Jadid Khabar

’پدم شری‘انور جلال پوری

Thumb

شاید ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی اردو شاعر کی موت کے فوراً بعد حکومت کی جانب سے اسے پدم ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جی ہاں یہ اعزاز مرحوم انور جلال پوری کے نصیب میں تھا۔ حالانکہ وہ اس کے حقدار تھے کہ انھیں ان کی زندگی ہی میں یہ اعزاز تفویض کیا جاتا۔ لیکن اس ملک میں بعد از مرگ اعترافِ خدمات کا جو ایک چلن ہے شاید یہ بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ لیکن بہر حال یہی کیا کم ہے کہ ایک اردو شاعر، ناظم مشاعرہ، ادیب اور مترجم کی خدمات کو یاد رکھا گیا۔ ورنہ یہاں تو عالم یہ ہے کہ انتہائی قابل قدر خدمات کے باوجود لوگ حکومت کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں ناکام رہتے ہیں۔ انور جلال پوری کا نام امسال پدم شری پانے والوں کی فہرست میں دیکھ کر دوسرے اردو والوں کی مانند ہمیں بھی خوشی ہوئی۔ ان کو یہ اعزاز ہندو مذہب کی مقدس کتاب بھگوت گیتا کا اردو میں منظوم ترجمہ کرنے پر دیا گیا۔ انھوں نے گیتا کے سات سو اشلوکوں کا منظوم ترجمہ کیا ہے جو ’’اردو شاعری میں گیتا‘‘ کے نام سے اردو اور ہندی میں شائع ہوئی ہے۔  
بہر حال رواں سال دو جنوری کو صبح کے وقت جب سوشل میڈیا پر انور جلال پوری کے انتقال کی خبر آئی تو پوری اردو دنیا سکتے میں آ گئی۔ نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی اسے ایک روح فرسا خبر قرار دیا گیا اور ان کے انتقال کو ادب کا ایک عظیم خسارہ تصور کیا گیا۔ ان کی عمر کم تھی نہ بہت زیادہ تھی۔ وہ 71 برس کے تھے۔ اس زمانے میں اگر کوئی اتنی عمر جی لے تو بہت ہے۔ لیکن ان کے انتقال سے شعری و ادبی حلقوں میں ایسا ہنگامہ برپا ہوا کہ جیسے کوئی انہونی ہو گئی ہو۔ در اصل اس کی وجہ ان کا اچانک انتقال کر جانا ہے۔ ابھی 24 دسمبر کو انھوں نے ایک مشاعرے کی نظامت کی تھی۔ وہ ان کی آخری نظامت ثابت ہوئی۔ وہ بیمار تو نہیں تھے، البتہ دل کے مریض ضرور تھے۔ ان کی اوپن ہارٹ سرجری ہوئی تھی۔ لیکن تھے تندرست اور چاق و چوبند۔ البتہ 17 نومبر کو لندن میں ان کی اکلوتی بیٹی کا انتقال ہو گیا تھا۔ وہاں سے واپسی کے بعد سے ہی وہ شدید ذہنی خلفشار اور تناؤ کے شکار تھے۔ 28 دسمبر کو جلال پور میں اپنے کسی شناسا کی تدفین میں شرکت کے بعد لکھنؤ واپس آئے تھے اور غسل خانے میں تھے کہ ان پر برین ہیمریج کا حملہ ہوا۔ وہ گر پڑے اور بیہوش ہو گئے۔ کافی دیر تک وہ باہر نہیں آئے۔ گھر والوں نے جا کر دیکھا تو انھیں بیہوش پایا۔ ان کے سر میں شدید چوٹ آئی تھی۔ انھیں اسپتال میں داخل کیا گیا۔ چار روز تک وہ وینٹی لیٹر پر رہے۔ ڈاکٹروں نے ان کے دماغ کے آپریشن کا فیصلہ کیا مگر موت نے اس کی مہلت نہیں دی۔ بیہوشی ہی کے عالم میں وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
یوں تو انور جلال پوری کی شہرت ایک ناظم مشاعرہ کی حیثیت سے زیادہ تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ مشاعروں کی نظامت ان کی شخصیت کے بہت سے پہلووں میں سے ایک پہلو تھا۔ وہ کثیر جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ایک شاعر تھے، ایک ناظم تھے، ایک نثر نگار تھے، ایک مترجم تھے اور ایک بہت اچھے انسان تھے۔ وہ انگریزی ادبیات کے استاد بھی تھے ۔ انھوں نے گیتا کا اردو میں جو منظوم ترجمہ کیا ہے اس نے انھیں ایک الگ شناخت عطا کی۔ وہ ایک انتہائی سیکولر انسان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہندووں اور مسلمانوں دونوں میں یکساں مقبول تھے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ وہ دونوں فرقوں کے تعلیم یافتہ طبقات کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتے تھے۔
لیکن بہر حال نظامت کا ان کا فن ان کی شخصیت کے تمام پہلووں پر حاوی ہو گیا تھا۔ یہاں تک کہ بہت سے لوگ انھیں صرف ایک ناظم مشاعرہ کی حیثیت سے ہی جانتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے فن نظامت کو ایک نئی بلندی عطا کی۔ عالمی شہرت یافتہ ناظم اور شاعر ڈاکٹر ملک زادہ منظور احمد کے بعد مشاعروں میں نظامت کی جو ایک خاص روایت شروع ہوئی تھی انھوں نے اس کو توسیع دینے اور آگے بڑھانے میں انتہائی اہم کردار اداکیا۔ ان کی نظامت کی خاص بات یہ تھی کہ عوامی مشاعرے ہوں یا خواص کے مشاعرے، وہ ہر قسم کے مشاعروں کی نظامت کا فن جانتے تھے۔ ان کی نزاکتوں سے واقف تھے۔ حالانکہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ جو ناظم خواص کے مشاعروں کی نظامت کامیابی سے کر رہا ہو وہ عوامی مشاعروں کی نظامت بھی اسی کامیابی سے کر لے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ عوامی مشاعروں کا کامیاب ناظم خواص کے مشاعروں کو بھی بخیر و خوبی انجام تک پہنچا دے۔ میں اس سلسلے میں ملک کے معروف شاعر اور ناظم عمر قریشی کی مثال دینا چاہوں گا۔ وہ عوامی یا متوسط درجے کے مشاعروں کے بہت اچھے ناظم تھے۔ سامعین اور شعرا دونوں کی نبض پہچانتے تھے اور انھیں مجمع کو مٹھی میں کرنا خوب آتا تھا۔ لیکن خواص کے یا اعلیٰ پائے کے مشاعروں میں وہ اکثر ناکام ہو جاتے تھے۔ انھیں لال قلعہ کے مشاعرے کی نظامت کرنے کے لیے بھی مدعو کیا گیا تھا مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ حالانکہ وہ اس فن کے استاد تھے۔ عوام اور خواص دونوں قسم کے مشاعروں کو کامیابی کے ساتھ کنڈکٹ کرنا اور مجمع کو اپنی مٹھی میں لے کر مشاعرہ چلانا ایک الگ فن ہے۔ انور جلال پوری اس فن سے نہ صرف واقف تھے، بلکہ وہ اس کے ماہر بھی تھے۔ وہ عوامی یا دوسرے، تیسرے درجے کے مشاعرے ہوں یا اعلی سطحی مشاعرے، ہر قسم کے مشاعرے کو کامیابی کے ساتھ ان کی منزل تک پہنچانے کا ہنر جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جہاں عوام میں بے انتہا مقبول تھے وہیں خواص میں بھی انھیں مقبولیت حاصل تھی۔ واقعہ یہ ہے کہ نظامت کے معاملے میں ان کے یہاں روایت اور جدت کا سنگم تھا۔ ایسے ناظم اب ڈھونڈے سے بھی نہیں ملیں گے۔ میں ان کی نظامت سے سب سے پہلے 70کی دہائی میں واقف ہوا تھا۔ اس وقت ثقلین حیدر اور ملک زادہ منظور احمد کا طوطی بولتا تھا۔ لیکن اسی درمیان سے انور جلال پوری نے اپنے لیے راہ نکالی اور اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی۔ نظامت کا ان کا انداز دوسروںسے جداگانہ تھا۔ میں جب بھی ان سے گفتگو کرتا تو ایسا لگتا کہ میں ان کی باتیں نہیں سن رہا ہوں بلکہ ان کی نظامت سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ انھوں نے خود کو فن نظامت کے دریا میں اس قدر غرق کر دیا تھا کہ وہی انداز ان کا انداز گفتگو بھی بن گیا تھا۔ 
انور جلال پوری کے اندر نظامت کے جراثیم ابتدائے عمر سے ہی موجود تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب ’’روشنائی کے سفیر‘‘ میں اپنے بارے میں ایک مضمون لکھا ہے جس کا عنوان ہے ’’میں خود کو باندھنے میں کئی بار کھل گیا‘‘۔ وہ جلال پور ضلع امبیڈکر نگر اتر پردیش میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ 8 مئی 1946 ان کی تاریخ پیدائش ہے۔ حالانکہ تعلیمی ریکارڈ میں یہ 6 جولائی 1947 ہے۔ 1960 میں جب وہ نریندر دیو انٹرکالج جلال پور میں نویں درجے میں تھے اسی وقت سے انھوں نے شاعری شروع کر دی تھی۔ کالج میں تقریری مقابلوں میں حصہ لیتے تھے۔ انھیں 1962 میں ایک ادبی نشست کی نظامت کا بھی شرف حاصل ہوا تھا۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کی نظامت کی بنیاد 1962 ہی میں پڑ گئی تھی۔ لیکن نظامت کی مصروفیت یا نظامت کی مرہون منت شہرت نے ان کے شعری سفر کی رفتار سست کر دی تھی۔
وہ لکھتے ہیں ’’مشاعروں کی نظامت نے مجھے بڑی عزت دی۔ دبئی، شارجہ، ابو ظہبی، العین، مسقط، قطر اور بحرین کے مشاعروں کے علاوہ پاکستان اور سعودی عرب کے مشاعروں میں بھی بارہا نظامت کرنے کا شرف حاصل ہوا … امریکہ جہاں وضو ٹوٹ جانے کا ہمیشہ خطرہ رہتا ہے، وہاں بھی 2001 اور 2004 میں جانے کا اتفاق ہوا۔ امریکہ کے ڈیڑھ درجن شہروں کے مشاعروں کی نظامت کا موقع ملا۔ … نظامت کی وجہ سے میری شاعری کو نقصان پہنچا۔ میری شخصیت یک رخی ہو گئی‘‘۔ انھوں نے اپنے تقریباً پچاس سالہ دور نظامت میں جن اہم شعرا کا تعارف کرایا ان میں فراق گورکھپوری، علی سردار جعفری، مجروح سلطانپوری، کیفی اعظمی، کنور مہیندر سنگھ بیدی سحر، جگن ناتھ آزاد، کیفی بھوپالی، نشور واحدی، فنا نظامی کانپوری، خمار بارہ بنکوی، کامل شفیقی، شمسی مینائی، انور صابری، والی آسی، کرشن بہاری نور، ناظر خیامی، ساغتر خیامی اور ساغر اعظمی جیسے اعلی پائے کے شعرا اور دنیائے شعر و ادب کے آفتاب و ماہتاب شامل ہیں۔
لیکن مشاعروں کا معیار جس طرح سے گر گیا ہے اس سے وہ بھی بہت فکر مند رہا کرتے تھے۔ حقیقی شاعروں کی جگہ پر متشاعروں کو سننا اور معیاری کلام کے بجائے گلے بازی کو داد دینا اب عام ہو گیا ہے۔ نام نہاد شاعرات کی شرکت نے بھی مشاعروں کے معیار کو گرایا ہے۔ ایسے مشاعروں میں ناظم حضرات بڑی کشمکش میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ چونکہ انھیں مشاعرے کو کامیابی کے ساتھ اختتام تک پہنچانا ہوتا ہے اس لیے وہ ایسے شعرا کی بھی قصیدہ خوانی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جن کا نام لینا بھی انھیں گوارہ نہ ہو۔ ایک بار انھوں نے راقم کو فون کرکے بتایا کہ وہ لال قلعہ کے مشاعرے کی نظامت کرنے کے لیے دہلی آرہے ہیں۔ انھوں نے مجھے حکم دیا کہ تم بھی اس میں آنا۔ اور کہنے لگے کہ ’’دیکھنا میں رات بھر کیسے جھوٹ بولتا ہوں‘‘۔ یہ جملہ ادا کرکے وہ ہنسنے لگے لیکن ان کی ہنسی بڑی کھوکھلی تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ بظاہر ہنس رہے ہیں لیکن بہ باطن مشاعروں کے گرتے ہوئے معیار پر طنز کر رہے ہیں۔
انور جلال پوری کے یوں تو متعدد شعری کارنامے ہیں لیکن گیتا کا منظوم ترجمہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ جہاں ایک مقدس علمی خزانے کو اردو میں منتقل کرنا ہے وہیں ایک مذہب کے پاکیزہ خیالات کو دوسرے مذہب کے پیرووں تک پہنچانا بھی ہے۔ ہندوستان جیسے ملک میں اس قسم کے کاموں کی بڑی ضرورت ہے۔ تین سو صفحات پر مشتمل اس ترجمے میں جس کا نام ہے ’’اردو شاعری میں گیتا‘‘ انتہائی سادہ، سہل اور عام فہم زبان استعمال کی گئی ہے۔ ہندی و اردو کے بزرگ شاعر گوپال داس نیرج نے ابتدائیہ میں لکھا ہے کہ ’’اگر چہ اس میں ایک ایک اشلوک کا ترجمہ چھ چھ مصرعوں میں کیا گیا ہے لیکن یہ اتنا سہل، عام فہم اور سلیس ہے کہ فوراً ازبر ہو جاتا ہے‘‘۔ یہ کام آسان نہیں بہت مشکل تھا۔ لیکن انور صاحب نے اس مشکل کام کو بھی کر ڈالا اور اپنی کلاہ میں ایک اور باوقار کلغی کا اضافہ کر دیا۔ اس ترجمے کے سلسلے میں وہ لکھتے ہیں: ’’بھگوت گیتا کو سمجھنے اور اسے اردو کا لباس پہنانے میں مجھے بڑی ذہنی محنت اور تحقیقی صلاحیت خرچ کرنی پڑی۔ مجھے اشلوک کا ترجمہ ہندی، اردو اور انگریزی میں پڑھنا پڑا۔ پھر تشریح اور تفسیر سے واقفیت حاصل کرنی پڑی۔ پھر تشریح کو خلاصے میں محفوظ رکھنا پڑا اور بعد میں اس خلاصے کو شعری پیکر میں ڈھالنا پڑا۔ زبان سہل اور سادہ بنی رہے اس کا بھی دھیان ہر وقت رکھنا پڑا‘‘۔
گیتا کے پہلے اشلوک کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
دھرت راشٹر آنکھوں سے محروم تھے
مگر یہ نہ سمجھو کہ معصوم تھے
انھیں بھی تھی خواہش کہ دنیا ہے کیا
اندھیرا ہے کیا اور اجالا ہے کیا
وہ اک شخص سنجے پڑا جس کا نام
وہی ان سے آخر ہوا ہم کلام
اسے رب نے ایسی نظر بخش دی
کہ بن دیکھے ہر ایک شے دیکھ لی
دھرت راشٹر راجہ بھی تھے باپ بھی
سمجھتے تھے وہ پنیہ بھی پاپ بھی
محبت سے بیٹوں کی سرشار تھے
عجب طرح کے وہ بھی کردار تھے
انھیں بھی تھی خواہش کہ سب جان لیں
سبھی لڑنے والوں کو پہچان لیں
کہانی تو سنجے سناتا رہا
ہے میدان میں کیا بتاتا رہا
وہ میداں جو تھا جنگ ہی کے لیے
وہیں سے جلے دھرم کے بھی دیے
انھوں نے رابندر ناتھ ٹیگور کی طویل بنگلہ نظم ’’گیتانجلی‘‘ کا بھی منظوم ترجمہ کیا ہے۔ اس بارے میں وہ لکھتے ہیں: ’’ٹیگور کی گیتانجلی کے ساتھ تو عجیب و غریب واقعہ ہے۔ یہ ابتدائی طور پر لکھی گئی بنگلہ زبان میں۔ بنگالی کلچر کا سارا نغمہ اور سنگیت اس میں جذب ہے۔ پھر اس کا ترجمہ انگریزی میں ہوا۔ بعد میں اردو میں ہوا۔ اب اردو کے نثری ترجمے کو شاعری بنانا ہے۔ آپ اندازہ لگائیے کہ اصل روح کو اس میں شامل کرنا کتنا مشکل ہے۔ پھر بھی یہ میرا دیوانہ پن ہے کہ میں نے ان نظموں کو اردو شاعری میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ نظمیں مختلف بحروں میں ہیں مگر ہر بحر مترنم ہے۔ میری خواہش ہے کہ کتاب شائع ہو جانے کے بعد کسی اچھے سنگر کی آواز میں یہ نظمیں گائی بھی جائیں‘‘۔ 
گیتانجلی کے شروع کے تین اشعار دیکھیں:
تیری مرضی بنایا تو نے لا محدود مجھ کو بھی
یہ عزت بخش دی ہے اے مرے معبود مجھ کو بھی
مری ہستی تو سچ مچ اک بہت کمزور پیالہ ہے
اسی پیالے میں میری زندگی بھر کا نوالہ ہے
تو خالی بھی کرے اور پھر اسی پیالے کو بھرتا ہے
نئی اک زندگی تو خود اسی پیالے میں دھرتا ہے
انور جلال پوری نے صرف ہندو مذہب اور بنگلہ کلچر ہی کا مطالعہ نہیں کیا تھا بلکہ اپنے مذہب یعنی اسلام کا بھی ان کا مطالعہ بڑا زبردست تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ مذہبی ذہنیت کے انسان تھے۔ انھوں نے قرآن مجید کے تیسویں پارے کا بھی منظوم ترجمہ کیا ہے جس کا نام انھوں نے بہت بر محل ’’توشہ آخرت‘‘ رکھا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جن تین کتابوں یعنی اردو شاعری میں گیتا، اردو شاعری میں گیتانجلی اور توشہ آخرت کا ذکر کیا گیا یہ تینوں ہندی زبان میں بھی شائع ہوئی ہیں۔ انھوں نے اردو شاعری میں رباعیات خیام کے نام سے عمر خیام کے رباعیوں کا منظوم ترجمہ بھی کیا ہے۔ ان رباعیوں کا بھی ہندی ترجمہ شائع ہوا ہے۔ گویا انھوں نے اردو کی اپنی متعدد کاوشوں کو ہندی کے قالب میں ڈھال کر اہل ہندی کے لیے ایک بہترین تحفے کا انتظام کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ ان کی تخلیقات میں جاگتی آنکھیں، خوشبو کی رشتہ داری، کھارے پانیوں کا سلسلہ، پیار کی سوغات، ادب کے اکشر اور چنندہ اشعار (غزلیں اور نظمیں)، روشنائی کے سفیر، اپنی دھرتی اپنے لوگ، قلم کا سفر، سفیران ادب (مضامین کے مجموعے) اور ضرب لا الہ، جمال محمد، بعد از خدا، حرف ابجد اور راہرو سے رہنما تک (نعتیہ مجموعے) قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے ملک زادہ منظور احمد پر بھی ایک کتاب مرتب کی ہے جس میں مختلف قلمکاروں کے مضامین شامل ہیں۔ خود ان کی شخصیت اور فن پر بھی کئی کتابیں تصنیف کی گئی ہیں۔ جن میں ان پر دو اسکالروں کے پی ایچ ڈی مقالے بھی شامل ہے۔
اب ان کے کچھ دوسرے رنگ کے اشعار بھی ملاحظہ فرما لیں:
نہ یہ دن نہ یہ رات باقی رہے گی
بس اللہ کی ذات باقی رہے گی
نہ گردش میں صدیوں زمانہ رہے گا
سدا تو کسی کا نہ سکہ چلے گا
ہمیشہ نہ کوئی جنازہ اٹھے گا
نہ خوشبو کی برسات باقی رہے گی
نہ یہ دن نہ یہ رات باقی رہے گی
بس اللہ کی ذات باقی رہے گی
زلف کو ابر کا ٹکڑا نہیں لکھا میں نے
آج تک کوئی قصیدہ نہیں لکھا میں نے
جب مخاطب کیا قاتل کو تو قاتل لکھا
لکھنوی بن کے مسیحا نہیں لکھا میں نے
میں نے لکھا ہے اسے مریم و سیتا کی طرح
جسم کو اس کے اجتنا نہیں لکھا میں نے
رات بھر ان بند آنکھوں سے بھی کیا کیا دیکھنا
دیکھنا اک خواب اور وہ بھی ادھورا دیکھنا
گلوں کے بیچ میں مانند خار میں بھی تھا
فقیر ہی تھا مگر شاندار میں بھی تھا
انور جلال پوری صرف شاعر اور ناظم مشاعرہ ہی نہیں تھے بلکہ ایک صاحب طرز نثر نگار بھی تھے۔ البتہ انھوں نے اپنی پوری زندگی مشاعروں کی نذر کر دی۔ اسی دشت کی سیاحی میں پوری عمر گزار دی۔ اس سیاحی نے ان کو ایک مشاہداتی نظر عطا کی جو ان کے علم و وجدان میں اضافہ کا سبب بنی۔ ان کی نظر کسی بھی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے وقت صرف بیرونی عناصر کا ہی احاطہ نہیں کرتی بلکہ درونِ ذات کے پردوں کو بھی چاک کر دیتی تھی اور وہ سب کچھ دیکھ لیتی تھی جو عام نظر نہیں دیکھ پاتی۔ ان کا قلم مشاہداتِ ذات کو اس طرح صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتا تھا کہ ایک بے حد خوبصورت تصویر ہمارے سامنے آجاتی تھی۔ انور جلال پوری جس کے بارے میں لکھتے اس کی خوبیوں اور خامیوں دونوں کا احاطہ کرتے اور شخصیت کے مثبت و منفی دونوں پہلوؤں کو پیش کر دیتے۔ لیکن اس حوالے سے وہ ایمانداری و دیانت داری کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتے اور جو کچھ مشاہدہ کرتے اسے بلا کم و کاست ہمارے سامنے رکھ دیتے۔ لیکن اس انداز میں کہ کسی بھی جملے میں صاحب تذکرہ کے تعلق سے ذم کا کوئی پہلو نہیں نکلتا نہ ہی بیجا تنقید کا کوئی تاثر ہی پیدا ہوتا۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ دوستانہ تعلق کو قلم پر حاوی نہیں ہونے دیتے اور نہ ہی کسی ستائشی جملے سے خوشامد یا بیجا طرفداری کا ہی کوئی پہلو نکلتا تھا۔ جب وہ لکھتے تو ان کا قلم تعصب و تنگ نظری سے بالکل پاک ہوتا اور وہ جو کچھ لکھتے اس میں خلوص کا عمل دخل ہوتا۔
وہ اپنی کتاب ’’روشنائی کے سفیر‘‘ میں، جس میں 21 مضامین ہیں، عمر قریشی کا سراپا یوں بیان کرتے ہیں ’’سانولا رنگ، بوٹا سا قد، ہندوستانی جمہوریت کی صدارت کی شرطوں کو پوری کرتی ہوئی عمر، آنکھوں میں خود اعتمادی کا نشہ اور پیشانی پر تہذیب و شرافت کی چمک،گفتگو میں شہد کی مٹھاس اور نشست و برخاست میں اردو تہذیب کے ماضی کے نگار خانے کی جھلک‘‘۔ یہ تو ہوا ان کا ظاہری سراپا۔ وہ ان کی شخصیت کے دوسرے یعنی باطنی پہلو پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’یہ دوسرا رخ عمر صاحب کی شخصیت کی قدر و قیمت کا تعین کرتا ہے۔ یہ رخ افسانوں کی تہوں میں چھپی ہوئی حقیقت کے چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ رخ عمر صاحب کی چمک دار شخصیت کے سینے میں پرورش پانے والے رنج و الم، دکھ اور کرب، انتشار او رہیجان کا نمائندہ ہے۔ یہی رخ ان کی شہرت کو استقلال اور ان کی مقبولیت کو استحکام عطا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور یہی رخ عمر صاحب ہی کے لیے نہیں بلکہ کسی بھی صاحب فن کے لیے شہرت عام اور بقائے دوام کا سبب بنتا ہے۔ یہ رخ ہے ان کے شاعرانہ شعور، ان کی فنی مہارت اور ان کی فکری بصیرت کا۔ اس منزل پر بھی عمر صاحب کا کردار دوسرے شعرا کے مقابلہ میں ایک ستون عظمت دکھائی دیتا ہے‘‘۔ یہ دونوں اقتباسات عمر قریشی کی شخصیت کو اس قدر کھول کر بیان کر دیتے ہیں کہ اگر انور صاحب نے ان کے بارے اس کے علاوہ اور کچھ نہ لکھا ہوتا تب بھی عمر قریشی کی شخصیت مکمل ہو جاتی۔ 
انور جلال پوری کی خوبصورت نثر کا ایک اور نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔ وہ بشیر بدر کا تعارف یوں کراتے ہیں ’’دبلا پتلا بدن، جسم پر بہت ہی معمولی کپڑے کا پینٹ اور کوٹ، آنکھوں پر چشمہ جس کا فریم اپنے پرانے پن کی خود ہی گواہی دے رہا ہے۔ دانت بڑے، سفید اور چمکیلے جنھیںہونٹ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی چھپانے میں ناکام تھے۔ پچکے ہوئے گال جو ان کی اقتصادی کمزوری کے مظہر تھے۔ پیشانی قدرے کشادہ جسے دیکھ کر کوئی بھی قیافہ شناس ان کے مستقبل کو پڑھ سکتا تھا۔ سر کے بالوں کی تعداد اتنی کم، جنھیں دیکھ کر یقین ہوتا تھا کہ یہ شخص دن میں تھکتا ہے اور راتوں میں جاگتا ہے‘‘۔ (یہ ۱۹۶۵ء کے بشیر بدر کا سراپا ہے جب وہ مملکت سخن میں نئے نئے داخل ہوئے تھے اور مقام ہے مشرقی اتر پردیش کا ادب نواز قصبہ صبرحد)۔
اب یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں: ’’پہلی ہی نظر میں وہ آنکھوں میں سما گیا۔ دل میں اتر گیا۔ ایسا شاید اس لیے ہوا کہ اس کی صورت، اس کی ہیئت اور اس کا پورا وجود عام شعرا سے مختلف تھا۔ اس کی آنکھوں سے بغیر پیے ہی نشہ چھلک رہا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ پینے کے بعد کیا ہوگا۔ اس کے بال بہت گھنے تو نہیں تھے لیکن ان میں سیاہ ریشم کی چمک تھی۔ دانت اتنے سفید اور چمکیلے جیسے پان، کتھا، چونا، ڈلی اور تمباکو سے ان کا تعارف ہی نہ ہوا ہو۔ پیشانی اتنی کشادہ جس کی لکیروں پر اس کے روشن مستقبل کی تحریریں پڑھی جا سکتی تھیں۔ قد اتنا مناسب کہ ہزاروں کے مجمعے میں اپنے امتیاز کو قائم رکھ سکے۔ مگر رنگ ایسا جسے دیکھ کر افریقہ کے درجنوں ملکوں کے سربراہوں کے چہرے نظر میں گھوم گئے۔ لیکن نگاہ تصور جا کر ٹھہر گئی رضیہ سلطان کے تاریخی عاشق یاقوت پر…کاش یہ شخص پہلی مرتبہ کسی مذہبی جلسے میں ملا ہوتا تو میں خود اس سے پوچھنے کی جسارت کرتا کہ آپ کا شجرۂ نصب حضرت بلال حبشیؓ سے تو نہیں مل رہا ہے۔ مگر وہ جس عالم میں ملا تھا مجھے یہی شبہ ہو رہا تھا کہ اس شخص نے پہلا سپارہ بھی پڑھا ہے یا نہیں‘‘۔ آپ نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ یہ راحت اندوری کے علاوہ کسی اور کا سراپا نہیں ہو سکتا کسی اور کا تعارف نہیں ہو سکتا۔ یہ اقتباس ’’راحت۔میرا یار‘‘ نامی مضمون سے لیا گیا ہے۔
خمار بارہ بنکوی کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ انھیں آبروئے غزل کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ جگر مرادآبادی کے ورثے کے امین تھے اور اپنی پوری تخلیقی قوت کے ساتھ اس کی حفاظت کر رہے تھے۔ خمار کی شخصیت سے انور جلال پوری بھی متاثر ہیں اور ان کے کلام کو وہ بھی پسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر آپ خمار صاحب کی وہ غزلیں پڑھیں جو انھوں نے کسی مشاعرے میں اپنے مخصوص انداز میں نہیں سنائی ہیں تو آپ کو کوئی لطف نہیں آئے گا۔انور جلال پوری کے الفاظ میں: ’’خمار صاحب کے افکار میں نہ تو گہرائی تھی نہ وسعت۔ یہی ان کی کمزوری تھی اور یہی ان کی خوبی۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شاعر فکر کی گہرائی اور وسعت کے چکر میں اپنی شاعری کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتا۔ وہ یا تو گہرائی میں ڈوب جاتا ہے یا وسعت میں کھو جاتا ہے۔ یعنی نہ تو وہ لہجے کی حفاظت کر پاتا ہے نہ ڈکشن کا تحفظ۔ خمار صاحب نے اپنے افکار کا ایک دائرہ متعین کر رکھا تھا۔ انھوں نے اپنی سوچ کی ایک لچھمن ریکھا بنا رکھی تھی‘‘۔  
انور جلال پوری کا یہ انداز تحریر ان کے ہر مضمون میں موجود ہے۔ خواہ وہ ملک زادہ منظور احمد کے حوالے سے باتیں ہوں یا مشاعروں کی قومی یکجہتی کی ضمانت سے متعلق گفتگو ہو۔ ملک زادہ منظور احمد کے بارے میں ان کی اس رائے سے شاید ہی کوئی غیر متفق ہو کہ ’’مشاعروں سے ڈاکٹر صاحب کا تعلق وہی ہے جو تاج محل سے شاہ جہاں کا۔ جس طرح یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ تاج محل زیادہ خوبصورت ہے یا شاہ جہاں کے ذہن کی تخئیل۔ اسی طرح یہ بھی فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ آزادی کے بعد ہمارے ملک میں مشاعرے زیادہ مقبول ہوئے یا ملک زادہ منظور احمد کا انداز تعارف۔ مشاعرے کو ادب اور تہذیب کا جز بنانے میں ڈاکٹر صاحب کا جو کردار ہے اسے جدید ہندوستان میں ادب اور کلچر کا مورخ ہمیشہ جلی حروف سے لکھے گا‘‘۔ 
     سیدھی اور سچی بات یہ ہے کہ انور جلال پوری نے جو کچھ بھی لکھا ہے اس کے بارے میں نہ تو مرعوبیت کا طعنہ دیا جا سکتا ہے او رنہ ہی تنقید و تنقیص کا الزام لگایا جا سکتا ہے۔ انھوں نے نہ تو کسی کے ساتھ زیادتی کی ہے اور نہ ہی کسی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ چشمے کے اندر سے جھانکتی ہوئی سرمگیں آنکھوں نے جو کچھ دیکھا ہے، جو کچھ پرکھا ہے اور انھوں نے جو کچھ برتا ہے وہ حشو وزوائد سے پاک اور بلا کم و کاست اس کتاب میں موجود ہے۔ انتہائی معروضی مگر دلچسپ انداز میں شخصیات کا خاکہ انھوں نے کھینچا ہے۔ بعض مقامات پر والہانہ پن آگیا ہے لیکن اس کے باوجود انصاف کا ترازو کسی ایک پلڑے کی جانب جھکنے نہیں پایا ہے۔
انھوں نے ابھی کچھ دنوں قبل اپنی منظوم کتابیں اور نعتیہ مجموعے انتہائی محبت کے ساتھ میرے پاس بھیجے تھے اور یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ میں ان کی منظوم ترجمہ نگاری پر کچھ خامہ فرسائی کروں۔ مجھے افسوس ہے کہ میں ان کی زندگی میں ان کی یہ خواہش پوری نہیں کر سکا۔ میں انھیں کے ایک شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں:
میں جا رہا ہوں مرا انتظار مت کرنا
مرے لیے کبھی دل سوگوار مت کرنا
 sanjumdelhi@gmail.com
9818195929-9582078862  

 

Ads