Jadid Khabar

نہ خدا ہی ملا‘ نہ وصالِ صنم

Thumb

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے حیدرآباد اجلاس سے واپسی کے بعد ارادہ تھا کہ  شریعت اسلامیہ کے تحفظ اور بابری مسجد کی بازیابی سے متعلق داخلی اور خارجی سطح پربورڈ کوجو مسائل درپیش ہیں، ان پر تفصیلی روشنی ڈالوں گا۔ لیکن بدقسمتی سے بورڈ کا سہ روزہ اجلاس ابتدا میںہی مولانا سلمان ندوی کے تنازع پر مرکوز ہوگیا اور دیگر امور پس منظر میں چلے گئے ۔ بابری مسجد کی دستبرداری سے متعلق ان کے مصالحتی فارمولے نے ایک طرح سے بورڈ کے اجلاس کو یرغمال بنالیا اور کئی ایسے مسائل لوگوں کی توجہ حاصل نہیں کرسکے، جو بورڈ کے اجلاس میں زیر بحث آئے تھے۔ حالانکہ بابری مسجد کے مسئلے میں اپنے ہاتھ جلا لینے کے بعد مولانا سلمان ندوی نے اس تنازع کو حل کرنے سے توبہ کرلی ہے لیکن گزشتہ ایک ہفتے کے دوران انہوں نے میڈیا کو جو بیانات اور انٹرویوز دیئے ہیں، ان سے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ساکھ ضرور متاثر ہوئی ہے۔ لوگ یہ سوچ کر پریشان ہیں کہ بورڈ جیسے باوقار ادارے میں اس قسم کے لوگ بھی موجود ہیں جو سواد اعظم کے خلاف اس حد تک جاسکتے ہیں۔ مولانا سلمان ندوی کی بدنامی محض ایک شخص کی بدنامی نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ ندوۃ العلماء اور خانوادۂ رائے بریلی تک پھیلا ہوا ہے۔ حالانکہ یہ بات مولانا سلمان ندوی کو پہلے سے ہی معلوم تھی کہ بابری مسجد کیس کی سماعت آخری مراحل میں ہے اور ملک کی سب سے بڑی عدالت یہ واضح کرچکی ہے کہ وہ اس مسئلے کا فیصلہ عقیدے یا آستھا کی بجائے حق ملکیت کی بنیاد پر کرے گی۔ عدالت عظمیٰ نے ایسا اس لئے بھی کہا ہے کہ بابری مسجد کا تنازع دراصل حق ملکیت کا تنازع ہے جہاں 6دسمبر 1992سے پہلے بابری مسجد ایستادہ تھی لیکن فریق مخالف نے اس مقدمے کو اپنی آستھا سے جوڑ کر پیچیدہ تر بنادیا ہے۔ مولانا سلمان ندوی اس حقیقت کو بھی بخوبی جانتے تھے کہ ان سے قبل ملک کے کئی سرکردہ علماء ، سیاست داں اور دانشور اس مسئلے کو گفتگو کی میز پر حل کرنے کی کوششیں کرچکے ہیں لیکن اس معاملے میں ہر مرتبہ ناکامی ہی ہاتھ لگی ہے کیونکہ فریق مخالف گفتگو کی میز پر یہ مطالبہ کرتا چلا آرہا ہے کہ مسلمان بابری مسجد پر اپنے دعوے سے دستبردار ہوجائیں۔ 

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کے معزز رکن اور ندوۃ العلماء لکھنؤ کے جید استاد مولانا سید سلمان ندوی ایک 16رکنی وفد لے کر گزشتہ 7فروری کو بنگلور گئے تھے، جہاں انہوں نے آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر سے ملاقات کے دوران ایودھیا تنازع کو حل کرنے کاجو فارمولہ پیش کیا وہ انتہائی متنازع اور ناقابل قبول تھا۔ نہ صرف یہ کہ انہوں نے حنبلی مسلک کا حوالہ دے کر بابری مسجد کی منتقلی کا جواز پیش کیا بلکہ اس کے عوض دوسوایکڑ زمین لے کر وہاں ایک اسلامی یونیورسٹی اور مسجد اسلام بنانے کی تجویز پیش کی۔ اس خبر کے عام ہونے کے بعد مولانا سلمان ندوی اور ان کے رفقاء زبردست تنقیدوں کی زد میں آگئے اور ان پر چاروں طرف سے لعن طعن ہونے لگی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ شری شری روی شنکر کے دست راست امرناتھ مشرا نے مولانا سلمان ندوی پر دوسوایکڑ زمین اور 5ہزار کروڑ روپے طلب کرنے کا جو سنگین الزام عائد کیا ہے، وہ زمین اور پیسہ مسجد اسلام یا اسلامی یونیورسٹی کی تعمیر کے لئے طلب کیاگیا تھا یا پھر اس کے پس پشت کوئی اور مقصد کارفرما تھا۔ اس ذیل میں راجیہ سبھا کی نشست کی خواہش کا معاملہ کافی پیچیدہ ہے کیونکہ اس طلب میں ’کیسے کیسے ایسے ویسے‘ ہوچکے ہیں۔ مولانا سلمان ندوی پر بابری مسجد سے دستبرداری کے عوض رشوت طلب کرنے کا جو سنگین الزام عائد کیاگیا ہے، اس پر کسی کو یقین نہیں آرہا ہے۔ اس قسم کے الزامات کو خود شری شری روی شنکر ہی نہیں بلکہ رام جنم بھومی مندر نرمان سمیتی کے صدر مہنت گیان داس نے بھی مسترد کردیا ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ امرناتھ مشرا نے اپنے دعوے کی تصدیق کرانے کے لئے باقاعدہ پولیس میں ایف آئی آر درج کرائی ہے اور اس معاملے میں حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کو بھی مطلع کردیا ہے۔ 
گزشتہ 9فروری کی شام مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کا اجلاس حیدرآباد کے اویسی اسٹیڈیم میں ہونا طے تھا لیکن وہاں میڈیا کی موجودگی کی وجہ سے اجلاس کی جگہ تبدیل کرکے اویسی ہاسپیٹل کے بورڈ روم میں منتقل کردی گئی۔ اویسی اسٹیڈیم کے باہر بنائے گئے میڈیا سینٹر میں اخبار نویس دیر رات تک خبر کی تلاش میں بھٹکتے رہے۔ جب اخبار نویسوں کو یہ پتہ چلا کہ خود مولانا سلمان ندوی بھی عاملہ کی میٹنگ میں موجود ہیں تو ان کا تجسس کئی گنا بڑھ گیا۔ عاملہ کی یہ میٹنگ چارگھنٹے سے زیادہ چلی۔ اس میٹنگ میں جب مولانا سلمان ندوی سے یہ پوچھا گیا کہ انہوں نے بورڈ کے موقف کے خلاف راہ کیوں اختیار کی ہے تو وہ ہتھے سے اکھڑ گئے۔ انہوں نے کوئی معقول جواب دینے کی بجائے بورڈ کے بعض ممبران پر جوابی الزامات لگائے۔ ان کا خاص نشانہ عاملہ کے ایک دیگر ممبر اور بورڈ کے ترجمان مولانا سجاد نعمانی تھے جن کی ایک متنازع ویڈیو کلپ پر جو خود مولانا سلمان نے میڈیا کو فراہم کی تھی خاصا ہنگامہ بھی ہوا۔ غرض یہ کہ مجلس عاملہ کی میٹنگ رات 11بجے اختتام کو پہنچی اور میڈیا سینٹر میں بابری مسجد سے متعلق بورڈ کے موقف پر مبنی چند سطری بیان پڑھ کر سنایاگیا۔ اس بیان میں کہاگیا تھا کہ ’’بابری مسجد کے سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ جس جگہ ایک دفعہ مسجد بن جاتی ہے تو وہ قیامت تک کے لئے مسجد ہی رہتی ہے۔ بیان میں مزید کہاگیا کہ جب بھی ہندو مذہبی رہنماؤں کی طرف سے مصالحت کی پیش کش ہوئی تو بورڈ نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ ان سے منصفانہ اور باعزت حل پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن ان کا ہمیشہ ایک ہی جواب رہا کہ مسلمان یک طرفہ طورپر مسجد سے دستبردار ہوجائیں مگر مسلمان ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ کسی مسجد کو غیراللہ کی عبادت کے لئے دینا قطعاً حرام ہے اور شریعت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ‘‘ 
بورڈ کے اس واضح موقف کے منظر عام پر آنے کے باوجود مولانا سلمان ندوی نے اپنی روش ترک نہیں کی اوراگلی صبح ایک حکومت نواز ٹی وی چینل کو ایسا انٹرویو دے ڈالا جس میں بورڈ کے وجود پر ہی سوالیہ نشان قائم کردیا اور عاملہ کے بعض ممبران پر جوابی الزامات عائد کئے۔ انہوں نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نام کو انگریزوں کا دیا ہوا قرار دے کر اس کے متوازی شریعت ایپلی کیشن بورڈ بنانے کا بھی اعلان کردیا۔ حالانکہ یہ وہی بورڈ ہے جس سے مولانا ندوی اساسی ممبر کے طورپر گزشتہ 30سال سے وابستہ ہیں۔ جس وقت مولانا ندوی کا بیان ٹی وی پر نشر ہورہا تھا تو بورڈ کے کئی ارکان اور مدعوئین اویسی اسٹیڈیم میں بورڈ کی میٹنگ کے دوران ہی اسے اپنے موبائل پر دیکھ رہے تھے۔ اگلے روز 11فروری کی صبح جب مولانا سلمان ندوی کو بورڈ سے علیحدہ کرنے کا اعلان کیاگیا تو پورا ہال نعرہ تکبیر اللہ اکبر سے گونج اٹھا۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ مولانا ندوی کا موقف ملی مفادات کے قطعی خلاف تھا اور وہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے جنہوں نے ان سے چند روز بھی وفا نہیں کی۔ نہ صرف یہ کہ وہ بورڈ سے الگ کردیئے گئے بلکہ جن لوگوں کے ساتھ بھائی چارہ قائم کرنے کی باتیں وہ بلند آواز میں کررہے تھے خود انہوں نے ہی انہیں زرخرید میڈیا کا چارہ بنادیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس پورے معاملے سے مولانا سلمان ندوی کو کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے جن لوگوں کے سامنے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جگ ہنسائی کرائی تھی، انہوں نے انہیں رشوت خور اور سودے باز جیسے برے الفاظ سے نوازا۔ ہمیں افسوس اس بات کا ہے کہ مولانا علی میاں ندوی ؒ جیسی عبقری شخصیت کے نواسے، ندوۃ العلماء کے مقبول استاد اور جید عالم دین مولانا سلمان ندوی جانے یا انجانے میں ایک ایسی سازش کا شکار ہوگئے جس نے انہیں اپنوں اور بے گانوں دونوں میں رسوا کردیا۔ ان کا یہ حشر دیکھ کر ہمیں ایک پرانا شعر یاد آتا ہے   ؎
نہ خدا ہی ملا ‘نہ وصالِ صنم
نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے
 

Ads