Jadid Khabar

اتر پردیش میں انصاف اور انسانیت کا خون

Thumb

جب بی جے پی اور آر ایس ایس کی مشترکہ کوششوں سے مسٹر نریندر مودی کو ملک کے وزیر اعظم کیلئے بطور امیدوار نامزد کیا  گیا اسی وقت ہر ایک ایسے انصاف پسند اور امن پسند شہری کو اندازہ ہوگیا کہ اگر مودی جی وزیر اعظم منتخب ہوگئے تو ملک کی صورت حال کیا ہوگی، ٹھیک اسی طرح جب دہلی کے اشارے پر اتر پردیش اسمبلی کے الیکشن کے بعد یوگی ادتیہ ناتھ کو بی جے پی کے قانون ساز ممبروں کا لیڈر بنانے کی بات طے ہوئی تو اتر پردیش کی کیا حالت ہوگی ہر ایک کو اندازہ ہوگیا ۔
آج اتر پردیش میں بدنظمی، لاقانونیت، بدعنوانیوں اور زیادتیوں کا دور دورہ ہے۔ کاس گنج میں جارحیت اور فسطائی کا ننگا ناچ زعفرانی عناصر کے ذریعہ ہوا اسے عام و خاص ہر کوئی اندازہ کرسکتا ہے کہ اتر پردیش میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ 26جنوری کے دن عام طور پر پولس بندوبست کچھ زیادہ ہی ہوا کرتی ہے۔ اسی دن مسلمانوں کے ایک محلہ میں ویر عبدالحمید چوک پر مسلم نوجوانوں کی طرف سے قومی پرچم لہرانے کا جب اہتمام ہورہا تھا تو دو ڈھائی سو نوجوان موٹر سائیکل پر سوار بغیر کسی اجازت کے ریلی نکالتے ہیں۔ ترنگا جھنڈے کے ساتھ بھگوا جھنڈا لے کر مسلمانوںکی کثیر آبادی کی اس تنگ گلی میں داخل ہوجاتے ہیں اور زبردستی مسلم نوجوانوں کی بچھی ہوئی کرسیوں کو ہٹانے پر زور دیتے ہیں ۔ مسلم نوجوان انھیں یوم جمہوریہ کی تقریب میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں مگر ان میں سے کسی نے بھی ان کی بات نہیں سنی اور زور آزمائی پر آمادہ ہوگئے، جس کی وجہ سے ایک ہندو نوجوان کی جان چلی گئی اور ایک مسلم نوجوان بری طرح زخمی ہوگیا۔ 26جنوری کے دن اور اس کے بعد بھی پولس کا رویہ جانبدارانہ رہا جس کی وجہ سے مسلم محلہ میں لوٹ مار اور آتش زنی کی واردات پولس کی آنکھوں کے سامنے ہوا۔ پولس تماشائی بنی رہی۔ 
یوگی ادتیہ ناتھ کا دعویٰ تو یہ ہے کہ دس مہینے میں انھوں نے تعمیر اور ترقی کا وہ کام انجام دیا ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔ معذوروں کو 200روپئے دیئے جاتے تھے جو بڑھاکر 500روپئے کردیئے ہیں مگر ان کی اس پر نظر نہیں ہے کہ ان کے راج میں قانون شکنی بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے معذوروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہی کے راج میں بچوں کی ہلاکت کی شرح بھی پہلے سے کہیں زیادہ ہوگئی ہے۔ قومی انسانی حقوق کے کمیشن نے اب تک نوٹس بھیجے ہیں جس میں اسپتالوں میں بچوں کی ہلاکت کا بھی ذکر ہے۔ 
یوگی ادتیہ ناتھ کے آنے کے بعد اتر پردیش میں 921فرضی انکاؤنٹر بھی ہوئے ہیں جن میں 30 کریمنل اور تین پولس والے ہلاک ہوئے ہیں۔ دو دن پہلے دو افراد ایک شادی کی تقریب سے واپس آرہے تھے انھیں بھی پولس نے گولیوں سے بھون دیا۔ ادتیہ ناتھ فرضی مڈبھیڑ کی حوصلہ افزائی فرما رہے ہیں۔ ضلع پولس افسران کو انکاؤنٹر اسکواڈ بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ناپسندیدہ ہوں گے پولس اور پولیٹیشین کی نظر میں ان کی خیر نہیں۔ یہ قانون کی اَن دیکھی نہیں تو کیا ہے۔ اسی کا نام ڈیولپمنٹ (ترقی) ہے جسے ادتیہ ناتھ انجام دے رہے ہیں اور ایسی ترقی ہے جو جرم و گناہ کی دنیا میں پنپتی جارہی ہے۔ 
یہی تو وجہ ہے کہ یوپی کا ایک ایک آئی پی ایس افسر جسے قانون کی حفاظت کیلئے متعین کیا گیا ہے وہ کہہ رہا ہے کہ جلدی رام مندر کی تعمیر کر دی جائے گی۔ وہ جانتا ہے کہ سپریم کورٹ میں بابری مسجد کے انہدام اور اس کا تنازعہ کا مقدمہ زیر سماعت ہے، ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ جس ریاست میں آئی پی ایس افسران قانون شکنی کی بات اور سپریم کورٹ کی توہین کر رہے ہوں اس ریاست میں کیا کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔ 
مظفر نگر کے فسادات کے مجرموں پر سے تمام مقدمات اٹھالینے کی سفارش بی جے پی کے ایم پی اور ایم ایل اے کر رہے ہیں۔ یوگی جی نے ایک وفد کو یقین بھی دلایا ہے کہ قانونی مشورے کے بعد جو مناسب ہوگا وہ کر دیا جائے گا۔ یوگی پر جو مجرمانہ درجے کے مقدمات تھے وہ یوگی کے ہی حکم سے واپس لے لئے گئے ہیں۔ جب عدالتیں بے بس ہوں اور پولس ہر کچھ کرنے کیلئے تیار ہو تو راج یوگی اور مودی کا ہی ہوسکتا ہے۔ 
حقیقت تو یہ ہے کہ آر ایس ایس کا راج پورے طور پر یوپی میں قائم ہوگیا ہے اور برہمنیت کا فسطائی ٹولہ بھی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ سرگرم عمل ہوگیا ہے۔ افسوس! ایسی حالت میں مسلم قیادت کا حال بھی اچھا نہیں ہے۔ علماء بھی غیر ضروری بحث میں مبتلا ہیں جس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ ممتاز و معروف دانشور اور صحافی جاوید حبیب مرحوم نے 2011ء میں جو بات ایک سوال کے جواب میں کہی تھی آج وہ دیکھنے کو مل رہی ہے: 
’’ممکن ہے کہ کچھ لوگ میری رائے سے اتفاق کرنے میں پس و پیش کریں لیکن میری مستحکم رائے یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ پر استعماری اور صیہونی طاقتوں کا غاصبانہ قبضہ اور بابری مسجد کو رام جنم بھومی بنانے کی کوشش اگر براہ راست نہیں تو بالواسطہ ایک ہی سازش کی کڑیاں ہیں۔ مسلمانوں کے قبلہ اوّل پر قبضے کے بعد یہودی درندے ارضِ مقدس خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ پر قبضے کے ناپاک خواب دیکھ رہے ہیں تاکہ قلب اسلام اور مراکز مسلمانانِ عالم پر ان کی دسترس ہوجائے اور ٹھیک وہی ذہنیت ہندستان میں کام کر رہی ہے کہ بابری مسجد کے قبضے کو ہندو راشٹر بنانے کے عزائم کی تکمیل کا ذریعہ بنایا جارہا ہے۔ صیہونیت عالمی پیمانے پر اور برہمنیت ہندستانی تناظر میں کم و بیش ایک ہی ذہنیت کے دو رخ ہیں۔ صیہونیت اور استعماریت نے مل کر جس طرح عالم اسلام پر جدید صلیبی یلغار کی ہے ٹھیک اسی طرح ہندستان میں برہمنیت کا فسطائی ٹولہ ایک نئے سامراجی دھرم یُدھ کی بھر پور تیاری میں مصروف ہے۔ مسجد اقصیٰ پر ناپاک یہودی قبضے سے جس طرح بیشتر عرب ممالک کے سربراہوں نے کوئی سبق نہیں لیا، اسی طرح کا ڈر ہندستان میں مسلم علماء اور سیاسی قیادت کی موجودہ روش سے پیدا ہوتا ہے‘‘ (جاوید حبیب: ہجوم سے تنہائی تک، مرتب: معصوم مراد آبادی)۔ 
میرے خیال سے جاوید حبیب نے مسلم علماء اور سیاسی قیادت کو روش بدلنے کی بات کہی ہے جو آج بھی صحیح ہے۔ اگر یہی روش رہی جو آج ہے تو برہمنیت کا فسطائی ٹولہ فائدہ اٹھاتا رہے گا۔ ادھر علماء ہند اور قائد ملت بحث و مباحثہ کرتے رہیں گے۔ 
ایک خوش آئند بات ہے کہ جو لوگ فسطائیت سے آمنے سامنے ہوکر لڑ رہے ہیں ان کے عزائم اور حوصلے بلند ہیں اور کانگریس کے اندر بھی راجستھان اور گجرات کے الیکشن کے نتائج سے کچھ جان آگئی ہے۔ 
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی طلبہ کے صدر موہت پانڈے اور اتر پردیش پولس کے سابق آئی جی مسٹر دارا پوری پر مشتمل ایک وفد نے کا س گنج کے فساد زدہ علاقہ کا دورہ کیااور ایک تحقیقاتی رپورٹ (fact finding report) تیار کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یوپی کی حکومت پورے طور پر فسادیوں کو روکنے میں ناکام ہوئی ہے۔ اس کی عدالتی انکوائری ہونی چاہئے۔ مسلمانوں کو بھی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرکے یوگی حکومت سے پرزور مطالبہ کرن چاہئے کہ جن لوگوں نے بغیر اجازت کے ریلی نکالی اور مسلم محلہ میں غیر قانونی اور مجرمانہ حرکتیں کیں ان پر مقدمہ دائر ہونا چاہئے اور انھیں سخت سے سخت سزا دلانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔ اگر حکومت اس کام کیلئے راضی نہ ہو وہ سب حکمراں پارٹی کے لوگ ہی تھے، اس لئے حکومت کا رضا مند ہونا آسان نہیں ہے تو کسی غیر سرکاری تنظیم کو قانونی چارہ جوئی کرنی چاہئے۔ اگر اس ننگی جارحیت پر سخت نوٹس نہیں لی جاتی اور سخت قدم نہیں اٹھایا جاتا تو ایسے مجرمانہ قدم اٹھانے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور پھر دیگر مقامات پر مجرموں کا یہ ٹولہ جب جو چاہے گا کر گزرے گا۔ جس سے انصاف اور انسانیت کا خون بہتا رہے گا۔ 

 

Ads