Jadid Khabar

مسلم پرسنل لاء بورڈکا’ ماڈل نکاح نامہ‘

Thumb

تین طلاق کو ختم کرنے کے لئے مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ایک ’ماڈل نکاح نامہ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس نکاح نا مے کے مطابق دولہا کو تحریری یقین دہانی کرانی ہوگی کہ وہ بیوی کو ایک بار میں تین طلاق نہیںدے گا۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس ماڈل نکاح نامے کو نافذ کرنے کا فیصلہ ایک ایسے مرحلے میں کیا ہے، جب تین طلاق کو قابل سزا جرم قرار دینے کا بل پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں زیر التوا ہے جبکہ لوک سبھا اسے منظوری دے چکی ہے۔ گزشتہ سال اگست میں سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کو غیر دستوری اور ناجائز قرار دے کر اسے ختم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے سپریم کورٹ کی منشاء کے مطابق طلاق ثلاثہ کو قابل سزا جرم قرار دینے کا بل لوک سبھا میں اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھاکر پاس کرالیا۔ لیکن راجیہ سبھا میں یہ بل اپوزیشن کی مخالفت کی وجہ سے قانون میں تبدیل نہیں ہوسکا۔ اپوزیشن نے اس بل کی افادیت پر سوالات کھڑے کئے ہیں اور اس میں ضروری ترمیمات کے لئے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کے لئے کہاہے لیکن حکومت اسے جوں کا توں پاس کرانا چاہتی ہے اور وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ اس معاملے میں مودی سرکار کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کی افتتاحی تقریر میں صدر جمہوریہ کے خطبے کے اندر بھی اسے ایک اہم نکتہ کے طورپر شامل کیا۔ صدرجمہوریہ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’کئی دہائیوں سے مسلم خواتین کا وقار سیاسی مفادات کی خاطر داؤ پر لگادیا گیا تھا۔ اب قوم کو انہیں آزادی دلانے کا موقع ملا ہے۔ ‘‘ صدرجمہوریہ نے مزید کہا کہ ’’حکومت نے تین طلاق کا بل پارلیمنٹ میں پیش کردیا ہے اور مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ اس قانون کو جلد ہی پاس کردے گی۔ یہ قانون مسلم بہنوں اور بیٹیوں کو عزت نفس اور حوصلے کے ساتھ جینے کے لائق بنائے گا۔ ‘‘ 

صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کے اس بیان سے تاثر ملتا ہے کہ طلاق ثلاثہ کی وجہ سے مسلم خواتین کا وقار داؤ پر لگا ہوا تھا اور وہ غلامی کی زندگی بسر کررہی تھیں۔ لہٰذا اب انہیں آزادی دلانے کا نادر موقع حکومت کے ہاتھ آیا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ طلاق ثلاثہ کو حکمراں جماعت نے سیاسی مفادات کی خاطر اتنے بڑے موضوع میں تبدیل کیا ہے۔ ورنہ معاشرے میں مجموعی طورپر طلاق کی شرح کا جائزہ لیاجائے تو یہ مسلم معاشرے میں سب سے کم ہے اور دیگر قوموں میں زیادہ ہے۔ لیکن حکومت اور زرخرید میڈیا کے پروپیگنڈے نے یہ تاثر قائم کردیا ہے کہ مسلم معاشرے میں طلاق ہی سب سے محبوب مشغلہ ہے اور مسلمان مرد اپنی عورتوں کو اٹھتے بیٹھتے صرف طلاق ہی دیتے رہتے ہیں۔ انہیں اس کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں ہے۔ طلاق ثلاثہ کو بی جے پی نے مسلم مخالف میڈیا کی مدد سے اتنا بڑا موضوع محض اس لئے بنایا ہے کہ وہ مسلمانوں کو بدنام کرسکے اور انہیں اپنی خواتین کا دشمن قرار دے سکے۔ یہی وجہ ہے کہ جن خواتین نے طلاق ثلاثہ کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا انہیں بی جے پی بھرپور حمایت فراہم کررہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان خواتین کو طلاق ثلاثہ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لئے باقاعدہ قانونی اور مالی امداد فراہم کی گئی ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ طلاق ثلاثہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے والی عشرت جہاں ایک مظلوم خاتون کے طورپر بی جے پی میں شامل ہوجاتی ہے اور کانپور کی طلاق شدہ صوفیہ احمد کواترپردیش اقلیتی کمیشن کاممبر نامزد کردیاجاتا ہے۔ 24سالہ صوفیہ احمد کی شادی جون 2015میں سماج وادی پارٹی کے ایک مقامی لیڈر کے بھائی سے  ہوئی تھی ۔ صوفیہ کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر نے نشے کی حالت میں اسے طلاق طلاق طلاق کہہ کر آدھی رات کو گھر سے نکال دیا۔ اس کی گو دمیںچالیس دن کی شیرخوار بچی بھی تھی۔ اس کے بعد صوفیہ احمد نے دسمبر 2016میں بی جے پی میںشمولیت اختیار کی اور اب وہ صوبائی اقلیتی کمیشن کی ممبر بنادی گئی ہیں،جو صوبائی کابینہ کے ڈپٹی وزیر کے برابر عہدہ ہے۔ بی جے پی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’صوفیہ کو اقلیتی کمیشن کا ممبر اس لئے بنایاگیا ہے کیونکہ وہ طلاق ثلاثہ کی متاثرہ ہے اور پارٹی طلاق ثلاثہ کی شکار ہونے والی خواتین کی مدد کرنے کے لئے عہد بند ہے۔ ‘‘
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ طلاق ثلاثہ کے خلاف محاذ آرائی مسلم خواتین کی ہمدردی کے لئے نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے تحت مسلمانوں کو نیچا دکھانے کے لئے کی جارہی ہے۔ورنہ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ مسلم معاشرے میں طلاق ثلاثہ کو کبھی اچھی نظر سے نہیں دیکھاگیا اور اسے نا پسندیدہ عمل قرار دیا گیا۔ خود مسلم پرسنل لاء بورڈ نے تین طلاق دینے والوں کا سماجی بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی تھی اور اب اسے مکمل طورپر ختم کرنے کے لئے ماڈل نکاح نامہ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں میں تین طلاق کے عمل کو روکنے کے لئے بورڈ کی جانب سے اپنے ماڈل نکاح نامے میں ہی یہ دفعہ شامل کی جائے گی جس کے تحت شادی کرنے والے مرد کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ تین طلاق (طلاق بائن) نہیں دے گا۔ اس سلسلے میں بورڈ کے ترجمان مولانا سجاد نعمانی کا کہنا ہے کہ’’ سماجی بیداری کے بغیر ملک میں کوئی بھی نظام کامیاب نہیں ہوسکتا۔تین طلاق کے زیادہ تر معاملے کم پڑھے لکھے لوگوں میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بورڈ دیہی علاقوں میں کام کرے گا۔ مدرسوں اور طلباء کے ذریعے لوگوں تک یہ پیغام پہنچایاجائے گا اور بیداری کے لئے سوشل میڈیا کو بھی بروئے کار لایاجائے گا۔ ‘‘
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اپنے قیام سے ہی ہندوستان میں شریعت اسلامی کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل ہے۔ شاہ بانو معاملے میں پارلیمنٹ سے مسلم مطلقہ قانون بنوانے میں بورڈ کی مخلص قیادت نے اہم کامیابی حاصل کی تھی۔ اس وقت مولانا علی میاں ؒ کی قیادت میں بورڈکے اندر ملت کے جید علماء اور سربرآوردہ دانشور شامل تھے۔ لیکن آج جب اسلامی شریعت پر حملے ہورہے ہیں اور موجودہ حکومت مسلم پرسنل لاء کو ختم کرکے یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی تیاریاں کررہی ہیں تو بورڈ کی قیادت پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ موجودہ حکومت کی بدنیتی کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ اس نے طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون سازی کرتے وقت مسلم پرسنل لاء بورڈ تو کجا عام مسلمانوں میں سے بھی کسی ایک فرد سے صلاح ومشورہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ظاہر ہے کسی بھی معاشرے میں اصلاح کا اصل کام داخلی سطح پر ہوتا ہے اور وہی اصلاح کارگرہوتی ہے جو سماج کے اندر سے ہوتی ہے۔ لیکن یہاں معاملہ یہ ہے کہ مودی سرکا رمسلمانوں پر ایک ایسا قانون تھوپنا چاہتی ہے جس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے ۔ طلاق دینے والا مرد جیل چلاجائے گا اور اس کے بیوی بچے دردر کی ٹھوکریں کھائیں گے۔ جیل جانے کے باوجود طلاق واقع نہیں ہوگی اور جیل سے واپس آنے کے بعد وہ اسی خاتون کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوگا جس کی وجہ سے اسے جیل جانا پڑا۔ یوں بھی جب سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کو غیر دستوری اور غیر قانونی قرار دے دیا ہے تو اس پر کسی قانون سازی کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ حکومت ایک سول معاملے کو فوجداری قانون میں تبدیل کرکے نت نئے معاشرتی مسائل کو جنم دینا چاہتی ہے۔ جس قانون کو مسلم بہنوں اور بیٹیوں کو عزت نفس اور حوصلے کے ساتھ جینے کے لائق بنانے کا دعویٰ کیاجارہا ہے، وہ طلاق شدہ خواتین کی زندگی کو اجیرن بنا دے گا اور ان کے بچوں کا مستقبل تاریک کردے گا۔ انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ حکومت طلاق ثلاثہ کو قابل سزا جرم قرار دینے کے عزائم سے باز آجائے اور مسلم پرسنل لاء بورڈ مسلم معاشرے میں بیداری پھیلانے اور سماجی برائیوں کو دور کرنے کا کام ہنگامی پیمانے پر انجام دے۔ اس بات کو بھی یقینی بنایاجائے کہ ماڈل نکاح نامہ پوری طرح کارگر اور قابل عمل ہو۔

Ads