Jadid Khabar

حج سبسیڈی کی حقیقت کیا ہے؟

Thumb

حج سبسیڈی ختم کرنے کا اعلان اس تمہید کے ساتھ کیاگیا ہے کہ حکومت مسلمانوں کی ’منہ بھرائی‘ نہیں کرنا چاہتی بلکہ انہیں بااختیار بنانا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حج سبسیڈی کے لئے خرچ کی جانے والی رقم اب مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر صرف کرنے کا اعلان کیاگیا ہے۔تاہم حکومت نے ابھی یہ نہیں بتایا ہے کہ وہ  مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر یہ رقم کس انداز میں خرچ کرے گی اور اس کا جواز کہاں سے فراہم کیاجائے گا۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ عازمین حج کے ہوائی سفر پر دی جانے والی سبسیڈی مسلمانوں کی منہ بھرائی کا اقدام تھا یا پھر یہ سبسیڈی سرکاری فضائی کمپنی ایئر انڈیا کا خسارہ پورا کرنے کے لئے شروع کی گئی تھی۔ ہم کئی بار یہ لکھ چکے ہیں کہ حج سبسیڈی ایک فریب ہے اور اس کا استعمال مسلمانوں کو زیربار کرنے کے لئے کیاجاتا ہے۔ خود اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختارعباس نقوی نے حج سبسیڈی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا ہے کہ سبسیڈی سے مسلمانوں کو نہیں بلکہ ایئرانڈیا اور دلالوں کو فائدہ ہوتا تھا۔ مختار عباس نقوی اسی بی جے پی سے تعلق رکھتے ہیں جو عرصہ دراز سے حج سبسیڈی کے خلاف مہم چلاتی رہی ہے اور وہ اس معاملے میں ہر قدم پر مسلمانوں کو مطعون کرتی رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب حج سبسیڈی کا فائدہ مسلمانوں کے بجائے ایئر انڈیا اور دلالوں کو پہنچتا تھا تو پھر اس کا احسان مسلمانوں پر لاد کر انہیں کیوں بدنام کیاجاتا تھا؟ آپ کو یادہوگا کہ جب بھارتیہ جنتاپارٹی اپوزیشن میں تھی تو وہ بارباریہ سوال کرتی تھی کہ حکومت مسلمانوں کو سفر حج کے لئے سبسیڈی فراہم کرکے ان کی منہ بھرائی کیوں کرتی ہے۔ جبکہ ملک کا آئین سب کے ساتھ یکساں سلوک کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ ایسا کہتے وقت بی جے پی کے لیڈران اس حقیقت کو قطعی فراموش کردیتے تھے کہ حکومت ہندوؤں کی مذہبی تقریبات پر جو کروڑوں روپے سرکاری خزانے سے خرچ کرتی ہے اس کا کیاجواز ہے۔ 

حج سبسیڈی کا معاملہ سن 2012میں مفادعامہ کی ایک عرضی کے تحت ملک کی سب سے بڑی عدالت میں زیر سماعت آیا تھا۔ حالانکہ ابتدا میں عدالت نے حج سبسیڈی کی اہمیت اور افادیت کو تسلیم کیا تھا لیکن بعد میں دیئے گئے ایک فیصلے کے تحت عدالت عظمیٰ نے حکومت کو یہ ہدایت دی کہ وہ آئندہ 10برس میں حج سبسیڈی کو مرحلے وار ختم کرنے کا اقدام کرے۔ دس سال کی یہ مدت 2022 میں پوری ہونی تھی لیکن حکومت نے چارسال قبل ہی حج سبسیڈی کو ختم کرنے کا اعلان کرکے فرقہ پرست عناصر کی واہ واہی لوٹی ہے۔ اس حقیقت سے قطع نظر کہ حج سبسیڈی کے اچانک خاتمے کا ان ایک لاکھ 75ہزار عازمین حج پر کیا اثر پڑے گاجو حج کمیٹی کے توسط سے سفرحج کے لئے روانہ ہوں گے، یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ مسلمانوں نے ملک گیر سطح پر حج سبسیڈی ختم کئے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حج سبسیڈی کا طوق مسلمانوں کے گلے سے اترگیا ہے اور اب وہ کسی سرکاری مراعات کے بغیر حج کا فریضہ انجام دیں گے۔ یوں بھی حج ان ہی لوگوں پر فرض ہے جو اس کی سکت رکھتے ہوں اور اس کے مصارف برداشت کرنے کے اہل ہوں۔ 2012میں حج سبسیڈی کو مرحلے وار ختم کرنے کا حکم صادر کرتے ہوئے خصوصی بینج کے جج جسٹس آفتاب عالم نے بھی حج کی فرضیت کے بارے میں قرآن وحدیث کے حوالوں سے یہ ثابت کیا تھا۔ ظاہر ہے نہ تو مسلمانوں نے کبھی حکومت سے یہ التجا کی کہ انہیں سفرحج کے لئے سبسیڈی فراہم کی جائے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی وفد میمورنڈم لے کر دربار میں حاضر ہوا۔ یہ حکومت کا اپنا فیصلہ تھا جو اس نے سیاسی وجوہات کی بنا پر لیا تھا۔ چونکہ اس قسم کی رعایت صرف مسلمانوں کو نہیں دی گئی تھی بلکہ دیگر مذاہب کی تیرتھ یاتراؤں اور مذہبی تقریبات پر اس سے کہیں زیادہ رقومات خرچ کی جاتی رہی ہیں۔ لیکن فرقہ پرست طاقتوں نے ان مراعات کا کوئی ذکر نہیںکیا بلکہ ہمیشہ حج سبسیڈی کو ہی اپنی پراگندہ ذہنیت کا نشانہ بنایا۔ حج سبسیڈی کا شور تو بہت مچتا تھالیکن کوئی بھی یہ سوال نہیں پوچھتا تھا کہ یہ سبسیڈی عازمین حج کو فراہم کرنے کی بجائے براہ راست ایئر انڈیا کے کھاتے میں کیوں چلی جاتی ہے اور عازمین حج کا ٹکٹ اتنا مہنگا کیوں ہوجاتا ہے۔
 اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کے مطابق گزشتہ سال حکومت نے  200کروڑ روپے کی سبسیڈی فراہم کی تھی جس کا احسان مسلمانوں پر ان کی منہ بھرائی کی صورت میں لادا جاتا ہے۔ لیکن حکومت عوام کو یہ نہیں بتاتی کہ اس نے 2014 میں الٰہ آباد کے کنبھ میلے کے انتظامات پر 1150کروڑ روپے سرکاری خزانے سے خرچ کئے تھے۔ ملک میں چار اہم کنبھ میلے منعقد ہوتے ہیں جن میں الٰہ آباد ، ہری دوار، ناسک اور اجین کے کنبھ میلے شامل ہیں۔ ان کا پورا انتظام وانصرام سرکاری خزانے سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کیلاش مانسروور کی یاترا پر فی کس ڈیڑھ لاکھ روپیہ خرچ کرتی ہے۔ اتنا ہی نہیں امرناتھ گپھا کی سالانہ یاترا پر سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔ حکومت نے اس یاترا کو فروغ دینے کے لئے باقاعدہ امرناتھ شرائن بورڈ بنایا ہے جس کا سارا خرچہ حکومت برداشت کرتی ہے۔ امرناتھ یاترا کا راستہ ہموار کرنے کے لئے ہر سال 10کروڑ روپیہ خرچ کیاجاتا ہے۔ وہیں کرناٹک سرکار چرچوں کی دیکھ بھال پر 16کروڑ روپے سالانہ خرچ کرتی ہے۔ مدھیہ پردیش کی بی جے پی سرکار وزیراعلیٰ تیرتھ یاترا کے تحت ہرسال سرکاری خرچے پر تیرتھ یاتریوں کو ایودھیا، متھرا اور کاشی کی یاترا پر بھیجتی ہے۔ اس کے علاوہ نوراترے اور چھٹ پوجا کے انتظامات بھی سرکاری خزانے سے کئے جاتے ہیں۔ لیکن کوئی بھی شخص اس معاملے میں حکومت پر یہ الزام عائد نہیں کرتا کہ وہ ہندوؤں کی منہ بھرائی کرتی ہے۔ جبکہ عازمین حج کو دی جانے والی نام نہاد سبسیڈی کا ذکر اتنا بڑھا چڑھا کر کیاجاتا ہے کہ گویا مسلمانوں نے سرکاری خزانہ خالی کردیا ہو۔ ہندوستان ایک سیکولر جمہوری ملک ہے جس کا نظام کسی بھی طرح مذہب سے جڑا ہوا نہیں ہے۔ نہ تو اسٹیٹ کا کوئی مذہب ہے اور نہ ہی حکمرانوں کا۔ مذہب ایک خالص نجی معاملہ ہے جس کا سرکاری امور سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ لیکن حکومت کی تمام تقریبات خواہ وہ سنگ بنیاد رکھنے کی ہوں یا پھر افتتاحی تقریبات ہوں، ان سب میں ہندوؤں کی مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ ظاہر ہے یہ تمام چیزیں اتنی کثرت سے کی جانے لگی ہیں کہ اب ان پر کوئی اعتراض بھی نہیں کرتا۔ 
حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ حج سبسیڈی ختم کرکے اس کی رقم مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ کرے گی۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ اقلیتی امور کی مرکزی وزارت کی طرف سے مسلم لڑکیوں کی تعلیم اور انہیں ہنر مند بنانے سے متعلق جو اسکیمیں بنائی گئی ہیں وہ سرکاری فائلوں میں خاک کیوں پھانک رہی ہیں۔ ہونہار مسلم طالبات کو اسکالر شپ دینے کے لئے مولاناآزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں جو رقم مختص کی گئی ہے، وہ اکثراستعمال میں نہیں آتی۔ ایسی بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں جس سے یہ ثابت ہوگا کہ موجودہ حکومت مسلمانوں کی تعلیم اور انہیں بااختیار بنانے کے تعلق سے پیش کی گئی سچر کمیٹی کی سفارشات کو مسلسل نظرانداز کررہی ہے اور لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے فرضی اعدادوشمار پیش کئے جاتے ہیں۔ عازمین حج کی خدمت میں مصروف رضاکار تنظیمیں عرصہ دراز سے یہ مطالبہ کررہی ہیں کہ حکومت ہندوستانی عازمین حج کی آمدورفت کے لئے گلوبل ٹینڈر طلب کرے تاکہ اس کا فائدہ عازمین حج کو مل سکے۔ اب تک ایئر انڈیا اپنا نقصان پورا کرنے کے لئے جو کرایہ طے کرتی رہی ہے وہ عام حالات میں سعودی عرب کے ہوائی کرایے سے دوگنا ہوتا ہے۔ کرایے کی اس اضافی رقم کے لئے الگ الگ تاویلیں پیش کی جاتی ہیں۔ لیکن حکومت نے کبھی گلوبل ٹینڈر طلب کرنے کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا۔ حج سبسیڈی ختم کرنے کے بعد عازمین حج سے کرایے کی مد میں جو اضافی رقم طلب کی جائے گی اس کا مصرف حکومت کے علاوہ کسی معلوم نہیں ہوسکے گا۔ اس طرح حکومت کی من مانی جاری رہے گی اور عازمین حج کا سیاسی استحصال پہلے سے زیادہ بڑھ جائے گا۔ 

Ads