Jadid Khabar

راجیہ سبھا میں بی جے پی کے صدر کی پہلی تقریر

Thumb


راجیہ سبھا کے رکن بننے کے بعد اپنی سوا گھنٹے کی پہلی تقریر میں بی جے پی کے صدر امت شاہ نے یہ ثابت کرنے کی زیادہ کوشش کی کہ وہ صرف وزیراعظم کے رازدار اور دوست ہی نہیں ہیں بلکہ ایک منجھے ہوئے سیاسی لیڈر ہیں۔ اور وہ صرف نریندر مودی کے پندرہ پندرہ لاکھ روپئے کے خطرناک مذاق کو انتخابی جملہ کہنا ہی نہیں جانتے ہیں بلکہ اپنے وزیراعظم کے پکوڑوں کے مشورہ کو صحیح ثابت کرنا بھی جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب چائے والے کا بیٹا وزیراعظم بن سکتا ہے تو پکوڑے بنانا شرم کی بات نہیں اور پکوڑے بنانے کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے اور پکوڑے بنانا خود روزگار ہے لیکن کچھ لوگ اس کا موازنہ فقیروں سے کررہے ہیں۔
امت شاہ بات کو سنبھالنے کی کوشش تو کرتے رہے لیکن بات ان سے سنبھلی نہیں۔ یہ کس نے کہا کہ پکوڑے بنانا یا کوئی بھی مجبور ہوکر اپنا کوئی کام کرنا برا ہے۔ بات تو ہورہی تھی حکومت کے وعدوں کی کہ وہ ہر قسم کے بے روزگاروں کو روزگار دے گی وہ سرکاری نوکریاں ہوں یا غیرملکی کمپنیوں میں پرائیویٹ نوکری جس کا نہ صرف ایک بار بلکہ بار بار وعدہ کیا تھا اور اب یہ جان کر حکومت کا ہر وعدہ جھوٹا ہوتا جارہا ہے اور نئے روزگار دینے کے بجائے لگے لگائے روزگار بھی نوٹ بندی کی لعنت سے 80  لاکھ ختم ہوگئے اور وہ سب فاقے کررہے ہیں۔
چائے بناکر بیچنا ٹھیلہ لگاکر سبزی فروخت کرنا یا اپنے گھر کے باہر تخت بچھاکر پکوڑے یا ایسی ہی چیزیں بناکر فروخت کرنا یا بنے بنائے چپس ٹافی اور چاکلیٹ جیسی بچوں کی دلچسپی کی چیزیں فروخت کرنا کوئی عیب کی بات نہیں ہے اور ان کاموں کے لئے نہ کسی امتحان کی ضرورت ہے اور نہ ڈگری کی۔
امت شاہ نے صرف صدر محترم کے خطبہ کے شکریہ پر ہی تقریر نہیں کی بلکہ وزیراعظم نریندر مودی کے ان معاملات کو خراج تحسین ادا کیا جس کا صدر کے خطبہ میں کوئی ذکر نہیں تھا۔ شاہ نے جن دھن کھاتوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب ہماری حکومت آئی تو 60  فیصدی لوگوں کے کھاتے نہیں تھے نریندر مودی نے 319  کروڑ جن دھن کھاتے کھولے اور ان میں 73  ہزار کروڑ روپئے جمع ہوئے۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ ان جمع ہونے والے روپیوں میں سے بینکوں نے کتنا لوٹا۔ یہ بات ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کہ ناری شکشا نکیتن میں ایک بچی جب چھٹے درجہ میں داخل ہوئی تو اس سے کہا گیا کہ بینک میں اکائونٹ کھلوائو۔ اس نے اپنی غریب ماں سے کہہ کر جیسے تیسے اکائونٹ کھلوایا جو 500  روپئے میں کھلا۔ یہ اکائونٹ اگست میں کھلوایا گیا۔ دسمبر کے مہینہ میں اس بچی نے اپنے جمع کئے ہوئے چار سو روپئے اپنے اکائونٹ میں جمع کرنا چاہے تو بتایا گیا کہ تمہارے صرف 500  روپئے تھے اس لئے اس میں سے ہر مہینہ  88-50  کٹتے رہے اس لئے اب کچھ نہیں ہے اور اب بینک میں ایک ہزار یا زیادہ ہوں گے تو نہیں کٹیں گے۔
یہ وہ اکائونٹ ہے جو اس لئے کھلوایا گیا تھا کہ حکومت کی طرف سے یونیفارم کتابیں اور کاپیوں کا جو روپیہ آئے گا وہ بینک میں آئے گا۔ ہم نے نئی نسل کے نوجوانوں سے معلوم کیا تو بتایا کہ یہ نیا قانون ہے۔ اب اس کی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ جن دھن کھاتے غریب کسانوں کی جیب میں جو بچا ہے اسے نکلوانے کے لئے کھلوائے گئے تھے یا ان کو دینے کے لئے۔
امت شاہ نے جی ایس ٹی کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک انقلابی قدم قرار دیا وہ جی ایس ٹی، جس پر خود وزیراعظم کے حکم سے وزیر مالیات صرف سات مہینے میں آٹھ مرتبہ چھری چلا چکے ہیں اور وعدہ کیا ہے کہ ابھی اور اس کے کانٹے کاٹے جائیں گے۔ یہ جی ایس ٹی وہ ہے جو نوٹ بندی کے بعد مودی جی کی دوسری ایسی غلطی ہے جس نے انہیں اس کاروباری طبقہ کی نظر میں بھی گرا دیا جو انہیں مسیحا سمجھتا تھا۔
امت شاہ نے وزیراعظم کی صفائی میں کہا کہ پچھلے تین سال میں ان کے اوپر بدعنوانی کا ایک بھی الزام نہیں لگا۔ حیرت ہے کہ ان کی یہ کہنے کی ہمت کیسے ہوئی۔ وزیراعظم پر لگایا نہیں لگا صفائی دینے والے کے بیٹے پر جو الزام ہے کہ اجے شاہ نے تین مہینے میں 50  ہزار روپئے کو 80  کروڑ بنالیا اور کسی کو خبر نہیں ہوئی کہ انہوں نے کون سا کاروبار کیا۔ گجرات کے الیکشن میں بار بار راہل گاندھی نے وزیراعظم سے اور بی جے پی کے صدر سے معلوم کیا کہ اس کی کیا حقیقت ہے؟ مگر دونوں میں سے ایک نے بھی جواب نہیں دیا۔
 اور یوپی اے سرکار کی جس بدعنوانی کی سیڑھی پر چڑھ کر مودی جی وزیراعظم بنے اس کی حقیقت کے بارے میں اس سی بی آئی کے جج کا اور خود سی بی آئی کا جو وزیراعظم کے اشارہ کو حکم سمجھتی ہے کہنا یہ ہے کہ وہ نہ بدعنوانی تھی نہ گھوٹالہ۔ رہا یہ کہنا کہ تین سال سے نریندر مودی جی اور امت شاہ ڈاکٹر منموہن سنگھ سرکار کے گڈھے بھر رہے ہیں کیونکہ وراثت میں انہیں یہی ملے تھے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امت شاہ کے وزیراعظم نے تین برس میں صرف دو گڈھے اتنے گہرے کھود دیئے ہیں کہ ملک کے کروڑوں انسان جانوروں کی سی زندگی گذار رہے ہیں جس کا نمونہ ٹی وی کے ذریعہ بار بار دیکھنے کو ملتا ہے۔ بہرحال اہم بات یہ ہے کہ اپنی پارٹی کے صدر کی تقریر سننے کے لئے وزیراعظم ہی نہیں دوسرے چند وزیر بھی موجود تھے اب یہ بات وہی جان سکتے ہیں کہ کیوں تھے؟

 

Ads