Jadid Khabar

بی جے پی میں شگاف کی ابتدا

Thumb

جو لوگ بھی وزیراعظم کے اقدامات سے مایوس ہوکر کہتے تھے کہ شاید 2019  ء میں حکومت بی جے پی کی نہیں رہے گی۔ ہم اس سے اختلاف کرتے تھے۔ ہمارا کہنا تھا کہ بی جے پی اسی طرح پھٹے گی جیسے 1966 ء میں کانگریس پھٹی تھی یا جنتا پارٹی پھٹی تھی۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں جو پروردگار نے روشنی دکھائی تھی وہ وقت آگیا اور بی جے پی اسی راستہ پر چل پڑی جس کے آگے خندق ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے 2014 ء میں 280  سیٹیں ملنے کو اپنی ذاتی کامیابی سمجھ لیا جبکہ اس میں 100  سے زیادہ سیٹیں وہ ہیں جو کوئی بھی کانگریس کے مقابلہ میں پوری تیاری سے کھڑا ہوجاتا تو اسے مل جاتیں اس لئے کہ صرف وہ کانگریس کی طرف سے مایوس ہوچکے تھے۔ وزیراعظم نریندر مودی اگر حکومت کی طرح حکومت چلاتے تو وہ آرام سے دس پندرہ برس حکومت کرسکتے تھے۔ لیکن ان کی سیماب صفت فطرت نے انہیں سکون سے حکومت نہیں کرنے دی اور انہوں نے اندرا گاندھی اور پنڈت نہرو کو پیچھے چھوڑکر آگے نکلنے کا فیصلہ کرلیا اور ایک کے بعد ایک غلطی کرتے چلے گئے۔
حیرت ہے کہ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ وہ کپتان ضرور ہیں لیکن ان کے پاس جو کھلاڑی ہیں وہ نہ بیٹ پکڑنا جانتے ہیں اور نہ گیند کو گھمانا اس لئے کہ انہوں نے کبھی کھیلا ہی نہیں۔ انہوں نے پہلی غلطی یہ کی کہ تجربہ کار لیڈروں کو فیلڈ کے باہر بٹھا دیا یشونت سنہا جیسے ماہر معاشیات کو تو ٹکٹ ہی نہیں دیا اور ان کے پاس جو ٹیم تھی اس میں اسمرتی ایرانی کو فروغ انسانی وسائل کا محکمہ دینا پڑا اور دوسرے محکمے بھی ایسے ہی ناتجربہ کاروں کو دیئے صرف وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ ایک ایسے وزیر ہیں جو اپنے عہدے کے ساتھ انصاف کررہے ہیں۔
خود مودی جی کی بے چین فطرت نے حکومت کو ہر شعبہ میں ناکام کردیا ہے انہوں نے 15  مہینے پہلے جو نوٹ بندی کی غلطی کی انہیں چار سال اس کا نتیجہ دیکھنا چاہئے تھا۔ انہوں نے انتظار کرنے کے بجائے جی ایس ٹی کا بوجھ کاروباریوں پر مزید ڈال دیا اور جو نوٹ بندی کے حملہ سے سنبھلے بھی نہیں تھے وہ چیخ پڑے اور بے ساختہ ان کے منھ سے نکلا کہ مودی تیرا ستیاناس ہو۔ یہ دونوں فیصلے ایسے تھے کہ ان کے خلاف کھیتی پک کر تیار ہوگئی اور اس کی دیر تھی کہ کوئی نیک نام بے داغ بی جے پی کا لیڈر سامنے آئے اور پکی ہوئی کھیتی کو کاٹنا شروع کردے۔ اس موقع پر اگر اڈوانی جی ہمت کرتے تو کہا جاسکتا تھا کہ وہ بے عزتی کا بدلہ لے رہے ہیں پھر بھی لوگ ان کی طرف آجاتے۔
بی جے پی میں ایک بڑا طبقہ آگے اندھیرا دیکھ رہا ہے اور اسے بھی کسی ایسی ہی آواز کا انتظار تھا جیسی یشونت سنہا نے لگادی کہ سیاسی پارٹی نہیں بنانا ہے۔ وہ کروڑوں کسانوں کے مسئلہ کو اٹھائیں گے اور ظاہر ہے کہ کروڑوں بے روزگار بغیر بلائے ان کے پاس آجائیں گے۔ یہ کوئی قسم کھاکر نہیں کہا ہے کہ ہم پارٹی نہیں بنائیں گے اور اگر وہ پارٹی نہیں بناتے تو جو دوسرے پہلے دن ہی ان کے پاس آگئے انہیں پارٹی بنانے سے کس نے روکا ہے؟
 بی جے پی کے اندر بھی جو طبقہ نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور ایک ملک ایک الیکشن کے نعروں کا کھوکھلا پن دیکھ رہا ہے وہ خود تیار بیٹھا ہے کہ کہیں اور بسیرا لیا جائے۔ پارلیمنٹ کا ہر ممبر اپنے حلقے میں سلگتی ہوئی چنگاریوں کو دیکھ رہا ہے ہر حلقہ میں وہ گائوں کا ہو یا شہر کا بے روزگاروں کے لشکر دیکھ رہا ہے اور دیکھ رہا ہے کہ ہر جگہ کام کرنے والوں کی ضرورت ہے مگر نہ مرکز نوکری دے رہا ہے اور نہ صوبہ دے رہا ہے سارا روپیہ خزانے میں جارہا ہے یا وزیر کھا رہے ہیں ۔  وہ کون ہے جسے  اس کا جواب ملا ہو کہ امت شاہ کے لڑکے جے شاہ کے پچاس ہزار روپئے تین مہینے میں 80  کروڑ کیسے بن گئے؟ اور بابا رام دیو یادو کے سیکڑوں کارخانے اور ہر بڑے شہر میں عالیشان فیکٹریاں کیسے بن گئیں جبکہ عام آدمی چھپر کو کھپریل نہ بنا سکا اور کھپریل کو چھت نہ بنا سکا۔ مودی جی نے زبان پر تالا اور آنکھوں پر پٹی باندھ لی ہے۔ انہیں بس ایک شوق ہے کہ وہ ہندوستان کو اتنا گورکھ دھندہ بنا دیں کہ دوسرا حکومت نہ کرسکے۔
ایک بات آر ایس ایس کے بڑے موہن بھاگوت صاحب سے بھی کہنا ہے کہ انہوں نے نریندر مودی کے بارے میں جو بھی سوچا ہو وہ غلط نکلا مودی جی حکومت کے اہل نہیں ہیں وہ تحریک کے ا ٓدمی ہیں اور صرف ان سے الیکشن میں ووٹ لینے کا کام لیا جاسکتا ہے۔ حکومت دفتری کام ہے اس کے لئے کرسی کا مضبوط آدمی چاہئے وہ صرف کہتے ہیں کہ وہ 18  گھنٹے کام کرتے ہیں اور 125  کروڑ بھارتیوں کے مسائل سوچتا رہتا ہوں لیکن حالت یہ ہے کہ ریل کی پٹریاں بدلنے والے اب نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں اور آئے دن حادثہ ہورہا ہے لیکن بھرتی بند ہے کروڑوں بے روزگار فاقے کررہے ہیں اور نوکری نہیں ہے لیکن مودی جی کو طلاق ثلاثہ کی فکر ہے۔ اور اب انہوں نے ایک ملک ایک الیکشن کا نعرہ دے دیا اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ باتیں کروں گا کام نہیں کروں گا اور حکومت باتوں سے نہیں کام سے چلتی ہے۔

Ads