Jadid Khabar

ہتھیار نہ ہوئے، کھلونے ہوگئے

Thumb

عجیب قوم ہیں یہ امریکہ والے۔ ہتھیاروں اور کھلونوں میں تمیز نہیں کرتے۔ بندوق اور پستول نہ صرف پاس رکھتے ہیں بلکہ انہیں استعمال کرتے ہیں اور وہ بھی بے دریغ۔ ہم بھی اپنے ہاں کے ایسے لوگوں سے واقف ہیں جواپنے گھروں کی دیواروں پر پھول بوٹے نہیں بلکہ بھانت بھانت کے ہتھیار سجاتے ہیں۔ صرف یہی نہیں۔ دشمنی کے نام پر مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں۔ لیکن امریکہ والے تو کسی دوسرے ہی سیارے سے آئے ہیں۔ ہتھیار تان کے گولیاں برساتے ہیں۔انہیں اس سے غرض نہیں کہ کون مرا اور کون بچ رہا۔ عجیب بات یہ ہے کہ کسی نئے قانون کے نفاذ کی راہ میں رکا وٹ نہیں ڈالتے۔ بس صرف ایک قانون نا منظور ہے، ہتھیاروں کے آزادانہ استعمال پر روک تھا م کا قانون۔ حال ہی میں ریاست فلوریڈا کے ایک ہائی اسکول میں بچوں کے قتل ِ عام کا جو واقعہ ہوا ہے، اس نے تمام باشعور لوگوں کے دل دہلا دئیے سوائے ان امریکیوں کے، جو اپنی بات پر اڑے ہوئے ہیں۔ انہیں ہتھیاروں پر پابندی لگانے کی بات گوارا نہیں۔ اسکول میں گھس کر بچوں کو بے دریغ مارنے کے وہاں حالیہ برسوں میں سترہ واقعات ہو چکے ہیں۔ ہر واقعہ کا منظر نامہ ہو بہو ایک جیسا ہوتا ہے۔ کوئی سر پھرا شخص پورا اسلحہ خانہ اٹھائے اسکول کی عمارت میں داخل ہوتا ہے، مناسب مقام ڈھونڈ کر اپنا مورچہ قائم کرتا ہے اور جوں ہی بچّے اس کی زد میں آتے ہیں ،وہ فائر کھول دیتا ہے اور جب تک پکڑا نہ جائے یا خود مارا نہ جائے، قتل عام کی یہ کارروائی جاری رہتی ہے۔ اس کے بعد جو ہوتا ہے وہ بھی ہر بار ایسے ہوتا ہے جیسے کسی ڈرامے کا سین بار بار دہرایا جارہا ہو۔ پہلے ہر ایک رنج و الم کی تصویر بن جاتا ہے۔ پھر وہی رٹا رٹایا جملہ کہا جاتا ہے کہ ہم غم زدہ کنبوں کے حق میں دعا کر رہے ہیں اور ہمیں ان سے ایسی ہمدردی ہے کہ کیا عرض کریں۔ اس کے فوراًبعدکہیں سے کمزور سی آواز اٹھتی ہے کہ ہتھیاروں کے آزادانہ استعمال پر پابندی لگنی چاہئے۔ پھر یوں لگتا ہے کہ یہ آواز اٹھانے والوں کو کسی نے گھرکی دے کر خاموش کردیا۔ دو چار روز کے اس رٹے رٹائے مکالمے کے بعد روز مرہ کا کاروبار یوں چل نکلتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔ 
لیکن اس بار کا منظر ذرا مختلف ہے۔ اس مرتبہ ایک نیا مکالمہ سنا گیا۔ وہ ماں باپ جنہوں نے صبح بچوں کو خدا حافظ کہہ کر اسکول بھیجا تھا اور ذرا ہی دیر بعد بچوں کے قتل کی خبر آگئی ،انہوں نے اور اپنے ہم جماعت ساتھیوں کو خون میں نہاتے اور دم توڑتے دیکھنے والے بچّوں نے پہلی بات یہ کہی کہ ہمیں آپ کی دعائیں نہیں چاہئیں، اپنی ہمدردی اپنے ہی پاس رکھئے اور اب وقت آگیا ہے کہ ہتھیاروں کے بارے میں کوئی پالیسی بنائیے۔ دعاؤں سے انکار کی بات کو سرسری نہ لیا جائے۔ عقیدے میں رخنہ پڑنا بہت کچھ سوچنے پر اکساتا ہے۔ اعتقاد اٹھ جائے تو ذر ادیر ٹھہر کرا س پر غور کرلیا جائے توا چھا ہو۔ سیاستدانوں کی رٹی رٹائی باتیں سننے کے بعد جب یوںمحسوس ہونے لگے کہ دعائیں بے اثر ہونے لگی ہیں تو سارا گناہ کسی اور پر نہیں، سیاست دانوں کے سر جاتا ہے۔ انہیں دل کو بہلانے کے سارے جادو آتے ہیں۔نہیں آتا تو کچھ کر دکھانے کا ہنر۔
اب ہم یہ منظر دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ کے ہائی اسکولوں کی لڑکیاں او رلڑکے دارالحکومت واشنگٹن میں ملک کے حکمراں کے گھر کے سامنے جا پہنچے ہیں اور ایک اور نعرہ لگا رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں: بس بہت ہو چکا مراد ان کی یہ ہے کہ امریکہ کے بازارو ں میں بندوقیں، پستولیں ، کارتوس او رگولیاں جس طرح چنے مْرمْرے کے بھاؤ بِک رہی ہیں، ان کی روک تھا م ہونی چاہئے۔ وہائٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کرنے والے نو جوانوں نے احتجاج کا ایک نیا ڈھب نکالا ہے۔ باری باری سترہ لڑکیاں اور لڑکے فرش پر یوں دراز ہوجاتے ہیں جیسے سترہ لاشیں پڑی ہوں۔ یہ علامت ہے ان کے اْن ہی سترہ ساتھیوں کی جو فلوریڈا کے اسکول کے اندر قتل عام کی واردات میں جان سے گئے تھے۔ 
اب سوال یہ کہ وہائٹ ہاؤس میں بیٹھے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیا کہتے ہیں۔ انہوں نے بڑی جذباتی تقریر میں کہا تھا کہ آج کے بعد سارے اسکولوں ، بچوں اور عملے کی حفاظت کی جائے گی۔ اب یہ بتایا جارہا ہے کہ صدر ٹرمپ اس خیال کے حامی ہیں کہ جو شخص بھی ہتھیار خریدنے جائے، پہلے اس کے حالات،خاص طور پراس کی دماغی حالت کی اچھی طرح چھان پھٹک کرلی جائے۔ فلوریڈا کے اسکول میں جس لڑکے نے لاشوں کے انبار لگائے ، وہ ایک بار دماغی امراض کے اسپتال ،یعنی عام زبان میں پاگل خانے جا چکا ہے اس کے باوجود اس نے ایک سال کے دوران سات رائفلیں خریدیں جن میں ایک اے آر پندرہ سیمی آٹومیٹک رائفل بھی تھی۔ اس روز بچّوں کو قتل کرنے کے لئے وہ یہی نیم خود کار رائفل لے کر آیا تھا۔ اس کا قصہ یہ تھا کہ وہ اسی اسکول کا طالب علم رہ چکا تھا لیکن اپنی نا مناسب حرکتوں کی وجہ سے اسکول سے نکالا گیا تھا۔ اس نے اس کارروائی کا بدلہ یوں لیا۔ اسکول کی عمارت میں داخل ہوکر اس نے بڑی چالاکی سے آگ کے خطرے کا سائرن بجادیا۔ اس پر بچّے غول در غول باہر نکلنے لگے۔ یہی وقت تھا جب بہت سے بچوں کو نشانہ بنایا جاسکتا تھا، سو وہ اس نے خوب خوب بنایا۔
اخبار والوں نے اس کے باپ سے پوچھا کہ تمہارا بیٹا کیسا تھا؟ اس نے کہا:میں نے اپنی پوری زندگی میں اسے کبھیI Love You نہیں کہا۔
(مضمون نگار لندن میں مقیم صحافی اور براڈ کاسٹرہیں)

Ads