Jadid Khabar

فوجی سربراہ کازعفرانی بیان

Thumb

آسام کے غریب اور بدحال مسلمانوں کے شہری حقوق سے کھلواڑ کرنا فرقہ پرست سیاست دانوں کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ انہوں نے آسام کے مسلمانوں پر بنگلہ دیشی درانداز ہونے کا الزام عائد کرکے سیاست کی جو روٹیاں سینکی ہیں اس کے نتیجے میں آج وہاں بی جے پی برسراقتدار ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بی جے پی کو آسام میں اپنے قدم جمانے میں کافی وقت لگا ہے۔ آسام میں بی جے پی کے عروج میں ہوئی تاخیر پر سنگھ پریوار کا کوئی لیڈر تشویش ظاہر کرے تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن جب اس معاملے میں فوج کا سربراہ باقاعدہ عوام کے درمیان بیان دے تو اس پر تنازع کھڑا ہونا لازمی ہے۔ ہندوستانی سپاہ کو دنیا کی بہترین پیشہ ور افواج میں اس لئے شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ صرف اپنے کام سے کام رکھتی ہے۔ لیکن جس تیزی کے ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں میں سیاسی جراثیم داخل ہورہے ہیں، اس سے فوج بھی محفوظ نہیں ہے۔ حالیہ عرصے میں ایسی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں جس میں ہندوستانی فوج کے سربراہ اپنی خدمات سے سبکدوش ہونے کے بعد باقاعدہ سیاست میں داخل ہوئے اور وزیر بھی بن گئے۔ فوج کے کچھ سبکدوش افسران ہر روز شام کو ٹی وی چینلوں کے پرائم ٹائم کی محبوب غذا بن گئے ہیں اور باقاعدہ حکمراں جماعت کی وکالت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہمیں ان پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد سیاسی عزائم کی تکمیل اب ایک فیشن بن چکی ہے۔ نوکر شاہوں کے بعد فوجی اہلکار بھی اس قطار میں نظر آتے ہیں۔ ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ موجودہ فوجی سربراہ جنرل وپن راوت کے کوئی سیاسی عزائم ہیں اور وہ سبکدوش ہونے کے بعد ان کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے حالیہ بیان نے اٹکلوں کا بازار گرم کردیا ہے۔ 

 ہماری فوج جس مہارت اور پیشہ وارانہ طریقوں سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی ہیں، وہ قابل تعریف ہے۔ اب تک ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر یہ کہاجائے کہ فوج میں مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر کوئی تفریق برتی جاتی ہے۔ ہمارے فوجی جوان مذہب اور ذات پات سے اوپر اٹھ کر ملک کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ لیکن بری فوج کے سربراہ جنرل وپن راوت نے آسام میں بی جے پی کے عروج میں ہوئی تاخیر اور اے یو ڈی ایف کی مقبولیت میں تیزی کے حوالے سے جو بیان دیا ہے وہ نہ صرف ان کے وقار کے منافی ہے بلکہ ان کے ذہن میں موجود فرقہ وارانہ جراثیم کا سراغ بھی دیتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ آسام کی سیاسی صورت حال کا تجزیہ کرتے وقت جانب دارانہ بیان نہیں دیتے ۔ دہلی میں ڈی آر ڈی او کی طرف سے منعقدہ جس سیمینار میں انہوں نے یہ بیان دیا ہے اس کا عنوان تھا ’’فاصلوں کو کم کیجئے اور سرحدوں کو محفوظ بنائیے۔‘‘ ان کے بیان سے سرحدوں کو محفوظ کرنے میں کتنی مدد ملے گی یہ ہمیں نہیں معلوم لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس بیان سے فاصلے مزید بڑھ گئے ہیں۔ مذکورہ سیمینار میں جنرل راوت نے آسام کے اضلاع میں مسلم آبادی میں اضافے کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا بدرالدین اجمل کی پارٹی یوڈی ایف کا بھی ذکر کیا اور کہاکہ صوبے میں اس کا عروج 1980 کی دہائی سے بی جے پی کی ترقی کے مقابلے میں زیادہ تیزی کے ساتھ ہوا ہے۔ فوجی سربراہ نے 1984میں پارلیمنٹ میں بی جے پی کی محض دوسیٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ’’یوڈی ایف نام کی ایک پارٹی ہے۔ اگر آپ اس پر نظردوڑائیں تو پائیں گے کہ بی جے پی کے ابھرنے میں برسوں لگ گئے جبکہ وہ (یوڈی ایف) بہت کم وقت میں ابھری۔ ‘‘ جنرل راوت کے اس بیان کا پس منظر یہ پروپیگنڈہ تھا کہ آسام میں بنگلہ دیش سے دراندازی کرنے والے لوگ یوڈی ایف میں شامل ہوکر اس کا ووٹ بینک بن گئے ہیں جس کی وجہ سے اس کی سیاسی طاقت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ جنرل راوت نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ’’ آسام میں پہلے پانچ اضلاع میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی جبکہ اب تقریباً آٹھ اضلاع میں مسلمان اکثریت میں ہیں جس کی وجہ بنگلہ دیش سے ہونے والی دراندازی ہے۔ ‘‘ 
دلچسپ بات یہ ہے کہ فوج نے اپنے سربراہ کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی گفتگو میں کوئی سیاسی یا مذہبی تبصرہ نہیں تھا اور انہوں نے سیمینار میں صرف ترقی اور اتحاد کی بات کی تھی۔ اس معاملے میں ایم آئی ایم کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی کا کہنا ہے کہ ’’فوجی سربراہ کو کسی پارٹی کے عروج پر سوال کھڑا کرنے کی اجازت نہ تو جمہوریت دیتی ہے اور نہ ہی ملک کا دستور۔‘‘ ہم یہاں بیرسٹر اویسی کے ایک اور بیان کا حوالہ دینا چاہیں گے جس پر کافی واویلا مچ چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے کشمیر کے سنجواں علاقے میں ہوئے دہشت گردانہ حملہ میں فوج کے جو سات جوان شہید ہوئے تھے، اس میں پانچ مسلمان فوجی تھے۔ اس واقعہ پر بیرسٹر اویسی نے اپنے بیان میںمسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھانے والوں سے پوچھا تھا کہ دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوئے مسلمانوں پر وہ خاموش کیوں ہیں؟بیرسٹر اویسی کے اس بیان پر نہ صرف میڈیا اور فرقہ پرست عناصر نے تیکھی تنقید کی تھی بلکہ خود فوج نے بھی اس پر اپنا ردعمل ظاہر کیا تھا۔ شمالی کمان کے چیف لیفٹیننٹ جنرل دیوراج نے کہاتھا کہ’’ شہید کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ہم شہادت کو مذہبی رنگ نہیں دیتے۔ جولوگ ایسی باتیں کرتے ہیں انہیں فوج کے طرز عمل کے بارے میں معلومات نہیں ہے۔‘‘ لیفٹیننٹ جنرل کے اس بیان کی آڑ لے کر میڈیا نے بیرسٹر اویسی پر خاصی تنقید کی تھی اور حکمراں جماعت کے لیڈروں نے بھی انہیں سخت سست کہا تھا۔ اویسی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فوج کے بعض سابق اہلکاروں نے یہ بتایا تھا کہ عام لوگوں کو فوج کے ڈھانچے کا علم نہیں ہے۔ فوج میں سبھی لوگ ہندو اور مسلم کے طورپر نہیں بلکہ ہندوستانی کے طورپر کام کرتے ہیں۔ لیکن اب جبکہ خود فوجی سربراہ جنرل وپن راوت نے آسام میں مسلم آبادی سے متعلق فرقہ وارانہ اور سیاسی بیان دیا ہے تو اس پر میڈیا کو سانپ سونگھ گیا ہے اور حکمراں جماعت کے لیڈران بھی گہری نیند سوگئے ہیں۔

Ads