدرجمہوریہ نے ایک مہمان کو اپنی کرسی پر بٹھا کر خود کھڑے ہوکر اس کی تواضع کی تھی۔ 
اب آئیے ہم اپنے اصل موضوع یعنی بابری مسجد کی طرف آتے ہیں۔ حال ہی میں جب مسلم پرسنل لاءبورڈ کی مجلس عاملہ کے رکن اور ندوہ کے استاد مولانا سلمان ندوی نے شری شری روی شنکر سے ملاقات کرکے بابری مسجد کی منتقلی کا فارمولہ تجویز کیا تھا تو اس پر خاصا ہنگامہ برپا ہوا تھا جو مولانا سلمان ندوی کے مسلم پرسنل لاءبورڈ سے اخراج پر ختم ہوا۔ ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب کسی عالم دین کو اس بات پر آمادہ کیاگیا ہے کہ وہ بابری مسجد طشتری میں سجاکر فریق مخالف کو پیش کردے بلکہ اس سے قبل 2002میں شنکراچاریہ جنیندر سرسوتی نے جب اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی تھی تو ان کے ذہن میں بھی یہی فارمولہ تھا کہ مسلمان بابری مسجد کی ملکیت سے دستبردار ہوکراسے رام مندر کی تعمیر کے لئے ہندوو¿ں کو سونپ دےں۔ اس سلسلے میں شنکراچاریہ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے صدر کو جو تجویز بھیجی تھی اس میں رام مندر کی تعمیر کا آغاز کرنے کے لئے یہ فارمولہ تجویز کیاگیا تھا کہ متنازع مقام کی جوں کی توں حالت برقرار رہے اور اس کے اردگرد رام مندر کی تعمیر کا کام شروع کردیا جائے۔ یعنی جس مقام پر بابری مسجد ایستادہ تھی اور جسے ہندو فریق ”گربھ گرہ “ کے نام سے پکارتا ہے، وہ جگہ عدالتی فیصلے تک ایسے ہی رہنے دی جائے اور مندر کی تعمیر کا کام اس کے گردوپیش سے شروع کردیا جائے۔ مسلم پرسنل لاءبورڈ کے ذمہ داران اس فارمولے پر غور کرنے کے لئے تیار بھی ہوگئے تھے لیکن یہ فارمولہ جب تحریری طورپر بورڈ کے صدر کے پاس بھیجا گیا تو اس میں بابری مسجد کی اراضی کو بھی رام مندر کی تعمیر میں شامل کرلیاگیا تھا۔ یعنی شنکر اچاریہ نے اس معاملے میں ایفائے عہد کرنے کی بجائے مسلم پرسنل لاءبورڈ کو بابری مسجد کی اراضی رام مندر کی تعمیر کے لئے فریق مخالف کے سپرد کرنے کی بات کہی تھی۔ اس سے شنکر اچاریہ کی نیت کا بخوبی اندازہ ہوگیا تھا اور یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ وہ ایک غیر جانبدار ثالث کی بجائے پوری طرح وشوہندوپریشد کے اشاروں پر کام کررہے ہیں۔ بعد کو جب یہ معلوم ہوا کہ مسلم پرسنل لاءبورڈ کے بعض ذمہ داران شنکر اچاریہ کے اشاروں پر کام کررہے تھے تو ان کی خاصی گوشمالی بھی ہوئی۔ 
بہر کیف مولانا سلمان ندوی مسلمانوں میں ایسے اکیلے عالم دین یا قائد نہیں ہیں جو خون خرابہ روکنے کے لئے بابری مسجد سے دستبرداری کی تجویز پیش کررہے ہیں بلکہ اور لوگ بھی اس نہج پر کام کررہے ہیں۔ حال ہی میں نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں آل انڈیا یونائیٹیڈ مسلم مورچے کی’ اصلاح معاشرہ کانفرنس‘ میں کہاگیا ہے کہ اقلیتوں کے جان ومال اور قانونی حقوق تحفظ کی شرط پر بابری مسجد سے دستبردار ہوا جاسکتا ہے۔ مورچے کے صدر اور سابق راجیہ سبھا ممبر ڈاکٹر اعجاز علی نے اس اجلاس میں بابری مسجد سے دستبردار ی کے لئے یہ شرط پیش کی ہے کہ اقلیتوں کے جان ومال کے تحفظ اور انہیں ایس سی ، ایس ٹی ، انسداد تشدد ایکٹ کے زمرے میں شامل کیاجائے تو وہ بابری مسجد پر سمجھوتہ کرسکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یونائیٹیڈ مسلم مورچے کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے جان ومال کے تحفظ کی گارنٹی کے عوض بابری مسجد پر سمجھوتے کی تجویز پیش کرے۔ یہ درحقیقت اس مورچے کے ذمہ داروں کے ایمان کی کمزوری کی علامت ہے کیونکہ جان ومال اور عزت وآبرو کا محافظ خدا ہے۔ اگر کوئی شخص جان ومال کے تحفظ کی گارنٹی کے عوض شعائر اسلامی سے دستبردار ہونے کی بات کرتاہے تو وہ اسلام کے بنیادی عقیدے سے کھلواڑ کرتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس اجلاس میں ایک مشہور عالم دین جو خیر سے اس مورچے کے جنرل سکریٹری بھی ہیں، موجود تھے۔ لیکن انہوںنے جان ومال کے تحفظ کے عوض بابری مسجد سے دستبرداری کی اس قطعی غیر اسلامی تجویز پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور وہ اپنی نشست پر مضبوطی سے جمے رہے۔ بابری مسجد کا معاملہ درحقیقت اس ملک میں مسلمانوں کے مذہبی تشخص اور دستوری حقوق کا معاملہ ہے۔ اس کو اگر کوئی شخص دوسری عینک سے دیکھتا ہے یا اس پر اپنی سیاسی دکانداری کرنا چاہتا ہے تو وہ سخت گمراہی میں مبتلا ہے۔ ماضی میں مسلمان بابری مسجد کے تحفظ اور اپنے دینی تشخص کی بقاءکے لئے بے مثال قربانیاں پیش کرچکے ہیں۔ جولوگ فی زمانہ امن وامان کے قیام اور مسلمانوں کے جان ومال کے تحفظ کے عوض بابری مسجد سے دستبرداری کی تجویز لے کر گھوم رہے ہیں، وہ اس حقیقت سے قطعی لاعلم ہیں کہ بابری مسجد اس ملک میں مسلمانوں کے دستوری اور مذہبی حقوق کی کسوٹی ہے۔ بابری مسجد کے معاملے میں عدالت کا فیصلہ اس ملک میں مسلمانوں کے مذہبی تشخص اور ان کی بقاءکا فیصلہ ثابت ہوگا۔ بابری مسجد کے خلاف شرانگیز مہم چلانے اور اسے شہید کرنے والے عناصر درحقیقت اس ملک میں اسلام اور مسلمانوں کا وجود مٹانے پر کمربستہ ہیں۔ وہ بابری مسجد کو ”فتح“ کرکے مسلمانوں کو زیر کرنا چاہتے ہیں اور انہیں دوئم درجے کا شہری بنادینا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان پوری شدت کے ساتھ اپنے مذہبی تشخص کے بقاءکی جنگ لڑرہے ہیں اور وہ خانہ¿ خدا کی بازیابی کے لئے اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار ہیں۔ 

 

Ads