Jadid Khabar

صاحب ِاختیار ہو‘ آگ لگادیا کرو

Thumb

سنجے لیلا بھنسالی کی فلم’پدماوت‘کی ریلیز کے خلاف کرنی سینا نے پورے ملک میں آگ لگادی ہے۔ اس سے قبل ملک میں کسی فلم کی ریلیز کے معاملے پر نہ تو اتنا بڑا تنازع کھڑا کیاگیا اور نہ ہی ملک کی سب سے بڑی عدالت کے حکم کی دھجیاں اڑائی گئیں۔’پدماوت‘کو ریلیز کرنے کی اجازت دیتے وقت سپریم کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو امن وامان برقرار رکھنے کی ہدایت دی تھی لیکن جیسے ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کی خبر عام ہوئی تو کرنی سینا نے غنڈہ گردی کا بازار گرم کردیا۔ راجپوتوں کے نام نہاد وقار کی جنگ لڑنے والی کرنی سینا نے ملک کی کئی ریاستوں میں جو لاقانونیت پھیلائی ہے، اس سے یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ تمام تر قانونی اور انتظامی اختیارات رکھنے کے باوجود ہماری حکومتیں بعض معاملات میں قطعی ناکارہ اور لاچار ثابت ہوتی ہیں۔ اس سے قبل بعض ڈھونگی باباؤ ں کو قانون کی گرفت میں لانے کے سوال پر بھی سرکاری مشینری اسی طرح اپنی لاچاری اور ناکارہ پن کا مظاہرہ کرچکی ہے۔ چند برس قبل راجدھانی دہلی سے متصل ریاست ہریانہ میں جاٹوں نے ریزرویشن کے سوال پر جو افراتفری مچائی تھی اور جس طرح پوری ریاست کو آگ کے حوالے کردیا تھا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ افسوس کہ بدترین لاقانونیت پھیلانے والوں کو آج تک قانون کے دائرے میں نہیں لایاگیا ہے۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ جب سماج کے کمزور طبقے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف یا پھر اپنے دستوری حقوق کے لئے احتجاج کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اسے کچلنے کے لئے سرکاری مشینری طاقت کے بے جا استعمال سے بھی گریز نہیں کرتی لیکن جب اکثریتی فرقے کے مٹھی بھر لوگ اپنے جھوٹے وقار کے لئے ناجائز اور غیر قانونی مطالبات کو لے کر سڑکوں پر نکلتے ہیں تو سرکاری مشینری ان کے سامنے پانی بھرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ مٹھی بھر عناصر قانونی مشینری کو یرغمال بناکر اسے پوری طرح ناکارہ بنانے کا ہنر جانتے ہیں کیونکہ ایسے موقعوں پر سرکار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہتی ہے اور وہ اکثریتی فرقے کے قانون شکنوں کو ہاتھ لگانے سے بھی ڈرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ  ’پدماوت‘ کی ریلیز کے معاملے میں لاقانونیت پھیلانے والوں اور سپریم کورٹ کے حکم کی دھجیاں اڑانے والوں کو وارننگ دینے کی بجائے بی جے پی کی صوبائی حکومتیں اس معاملے میں قانونی ماہرین سے صلاح ومشورے کا ڈھونگ رچاتی رہیں۔ 

کرنی سینا کے بہادروں نے ’پدماوت‘ کی ریلیز روکنے کے لئے ملک کے کئی صوبوں میں ایسی لاقانونیت اور غنڈہ گردی پھیلائی کہ سب کچھ دھرا کا دھرا رہ گیا۔ کرنی سینا کے غنڈوں نے سنیما ہالوں ، شاپنگ مالوں ، نقل وحمل کے ذرائع اور بازاروں میں ہی افراتفری نہیں پھیلا ئی بلکہ اسکول جانے والی بسوں کو بھی اپنی نفرت اور درندگی کا نشانہ بنایا۔ سب سے شرمناک واقعہ اسی ہریانہ میں واقع ہوا جو لاقانونیت کے معاملے میں سب سے زیادہ بدنام ہے۔ ہریانہ کے گڑگاؤں میں غنڈوں نے کمسن بچوں کو اسکول لے جارہی بس کو نشانہ بنایا۔ اس بس میں چالیس پچاس لوگوں نے توڑپھوڑکی۔ ان کے سرپر ایسا جنون سوار تھا کہ بس میں سوار بچوں اور ٹیچروں نے سیٹوں کے نیچے چھپ کر جان بچائی۔ اس موقع پر 22کمسن بچوں اور تین ٹیچروں کو چوٹیں آئیں۔ ڈرائیور نے بس کو جائے واردات سے بھگاکر معصوم بچوں کی جان بچائی ورنہ کرنی سینا کے غنڈے بس کو آگ کے حوالے کرنے جارہے تھے۔ بھوپال اور متھرا میںبھی کرنی سینا اور ہندو جاگرن منچ کے کارکنوں نے غنڈہ گردی کی ساری حدیں پار کردیں۔ 
بی جے پی کے اقتدار والے چار صوبوں گجرات ، راجستھان ، ہریانہ اور مدھیہ پردیش کی سرکاروں نے اس فلم کو اپنے یہاں ریلیز نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیاگیا۔سپریم کورٹ نے ان صوبائی حکومتوں کے فلم پر پابندی لگانے کے نوٹیفکیشن پر حکم امتناعی جاری کردیا تھا۔ عدالت نے کہاکہ جب سنسر بورڈ نے بھی اس فلم کو پاس کردیا ہے تو اب صوبائی حکومتیں اس فلم کی نمائش کو کیسے روک سکتی ہیں۔ اس سے قبل بھی دومرتبہ سپریم کورٹ نے فلم کی نمائش پر پابندی لگانے کی کوشش ناکام کردی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ جب تک سنسر بورڈ کوئی فیصلہ نہیںکرلیتا تب تک کوئی رائے قائم نہیںکی جاسکتی۔ لیکن اس فلم کو سنسر بورڈ کی طرف سے ہری جھنڈی ملنے کے باوجود کرنی سینا کے کارکنوں نے غنڈہ گردی کا بازار گرم کئے رکھا۔’پدماوت‘ کو نمائش کے لئے پیش کئے جانے کی اجازت دیتے ہوئے چیف جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والی بینچ نے اپنے عبوری حکم میں کہاکہ نظم ونسق قائم رکھنا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر کہاکہ’’ فلم کی نمائش جس طریقے سے روکی گئی ہے، اس نے میری دستوری فہم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔‘‘ سپریم کورٹ کے اسی حکم کے بعد کرنی سینا نے چاروں طرف تشدد شروع کردیا تھا اور مظفرپور کے ایک سنیماہال میں توڑپھوڑ بھی کی تھی۔ وہیں احمدآباد میں چکا جام کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد فلم کی نمائش کا دن قریب آتے آتے ملک کے کئی صوبوں میں تشدد کی آگ پھیل گئی۔ شرمناک بات یہ ہے کہ اس تشدد کے سامنے سرکاری مشینری پوری طرح بے بس نظر آئی اور کہیں بھی کرنی سینا کی غنڈہ گردی کو روکنے کے لئے سرکاری مشینری کو حرکت میں نہیں دیکھا گیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں قانون کا نظام قائم رکھنے کے لئے بنائی گئی مشینری میں کوئی ایسی خرابی ضرور ہے، جو اسے دیمک کی طرح چاٹ جارہی ہے۔ اگر سرکاری مشینری میں یہ خرابی موجود رہی تو پھر لاقانونیت پھیلانے والے سب کچھ جلا کر راکھ کرسکتے ہیں۔ ظاہر ہے قانونی مشینری کے سامنے قانون شکن سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے اور نظم ونسق قائم کرنے والے اداروں کو اسی کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت ان کے ہاتھوں میں بندوقیں اور کلاشنکوف تھمائے جاتے ہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں سیاست دانوںنے قانونی مشینری کو اپنے حقیر سیاسی مفادات کے لئے اتنا بھینگا اور لاچار بنادیا ہے کہ وہ سیاسی آقاؤں کی چشم ابرو کی منتظر رہتی ہے۔ لیکن جب اسی مشینری کو سماج کے کمزور طبقوں اور خاص طورپر اقلیتوں کو سبق سکھانے کا حکم ملتا ہے تو یہ اپنی حدوں کو پار کرنے سے بھی گریز نہیںکرتی۔ فسطائی طاقتوں کے گمراہ کن پروپیگنڈے نے قانونی مشینری کی نگاہ میں اقلیتوں کی شبیہ ملک دشمن کی بنادی ہے ، لہٰذا یہ مشینری ان کے خلاف طاقت کا بے دریغ اور ناجائز استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ لیکن اسی مشینری کو خود اکثریتی فرقے کے قانون شکنوں سے روبرو ہونا پڑتا ہے تو اس کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ اس کا مشاہدہ فلم ’پدماوت‘ کی ریلیز کے سوال پر کرنی سینا کے غنڈوں کا مقابلہ کرتے ہوئے بخوبی ہورہا ہے۔ 
اگر غور سے دیکھا جائے تو محسوس ہوگا کہ فلم ’پدماوت‘ کا تنازع درحقیقت ملک کو درپیش سنگین مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے پیدا کیاگیا ہے۔ بی جے پی کی مرکزی اور صوبائی حکومتیں نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے ناعاقبت اندیشانہ فیصلوں کی کوکھ سے جنم لینے والے سنگین اقتصادی مسائل سے نپٹنے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہیں اور وہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لئے  جذباتی موضوعات کو ہوا دے رہی ہیں۔ فلم  ’پدماوت‘ مرکز اور صوبائی حکومتوں کے ہاتھوں میں ایک ایسا کارگر ہتھیار ہے جو بنیادی مسائل اور حکومت کی ناکامیوںسے عوام کی توجہ ہٹانے میں کارگر ثابت ہوا۔ صاحبان اقتدار کا یہ پرانا مشغلہ ہے کہ جب بھی عوام ان سے حکمرانی کا حساب مانگتے ہیں تو وہ لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے پیرزادہ قاسم کے اس شعر کی نظیربن جاتے ہیں  ؎ 
شہر طلب کرے اگر تم سے علاجِ تیرگی 
صاحب ِاختیار ہو آگ لگادیا کرو  

Ads