Jadid Khabar

اسکالر شپ کے فارم کیسے بھریں

  • 22 Jan 2018
  • ڈاکٹر ظفرالاسلام خان (چیئرمین دہلی اقلیتی کمیشن)
  • مضامین
Thumb

مرکزی حکومت کی اقلیتوں کے لئے اسکالر شپس کی تاریخ گذر چکی ہے لیکن دہلی حکومت کی اسکالر شپس کے لئے درخواست دینے کی آخری تاریخ ۳۱ جنوری ۲۰۱۸ ہے جس میں اب کچھ ہی دن باقی ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق اس سال کافی کم تعداد میں لوگ درخواستیں دے رہے ہیں۔

دہلی حکومت کی اسکالر شپس ایس سی ؍ ایس ٹی؍ اوبی سی؍ مائناریٹیز ڈپارٹمنٹ کے ذریعے ملتی ہیں اور اب سب درخواستوں کو آن لائن ہی بھراجاسکتا ہے یعنی مذکورہ ڈپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر جاکر بھرنا ہے اور اس کے ساتھ تمام مطلوبہ دستاویزیں لگانی ہیں جن میں ہر دستاویز کا سائز ۱۰۰ کے بی سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے اور یہ سب دستاویزات پی ڈی ایف یا جے پی جی فارمیٹ میں ہونا چاہئے ورنہ قبول نہیں کی جائیں گی۔ مذکورہ ۱۰۰ کے بی سائز کو حاصل کرنے کے لئے اپنی دستاویز کو ۱۰۰ ڈی پی آئی کے آپشن کے تحت سکین کریں۔
مذکورہ ویب سائٹ عمومی نوعیت کی ہے جس میں حکومت کی طرف سے دی جانے والی مختلف سہولتوں کے لئے درخواست دی جاتی ہے اور ان میں درخواست دہندہ کی عمر کم از کم  ۱۸ سال ہونی چاہئے جبکہ اسکولی طلبہ کی عمر عموما ًاس سے کم ہوتی ہے۔اس مشکل کو حل کرنے کا طریقہ ہے کہ والد یا گارجین اپنے نام سے ویب سائٹ پر درخواست کا رجسٹریشن کریں اور اپنے بچوں کے فارم اسی درخواست پر بھریں۔ ایک درخواست میں بچوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ  پانچ  ہوسکتی ہے۔
ویب سائٹ پر فائل کھولنے پر وہ پوچھتی ہے:  درخواست دہندہ نیا استعمال کرنے والا (New user) ہے یا پرانا استعمال کرنے والاہے؟ ۔اگر آپ نے پہلے کسی بھی سال یہ فارم بھرا ہے یا اسی ویب سائٹ پر کوئی دوسری چیز جیسے ایس سی؍ایس ٹی سرٹیفکٹ حاصل کیا ہے تو آپ  ـ"پرانے استعمال کرنے والے  "ہیں اور آپ اپنے پرانے پاس ورڈ ہی سے درخواست بھر سکتے ہیں۔ اگر آپ پہلی بار درخواست دے رہے ہیں تو آپ کو ایک نیا پاس ورڈ ملے گا جسے لکھ کر محفوظ کرلیں جس کی آپ کو مستقبل میں بار بار ضرورت پڑے گی۔ یہ پاس ورڈ آپ کو فارم بھرنے کے بعد وہیں ویب سائٹ سے درخواست پر کرتے ہی ملے گا اور پھر آپ کے اس موبائل فون پر بھی بذریعہ ایس ایم ایس آئے گا جسے آپ نے فارم پر درج کیا ہوگا۔
 اب آدھار کارڈ کے بغیر حکومت سے کوئی سہولت نہیں حاصل کی جاسکتی ہے، اس لئے آپ کے بچے کا بھی آدھار کارڈ ہونا ضروری ہے۔بچے کا نام ، لقب، جنس (gender) اور تاریخ پیدائش بالکل اسی طرح ہونی چاہئے جیسے کہ آدھار کارڈ پر لکھا ہے ورنہ درخواست آگے نہیں بڑھے گی کیونکہ جیسے ہی یہ تفصیلات آپ فارم پر لکھتے ہیں،  اسکالرشپ کی ویب سائٹ آدھار کی ویب سائٹ پر جا کر ان تفصیلات کو اسی وقت چک کرتی ہے اور اس کے صحیح ہونے پر ہی آگے بڑھتی ہے۔اگر آدھار کی غلطی کی وجہ سے کوئی درخواست ویب سائٹ پر نہیں بھری جاسکی ہے تو آپ درخواست دوبارہ صحیح آدھار نمبر سے بھرسکتے ہیں۔
تمام تفصیلات لکھنے اور مطلوبہ کاغذات کی تصویر پی ڈی ایف یا جے پی جی میں اپ لوڈ کرنے کے بعد آپ کو ایک کوڈ (Access code) یا پاس ورڈ ملے گا جو آپ کے درخواست پر درج کردہ موبائل نمبر پر بھی ایس ایم ایس پیغام کی صورت میں آئے گا۔ اس پاس ورڈ کو ٹھیک سے لکھ کر یا پرنٹ کرکے محفوظ رکھ لیں کیونکہ آپ کو بعد میں اس کی بار بار ضرورت پڑے گی اور اگلے سالوں میں بھی آپ کو اس کی ضرورت پیش آئے گی۔
یہ بات نوٹ کرلیں کہ ہر بچے کے لئے الگ سے ویب سائٹ پر جاکر فارم بھرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آپ ایک ہی وقت میںاپنے کئی بچوں کے فارم بھر سکتے ہیں لیکن ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ بچوں کی تعداد پانچ ہے۔
فارم پر مطلوبہ کاغذات اپ لوڈ کرنے کے باوجود (آپ کو اس کے سامنے آدھار کے علاوہ) مختلف مطلوبہ دستاویزات کے سامنے X  لکھا ہو انظر آئے گا یعنی یہ کہ یہ کاغذات ابھی نہیں ملے ہیں۔ اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ویب سائٹ ابھی تک ان دستاویزوں کی جانچ نہیں کرسکی ہے۔ یہ عمل آپ کے ویب سائٹ بند کرنے کے بعد بھی جاری رہے گا۔
فارم بھرنے کے بعد اور ویب سائٹ بند کرنے سے پہلے آپ بھری ہوئی تمام معلومات کو ٹھیک سے چک کرکے بند کرنے کے پہلے کوئی بھی تصحیح کرسکتے ہیں۔البتہ فارم پر کرکے ویب سائٹ بند کرنے کے بعد آپ کوئی تبدیلی نہیں کرسکتے ہیں۔اگر فارم بھرتے بھرتے انٹرنٹ کنکشن چلا جائے یا ویب سائٹ پر کوئی مشکل آجائے تو اسے بند کرکے آپ اپنے پاس ورڈ کے ذریعے اسے دوبارہ کھول سکتے ہیں اور وہاں آپ کو وہ تمام معلومات جو آپ نے محفوظ (Save)کر دی تھیں ملیں گی، اورآپ کو صرف وہی معلومات بھرنی ہوں گی جو آپ پہلے نہیں بھر سکے تھے۔ اسی طرح اگر آپ پچھلے سالوں میں یہ معلومات اس ویب سائٹ پر بھر چکے ہیں تو پاس ورڈ استعمال کرتے ہوئے اُسی درخواست کودوبارہ کھولیں اور صرف وہی معلومات بھریں جو نئی ہیں۔
جب آپ ساری معلومات اپنی دانست میں صحیح طور سے بھر چکے ہوں تو درخواست پیش کرنے (Submit) کے بٹن کو کلک کریں۔ اب آپ کا فارم بھر چکا ہے اور اسکرین پر ایک سلپ سامنے آئے گی جس میں ساری مطلوبہ معلومات ہوں گی۔ اس کو اپنے کمپیوٹر میں محفوظ (save)کرلیں اور پرنٹ بھی کرکے کسی فائل میں محفوظ کرلیں تاکہ بعد میں بوقت ضرورت استعمال کرسکیں۔اس مرحلے کے بعد آپ اپنی درخواست میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتے ہیں۔
فارم پر اپنا بالکل صحیح موبائل نمبر ڈالیں کیونکہ اس پر ایس ایم ایس سے آپ کو پیغامات آئیں گے کہ کیا چیز کم ہے یا یہ کہ آپ کی درخواست مکمل ہے یا یہ کہ پیسے آپ کے بچے کے اکاؤنٹ میں چلے گئے ہیں۔ درخواست بھرتے ہوئے اسکول یا کالج کی تفصیلات بھی غور سے پڑھ لیں کہ آیا وہ وہی اسکول یا کالج  ہے جہاں آپ کا بچہ پڑھتا ہے۔ اگر کوئی بھی فرق ہو یا آپ کے اسکول یا کالج کا نام ویب سائٹ پر نہ ہو تو ایس سی؍ایس ٹی ڈپارٹمنٹ کو فوراً مطلع کریں تاکہ وہ مطلوبہ ویب سائٹ پر تصحیح کرسکے۔
اگلے مرحلے میں ڈپارٹمنٹ کی طرف آپ کی درخواست اسکول یا کالج کے پاس جائے گی۔ اسکول یا کالج کا کام ہے کہ معلومات چک کرکے اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو ایس سی ؍ایس ٹی ڈپارٹمنٹ کو مطلع کردے۔ یہ سب کام اسی ویب سائٹ پر ہوگا۔ ہر اسکول ؍ کالج کو اس کام کے لئے پاس ورڈ ملتا ہے ۔یہ اس کا فرض ہے کہ وقتاً فوقتاً ویب سائٹ کو کھول کر دیکھے کہ کوئی نئی درخواست تو نہیں آئی ہے یا کوئی پنڈنگ تو نہیں ہے۔ اسکول؍کالج کو اس کام کے لئے کسی ذمہ دار یا ٹیچر کو متعین کرنا چاہئے کہ وقتا ًفوقتاًویب سائٹ پر اپنے اسکول کا صفحہ کھول کر چک کرے اور اگر کوئی نئی یا پنڈنگ درخواست ہے تو اسے چک کرکے ایس سی؍ ایس ٹی ڈپارٹمنٹ کو مطلع کردے۔ اس مرحلے پر بھی اگر اسکول کو بچے کی درخواست میں کوئی غلطی یا کمی نظر آتی ہے تو وہ اسے اپنے پاس سے ہی اپنے ریکارڈ کے مطابق ویب سائٹ پر بدل سکتا ہے۔ ویب سائٹ پر یہ سہولت بھی ہے کہ اگر کوئی درخواست غلطی سے کسی اسکول کو بھیجدی گئی ہے تو اسے صحیح اسکول کو وہیں سے بھیج سکتا ہے۔
بینک کی تفصیلات بھرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھیں کہ نئے انٹرنٹ بینکنگ کے اکاؤنٹ نمبر حاصل کرلیں اور اپنی برانچ کا صحیح آئی ایف ایس سی نمبر بھریں جو کسی بھی الیکٹرانک ٹرانسفر کے لئے ضروری ہے۔ چونکہ متعدد بینک دوسرے بینکوں میں مدغم ہوگئے ہیں، اس لئے ہمیشہ اپنی برانچ سے صحیح آئی ایف ایس سی کوڈ حاصل کرکے رکھیں۔ اسی طرح آپ کا اکاؤنٹ ایکٹیو (چالو) ہونا چاہئے یعنی ڈورمینٹ (خوابیدہ) نہ ہو کیونکہ اگر اکاؤنٹ چالو نہیں ہے تو پیسے واپس بھیج دئے جائیں گے۔ اکاؤنٹ ہولڈر کا بینک میں درج نام بالکل اسی طرح ہو جو آپ نے فارم پر بھرا ہے۔
 ’’فیس‘‘  کے تحت جو اصل ٹیوشن فیس ہے اسی کو حکومت آپ کو واپس کرے گی یعنی اسکول کی سالانہ فیس یا ڈویلپمنٹ فیس واپس نہیں کرے گی، اس لئے آپ فارم پر صرف ٹیوشن فیس ہی بھریں اور اسی کی رسید لگائیں۔ اسی کے ساتھ فیس بھرتے ہوئے پورے سال کی فیس بھریں( نہ کہ ایک ماہ یا تین ماہ کی) کیونکہ صرف ایک ماہ یا تین ماہ کی فیس لکھنے پر آپ کے اکاؤنٹ میں صرف وہی رقم آئے گی اور آپ بعد میں پریشان ہوں گے۔ البتہ اسکول اگر چاہے تو ایسی کوئی غلطی اپنی سطح پر سدھار سکتا ہے لیکن یہ اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس کے برعکس ڈپارٹمنٹ آف ایس سی ؍ایس ٹی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ ایک  یا تین ماہ کی فیس کو بڑھا کر ایک سال کی کردے۔ فارم پر جو فیس درج کی گئی ہے، اور جس کی اسکول نے تصدیق کی ہے، ڈپارٹمنٹ اسی کو واپس کرنے کا مجاز ہے ۔
ڈیڑھ لاکھ روپئے تک سالانہ آمدنی والے والدین کو مکمل فیس واپس ملتی ہے جبکہ اس سے زیادہ آمدنی والے والدین کو فیس کا ۵۰ فیصد ہی ملتا ہے۔ سالانہ آمدنی کی حدادنی کو بڑھانے کی تجویز سرکار کے سامنے ہے لیکن فی الحال فیصلہ نہیں ہوا ہے اور اگر ہوا بھی تو اس کا انطباق اگلے سال سے ہوگا۔
آمدنی کے سرٹیفکٹ ایس ڈی ایم جاری کرتا ہے اور وہ چھ ماہ کے لئے کام آتے ہیں۔ ویب سائٹ پر درخواست دینے کے دن یہ سرٹیفکٹ درست Validہونا چاہئے، چاہے اگلے دن ہی اس کی مدت ختم ہورہی ہو۔
اقلیتی زمرے میں اسکالر شپ کی درخواست دیتے وقت والد ؍گارجین کی طرف سے مندرجہ ذیل اقرارنامہ دیا جانا ضروری ہے جو والد یا سرپرست خود بھرتا ہے:
DECLARATION BY THE PARENT (IN CASE OF MINOR)
I,...............................................Father/Mother (in case of single parent)/of ........................................................., resident of ........................(full address)................
.............................................................................................................................................
.................................................................................................................................
hereby declare that I belong to the.............................................(Muslim/Sikhs/Christians/ Buddhist/ Jains and Zoroastrains (Parsis), which is a notified Minority Community as per section 2(c) of National  Commission for the Minorities Act 1992).

Date:
Place:
                                Signature of Parent        Remark: Cross whichever is not applicable    

اس فارم پر والد ؍گارجین کی اپنی دستخط کافی ہے، کہیں اور سے تصدیق کی ضرورت نہیں ہے۔
درخواست کے ساتھ بچے کا فوٹو بھی اپلوڈ کرنا ہوتا ہے ۔ بعض والدین غلطی سے اپنا فوٹو یا اپنا آدھار نمبر ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے درخواست رد ہوجاتی ہے۔
اسکول سے ویریفیکشن کے بعد بھی کسی نقص کے پائے جانے پر ڈپارٹمنٹ اس درخواست کو ویب سائٹ کے ذریعے دوبارہ اسکول ؍کالج بھیجتا ہے۔ اس لئے اسکول ؍کالج کے ذمہ داران کو وقتاً فوقتاً ویب سائٹ پر اپنا صفحہ کھول کر دیکھنا چاہئے۔
دلی حکومت کا پلان ہے کہ کم ازکم ہر ایس ڈی ایم کے آفس میں ایک کھوکھا (Kiosk)کھول دیا جائے جہاں اسکالر شپس کے بارے میں معلومات ملیں اور وہیں سے فارم بھرے بھی جاسکیں۔ اسکولوں ،لائربریریوں ، مساجد، گوردواروں ، مندروں، ریزیڈنٹ ویلفیر سوسائٹیوں وغیرہ کو چاہئے کہ اپنے یہاں پورے دن یا کم ازکم شام کو کسی کمپیوٹر سے آشنا شخص کو بٹھائیں اور علاقے میں اعلان کردیں کہ فلاں جگہ فارم بھرے جاسکتے ہیں۔ یہ کام ۳۱ جنوری تک  کرلیں۔ اس کا انتظار نہ کریں کہ تاریخ بڑھائی جائے گی کیونکہ تاریخ کا بڑھایا جانا ضروری نہیں ہے ۔اس سلسلے میں کسی معلومات کے لئے (1031) فون نمبر سے رابطہ قائم کریں یا  scstscholarship.delhi@gov.in کو ایمیل کریں۔ ایس سی ؍ ایس ٹی ڈپارٹمنٹ (وکاس بھون، سی بلاک، آئی ٹی او، دہلی ) میں دوپہر ایک بجے تک بھی آکر معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اسکالر شپس کی مختلف اسکیموں کی تفصیلات کی ویب سائٹ کا پتہ یہ ہے:
http://www.delhi.gov.in/wps/wcm/connect/doit_welfare/Welfare/Home/Services-+Schemes
اور درخواست دینے کی ویب سائٹ یہ ہے: 
http://www.delhi.gov.in/wps/wcm/connect/DoIT_Welfare/welfare/home/
اس مرحلے پر دہلی اقلیتی کمیشن سے رابطہ نہ کریں کیونکہ اس مرحلے کا کام صرف مذکورہ ڈپارٹمنٹ (ایس سی؍ ایس ٹی) کرتا ہے۔ البتہ اگر آپ کی جائز درخواست کو کسی وجہ سے رد کردیا گیا ہے تو پوری تفصیلات کے ساتھ درخواست لکھ کر دہلی اقلیتی کمیشن (وکاس بھون، سی بلاک، آئی ٹی او، دہلی)کو بذریعہ ڈاک ، ایمیل یا دستی طور پر بھیجیں تاکہ آپ کی شکایت پر کارروائی کی جاسکے۔

Ads